Depression - Article No. 2058

ڈپریشن - تحریر نمبر 2058

پیر جنوری

Depression - Article No. 2058
شیخ محمد انور
پاکستان میں اس وقت ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا مرض سب سے عام ہے۔اسے ذہنی افسردگی بھی کہتے ہیں۔اس قسم کے لوگ آج کل ہمارے ہاں بہت ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک تو مہنگائی نے عام شخص کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے اور دوسرا یہ کہ نت نئی بیماریوں اور پریشانیوں نے انسان کا ذہنی سکون چھین لیا ہے اور رہی سہی کسر کرونا وباء نے پوری کر دی ہے۔

پچھلے ایک دو سال میں مہنگائی میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔جب ایک متوسط درجے کا شخص اس مہنگائی کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو اس کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا ذہنی سکون چھن جاتا ہے۔بچوں کی فیس ”کچن کا خرچ“ ٹیکسوں کی بہتات،مکانوں کے کرائے اور دوسرے بے شمار اخراجات اس کے اعصاب کو تباہ کر دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور اخبارات نے عوام کے اندر مقابلہ و مسابقت کا جذبہ پیدا کر دیا ہے۔

جو لوگ دوسروں کے ہاں کاریں،ٹی وی،موبائل،فریج اور دیگر لوازمات دیکھتے ہیں اور خود ان سب چیزوں سے محروم ہوتے ہیں،اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ چیزیں انہیں بھی مل جائیں اور وہ اس کیلئے جائز و ناجائز حربے اختیار کرتے ہیں۔
کچھ ہمارے ٹی وی پر کمپنیوں کے اشتہارات عوام کے دل میں اشیائے تعیش کی چیزیں خریدنے کی خواہش پیدا کرتے ہیں، خواتین اور بچے ٹی وی سے اشتہارات دیکھ کر ان چیزوں کو خریدنے اور استعمال کرنے میں کافی پیسہ خرچ کر دیتے ہیں،ان تمام چیزوں کا بوجھ کمانے والے ایک شخص پر پڑتا ہے اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

سوسائٹی کے ایک مقام تک پہنچنے کیلئے وہ دو دو نوکریاں کرتا ہے اور کماتے کماتے پس جاتا ہے اور پھر بھی گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ہر سطح کے لوگ اپنے مخصوص مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔آدمی جتنا زیادہ معاشرے کی اونچی سطح تک پہنچتا ہے اسی حساب سے اس کے مسائل بھی بڑھتے ہیں۔ایک محنت کش انسان جو دن بھر پسینہ بہاتا ہے لیکن روٹی کیلئے ترستا رہتا ہے اور کسان جو چلچلاتی دھوپ میں ہل چلاتا ہے مگر اس کے تن پر ڈھنگ کا کپڑا نظر نہیں آتا،خوانچہ فروش جو گلیوں میں مارا مارا پھرتا ہے مگر اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتا۔

درجہ چہارم کا ملازم سارا دن محنت کرتا ہے مگر اس کے پاس رہنے کیلئے گھر نہیں،کلاس تھری کا ملازم صبح سے شام تک ملازمت کرتا ہے مگر قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
ایک عام انسان جو حلال رزق کماتا ہے اور اس کی جوان بیٹی گھر میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو رہی ہے۔اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں،مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ تنخواہ دار اور کم آمدنی والا طبقہ چیخ اُٹھا ہے،آٹا،دال،چینی ہر چیز کے نرخوں میں 50 فیصد اضافہ ہو گیا ہے،ہر روز گھی کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور ہر دوسرے روز سبزی کے بھاؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

کل جو دوائی پانچ روپے میں ملتی تھی آج دس روپے میں بھی میسر نہیں ہے۔اگر قیمتوں کا یہی رجحان رہا تو عام آدمی پیٹ پر پتھر باندھے پھرے گا۔ضروریات زندگی یونہی مہنگی ہوتی رہی تو شہریوں کیلئے جینا مشکل ہو جائے گا۔جگہ جگہ پر ڈاکے پڑ رہے ہیں،قتل ہو رہے ہیں،جرائم پھل پھول رہے ہیں،اغواء کی وارداتوں نے شہریوں کا سکون چھین لیا ہے۔ قبضہ گروپ کی سرگرمیوں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا ہے۔

ناجائز فروشی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ،مظلوموں کی حق تلفی پر کسی کی آنکھ میں آنسو نہیں آتے اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یتیموں اور بیواؤں کا مال کھانا حلال قرار دے دیا گیا ہے۔کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بچے اور بچیوں کو منشیات کی لت لگ چکی ہے۔ اشیائے ضرورت کی چیزوں کی قیمتیں بڑھ جائیں تو زندگی کی قدر و قیمت گھٹ جاتی ہے۔


روٹی کا حصول مشکل ہو تو آدمی آدمی کو کھانے لگتا ہے،بازار تنگ ہو جائیں تو شرم و حیاء دکانوں پر بکنے لگتی ہے،اناج چور بازاری میں چلا جائے تو دل درد سے خالی ہو جاتے ہیں اور جب ہر چیز مہنگی ہوتی ہے تو ایمان اور ضمیر کی حیثیت کوڑیوں کی ہو جاتی ہے۔پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے،عورتیں اغواء ہوتی جا رہی ہیں،جوان لڑکیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں اور اس طرح کے کئی مسئلے مسائل ہیں جو ہر انسان کے دل و دماغ پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ دل اور اعصاب کی بیماریوں میں تیزی سے مبتلا ہو رہے ہیں۔

تاجر طبقہ بھی اب محسوس کرنے لگا ہے کہ اسے امیر سے امیر تر ہونا چاہیے۔اگر اس کی آمدنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے تو وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔جب وہ اپنے ساتھ والے تاجر کو امیر سے امیر تر ہوتے دیکھتا ہے تو وہ خود بھی ایسا ہی بننا چاہتا ہے۔جب ایک شخص اپنا کاروبار بہت پھیلا لیتا ہے تو اس کی ذہنی پریشانیاں بھی اسی اعتبار سے وسعت اختیار کر لیتی ہیں۔

وہ بینک بیلنس کو بڑھانے کی کوشش کرتا رہتا ہے،غریب شخص تو رات کو سو جاتا ہے لیکن امیر شخص کو خواب آور گولیاں کھائے بغیر نیند نہیں آتی۔
آج کل میں ایک اور معاشرتی تبدیلی بھی دیکھ رہا ہوں اور وہ یہ کہ ہمارے خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔پہلے اہل خانہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے اور مشترکہ طور پر رہنے سے ایک دوسرے کی مالی معاونت بھی ہو جاتی تھی لیکن اب یہ صورتحال نہیں رہی۔

خاندان ٹوٹ رہے ہیں،بیٹے والدین سے علیحدہ ہو کر اپنا الگ گھر بسا رہے ہیں،اس لئے دکھ درد بانٹنے والوں کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے۔ دیہات سے ہجرت کرنے والوں کی شرح بڑھنے سے خاندان منتشر ہو رہے ہیں،تنہائی کا احساس بڑھ رہا ہے،اس لئے چھوٹی سی پریشانی بھی بڑی لگتی ہے اور ذہنی سکون ختم کرتی ہے۔اب اغواء برائے تاوان کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس نے بھی لوگوں کو عدم تحفظ میں مبتلا کر دیا ہے،ڈاکوؤں نے لوٹ کھسوٹ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ بھی مقابلہ و مسابقت کا ایک حصہ ہے کیونکہ لوگ راتوں رات امیر بننا چاہتے ہیں ۔

پاکستان میں جس تیزی سے ذہنی اور نفسیاتی عوارض میں اضافہ ہو رہا ہے وہ ہماری معاشرتی زندگی کا ایک تشویش ناک پہلو ہے۔مادیت پرستی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے لوگوں کو ذہنی سکون سے محروم کر دیا ہے۔ رشوت،سفارش اور کرپشن زوروں پر ہے،اب تو زہر بھی سستے داموں نہیں ملتا۔عوام یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اُن کے گھر وں کے دروازے کمزور کیوں ہو گئے ہیں۔قتل اغواء اور غنڈا گردی روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-01-18

Your Thoughts and Comments