Depression - Article No. 2021

ڈپریشن - تحریر نمبر 2021

بدھ 2 دسمبر 2020

Depression - Article No. 2021
ڈاکٹر فوزیہ سعید
ڈپریشن آج کل ایک عام لفظ سمجھا جاتا ہے۔ہر روز مرہ کی زندگی میں آپ ہر چھوٹے بڑے سے اس کا ذکر سنتے ہیں۔اگر کسی کو سچ میں ڈپریشن ہے۔تو جان لے یہ خاموش قاتل ہے۔اصل میں یہ ایک ذہنی حالت ہے۔جس کو ہم Mood Disorder بھی کہہ سکتے ہیں۔ جب بھی ہم مایوس یا اداس ہوتے ہیں۔جس کی مندرجہ ذیل علامات ہو سکتی ہیں۔عموماً یہ علامات ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

ڈپریشن کا شکار لوگ اکثر افسردہ نظر آتے ہیں۔عام طور پہ ہم خود ہی اس اداسی کا مقابلہ کر لیتے ہیں۔دوستوں سے بات چیت کرکے یہ اداسی ٹھیک ہو جاتی ہے۔اس میں کسی علاج کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔لیکن اگر یہ افسردگی یا اداسی لمبے عرصے تک قائم رہے تو بیماری بن جاتی ہے۔اور اس کا اثر روز مرہ زندگی پہ پڑنے لگے اور معمولات زندگی اس سے متاثر ہو نے لگے۔

(جاری ہے)

تو یہ ڈپریشن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ڈپریشن میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟
اس بیماری کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے ،ڈپریشن کی بیماری کی شدت عام اداسی کے مقابلے میں جو ہم سب وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہیں، کہیں زیادہ اور گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔اس کا دورانیہ عام اداسی سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔اور مہینوں تک چلتا ہے۔ضروری نہیں کہ ہر شخص میں ایک جیسی علامات ہوں۔

لیکن اگر ان میں سے کوئی سی چار علامات موجود ہوں تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ ڈپریشن کے مریض بن چکے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 300 ملین سے زیادہ افراد اس میں مبتلا ہیں۔یہ ایک عام ذہنی بیماری ہے۔جس کا تعلق Bipolar Disorder سے ہے۔اس کو موڈ Disorder بھی کہہ سکتے ہیں۔اس کے اثرات اگر کم نہ کئے جائیں تو یہ بیماری دیرپا اور بار بار پلٹ کے آنے والی بیماری بن جاتی ہے۔

کسی بھی فرد کی عام زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔اداسی ۔احساس کمتری،کسی خوشی میں،حد سے زیادہ خوش ہونا۔یا حد سے زیادہ غمگین ہونا ہے۔اس سب صلاحیتوں پر ڈپریشن کی وجہ سے مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔کسی کام میں دلچسپی نہ لینا۔اداس رہنا۔چڑچڑاپن پیدا ہونا۔
شدید اور کم شدید علامات ہو سکتی ہیں۔جن میں افسردہ رہنا۔اشتعال انگیزی۔وزن میں کمی۔یا زیادتی۔

نیند میں کمی یا زیادتی،طاقت میں کمی یا زیادتی،تھکاوٹ میں کمی یا زیادتی۔کسی خاص حرکت کا ضرورت سے زیادہ ہونا۔مثلاً ٹانگ ہلانا،ہاتھ چلانا،آنکھ جھپکنا۔قوت فیصلہ میں کمی یا دشواری،یہاں تک کی خودکشی کی کوشش،موت۔ان علامات کا اثر کم از کم دو ہفتے تک اور زیادہ سے زیادہ کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔اگر کلائینٹ کی مرضی ہو تو جلدی ٹھیک ہو سکتا ہے۔

ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ۔زندگی کا کوئی حادثہ یا واقعہ بھی ہو سکتی ہے۔جیسے کسی عزیز کی موت،یا ملازمت کا چھٹ جانا۔کسی محبت کرنے والے کا کھو جانا۔ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔البتہ یہ جذبات عارضی بھی ہو سکتے ہیں۔جو کسی بھی نارمل انسان کو زندگی میں پیش آسکتے ہیں۔ان کا آنا کوئی ابنار میلٹی نہیں ہے۔البتہ ان پہ قابو پانے کی صلاحیت کا ہونا بے حد ضروری ہے۔

ایسی حالت اگر مسلسل رہے۔تو ماہرین اس کو ڈپریشن کا نام دیتے ہیں۔اگر یہ حالت دو ہفتے تک برقرار رہے۔تو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔اس کا عرصہ مہینوں اور سالوں تک رہ سکتا ہے۔انسان جو دکھ برداشت نہیں کر سکتا وہ اس کو ڈپریشن کا مریض بنا سکتا ہے ۔عام طور پہ لوگ زیادہ خوشی سے ڈپریشن نہیں ہوتے۔لیکن کبھی کبھار کوئی خوشی بھی قابل برداشت نہیں ہوتی۔

مثلاً اچانک کسی غریب آدمی کا ایک کڑور کا بانڈ نکل آئے۔تو وہ خوشی سے بے قابو ہو سکتا ہے۔غم کی حالت میں دکھی ہو کر اکثر لوگ ڈپریشن ہو جاتے ہیں۔اگر دکھ یا غم قلیل مدت رہے۔تو اس کو ڈپریشن نہیں کہتے۔دکھ اور غم دونوں میں ڈپریشن ہو سکتا ہے۔غم اور تکلیف میں اکثر ہم اپنے ماضی کی اچھی یاداشت کو Recall کرتے ہیں۔جس دور میں ہم بہت خوش ہوتے ہیں۔اس سے ہم کو موجودہ صورت حال میں قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ہماری خود اعتمادی اس پر کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔
مینک ڈپریشن یا بائی پولر ڈس آرڈر کیا ہے؟
جن لوگوں کو شدید ڈپریشن ہوتا ہے۔ان میں تقریباً دس فیصد لوگوں کو تیزی کے دورے پڑتے ہیں۔جن میں کچھ لوگ بہت زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔یا کچھ لوگ روتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کچھ لوگ نارمیلٹی سے ہٹ کر بہت زیادہ کام کرتے ہیں۔اور تھکتے نہیں۔

یا کچھ لوگ کام کا نام سن کر ہی تھک جاتے ہیں۔اس تیزی کے دورے کو Manic کہتے ہیں ۔اور بیماری کو Disorder bipolar کہتے ہیں۔یہ بیماری مردوں اور عورتوں میں برابر ہی پائی جاتی ہے۔یہ موروثی بھی ہے کچھ خاندانوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔
کیا ڈپریشن انسان کی ذاتی کمزوری کا دوسرا نام ہے؟
جس طرح شوگر،بلڈ پریشر بیماریاں ہیں۔اسی طرح ڈپریشن بھی ایک بیماری ہے۔

جو قابل علاج ہے۔یہ بیماری کسی بھی انسان کو ہو سکتی ہے ۔اور کبھی بھی ہو سکتی ہے۔کوئی کتنا بھی مضبوط انسان کیوں نہ ہو۔جس طرح عام بیماریوں کے انسان کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔نہ کہ مذاق اڑانے کی۔
ڈپریشن میں اپنی مدد آپ کریں
اپنی جذباتی کیفیت کو راز نہ رکھیں،اگر آپ کوئی بری خبر سنتے ہیں تو اس کو کسی قریبی دوست یا رشتہ دار سے ضرور شیئر کریں۔

اکثر غم کی باتوں کو کسی قریبی سے بار بار دھرانے سے ان کی شدت کم ہو جاتی ہے۔یا ایک حل یہ بھی ہے۔کہ رو لینے سے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔کسی عزیز سے بات کر لینے سے دل کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔اپنے آپ خود کو یاد دلاتے رہیں۔آپ جس تجربے سے گزر رہے ہیں۔اس سے لوگ بھی گزر چکے ہیں۔ایک نہ ایک دن آپ کا ڈپریشن بھی ختم ہو جائے گا۔چاہے ابھی یہ ممکن نہیں لگ رہا۔

ہمیشہ مثبت سوچیں۔
جسمانی کام یا ورزش
کوئی نہ کوئی ورزش کرتے رہنا چاہیے۔چاہے وہ آدھا گھنٹہ واک ہی کیوں نہ ہو۔ورزش سے انسان کی جسمانی صحت بھی ٹھیک رہتی ہے۔ اور نیند بھی بہتر ہوتی ہے۔اپنے آپ کو ویسے بھی کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں۔چاہے گھر کے ہی کسی کام میں خود کو مصروف کر لیں۔اس سے انسان تکلیف دہ خیالات سے بچا رہتا ہے۔

ورزش کرنا باقاعدگی سے ورزش ڈپریشن کے علاج میں مدد دیتی ہے۔یہ نہ صرف بہتر دماغ کے نئے خلیوں اور رابطوں کی نشوونما کو بھی متحرک کرتی ہے۔جسے ہم اینٹی ڈپریشن کہتے ہیں۔روزانہ آدھے گھنٹے کی واک میں بھی بہت فرق پڑتا ہے۔
ماحولیاتی عوامل
تشدد نظر اندازی۔بدسلوکی اور غربت کچھ لوگوں کو اس کا شکار بنا دیتی ہے۔نوکری نہ ملنا،کوئی رشتہ ٹوٹ جانا۔

کوئی نقصان ہو جانا۔
معاشرتی روابط
مضبوط سوشل نیٹ ورک تنہائی کم کرتے ہیں۔جو ڈپریشن کی اہم وجہ ہے۔دوستوں اور فیملی کے ساتھ رابطہ میں رہیں۔کسی کلاس۔یا گروپ کو جوائن کر لیں۔رضا کا دانہ خدمات معاشرتی مددحاصل کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہے۔جو اصل میں آپ خود کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ذہنی اور جسمانی سکون کے لئے۔


اچھی خوراک
اچھی اور ہلکی غذا کو اچھی طرح کھایا جائے۔آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھتاہے۔دن بھر کام کرنے کے لئے متوازن غذا سے توانائی برقرار رہتی ہے۔اور موڈ بھی اچھا رہتا ہے۔متوازن غذا کھانا بہت ضروری ہے۔چاہے آپ کا دل کھانے کو نہ کر رہا ہو۔تازہ پھلوں اور سبزیوں سے سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ڈپریشن میں لوگ کھانا کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔

جس سے جسم میں وٹامنز کی کمی آجاتی ہے۔ اور طبیعت زیادہ خراب ہونے لگتی ہے۔
کونسلنگ
اگر آپ میں ڈپریشن کی علامات کا کوئی بنیادی سبب موجود نہیں ہے۔تو ٹاک تھیراپی انتہائی کامیاب اور موٴثر علاج ہے۔جس میں آپ کو بہتر محسوس کرنے کی مہارت اور بصیرت فراہم کی جاتی ہے۔یہ ڈپریشن کو پلٹ کر واپس آنے سے بھی روکتا ہے۔منفی سوچ کو رد کرتا ہے۔

ڈپریشن کو مقابلہ کرنے کی تکنیک Coping سکھاتا ہے۔جو ڈپریشن کی وجہ جان لینا اور اس کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔آپ کو سکھاتا ہے ۔کہ آپ کیسے صحت مند رہ سکتے ہیں۔Counsellingیا مشاورت اس کی بہترین مثال ہے۔
ادویات سے علاج
ذہنی دباؤ کا بنیادی علاج دوائی سے ہوتا ہے۔Antidepressant Medicines کے استعمال کے بارے لوگوں کی بہت سی Myths ہیں۔

ان دواؤں میں اعتدال رکھنا ضروری ہے۔جب ضرورت ہو لی جائے۔ورنہ ڈاکٹر کے مشورے سے بند یا کم کر دی جائے ۔آپ کا ڈاکٹر نفسیاتی علاج کے ساتھ دوائی بھی لکھ کر دے سکتا ہے۔ان دواؤں کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔مگر ڈاکٹرکی ہدایت کے مطابق۔زیادہ شدید ذہی دباؤ میں یہ کھانی ضروری ہو جاتی ہے۔اس میں موڈ اسٹبلائزر،اینٹی سائکوئک،منشیات اور اینٹی ڈیپریسنٹ دوائی دی جا سکتی ہے۔

یا سب کو ملا کر بھی دیا جاسکتا ہے۔اگر آپ اس کے لئے دوائی لینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔تو ابھی ساتھ ساتھ کونسلنگ اور ٹاک تھیراپی کو نظر انداز نہ کریں۔زندگی میں بدلاؤ یا ٹھہراؤ نہ صرف تیزی سے ڈپریشن کو کم کرتاہے۔بلکہ بیماری کو پلٹ کر آنے سے بھی روکتا ہے۔اس میں ورزش بہت ضروری ہے۔سگریٹ نوشی اور الکحل سے پرہیز کریں۔یہ اس حالت سے نجات میں مدد دیتے ہیں۔

کم از کم 6 گھنٹے نیند ضرور پوری کرنی چاہیے۔اس سے صحت پہ مثبت اثرات پڑتے ہیں۔صحت مند اور کم غذا کھائیں۔علاج ڈپریشن کی شدت پہ منحصر ہے۔ علاج میں کچھ ہفتے یا زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔بہت سے معاملات میں 10-15 سیشن میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ڈپریشن کو مذاق نہ سمجھیں۔یہ ایک وقتی بیماری ہے۔تشخیص اور علاج سے ڈپریشن کے شکار لوگوں کی اکثریت اس پر قابو پا لیتی ہے۔اگر آپ کسی بھی قسم کے ڈپریشن کا شکار ہیں۔آپ ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔اپنے خدشات کے بارے میں بات کریں۔ذہنی صحت کی بحالی کے لئے ضروری ہے۔احتیاط کیجئے۔زندگی سے پیار کیجئے۔
تاریخ اشاعت: 2020-12-02

Your Thoughts and Comments