Depression Udassi Or Mayosi - Article No. 1959

ڈپریشن،اداسی اور مایوسی - تحریر نمبر 1959

منگل ستمبر

Depression Udassi Or Mayosi - Article No. 1959
جمیلہ آصف
ڈپریشن،اداسی اور مایوسی تینوں مختلف کیفیات ہیں۔ انہیں ایک ہی کیفیت کے مختلف نام سمجھنا غلطی ہے۔ کچھ کیفیات ملتی جلتی ضرور ہوتی ہیں۔ ڈپریشن ایک ایسا خطر ناک مرض ہے۔ جو نہ صرف آپ کی جسمانی و نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ آپ کے سونے جاگنے،کھانے پینے حتیٰ کہ سوچنے تک پر اثر انداز ہوتا ہے۔ آج کے زمانے میں یہ مرض اس قدر عام ہو چکا ہے کہ شاید ہی دنیا کا کوئی شخص اس سے محفوظ بچا ہو ۔

مردوں کے مقابلے میں خواتین اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔ معاشرے کے بڑھتے ہوئے مسائل،کم آمدنی اور زائد اخراجات، گھریلو پریشانیوں اور ملک کے بگڑتے ہوئے حالات نے انسان کو ڈپریشن کا شکار بنا دیا ہے۔ ہر روز ہمیں کسی نہ کسی ایسی صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے جس سے ہم مزید الجھنوں،ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)


ہمارے ملک میں ڈپریشن زیادہ تر خواتین اور بچوں کو ہوتا ہے جبکہ اداسی اور مایوسی کاروباری اشخاص کو زیادہ ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ڈپریشن 65 فیصد اشخاص کو گھیرے ہوئے ہے،کیمیاوی جائزہ لیا جائے تو ڈپریشن چند محرکات (ہارمونز) کے عدم توازن سے ہوتا ہے۔ کبھی کچھ حالات و واقعات کے رد عمل کے طور پر یہ عدم توازن واقع ہوتا ہے۔ منفی سوچیں ڈپریشن کا باعث بنتی ہیں جبکہ مایوسی اور اداسی اُس وقت لاحق ہوتی ہیں جب کوئی شخص اپنے مستقبل وغیرہ کو گرتے دیکھ رہا ہو اور اس کا حل اسے نہ مل رہا ہو۔

دنیا میں ہر مسئلے کا حل رب تعالیٰ نے فرمایا ہے اور مایوسی کو کفر کا نام دیا ہے۔ڈپریشن کا حل اچھی بات چیت سے نکل آتا ہے،لیکن اداسی اور مایوسی کا مکمل حل تب ہی نکلتا ہے جب اس مسئلے سے نمٹنے کا راستہ دریافت ہو جائے۔
ڈپریشن کے اسباب:
احساس کمتری اکثر اشخاص کو ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے،بعض لوگوں نے کچھ دوسرے ،احباب یا کوئی خیالی شخصیت سوچی ہوتی ہے۔

جب وہ اپنے آپ کو اس کیفیت تک لانے میں ناکام سمجھتے ہیں تو ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے اسے اپنی شخصیت میں نکھار لانے کی سعی کرنی چاہیے نہ کہ کسی کی شخصیت میں اپنے کو ڈھالنے کی۔کچھ افراد کی یہ کیفیت موروثی ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کو بچپن سے ڈرتے رہنے کا ماحول ملا ہوتا ہے ۔یہ بچے بالغ ہونے پر بھی ڈرتے ڈرتے ڈپریشن کا مریض ہو جاتے ہیں۔

اگر دماغ کا سامنے والا حصہ سست ہو، تب بھی یہ عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔معدے کی خرابی سے جب بدبو دار ریاح دماغ کی جانب چڑھتی ہیں،تب بھی کچھ وقت کے لئے ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے۔آکسیجن کی کمی سے دماغی نظام منتشر ہو جاتا ہے ،اسی وقت پیاس لگتی ہے ساتھ ہی اس عارضے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔شوروغل کے ماحول میں پرورش پانے والے بچے اس مرض سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔

نیند کی کمی ڈپریشن میں اس لئے مبتلا کرتی ہے کہ ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔بعض افراد کی کچھ خواہشیں پوری نہیں ہو پاتیں،وہ اس مغالطے میں پڑ جاتے ہیں کہ قدرت نے ان سے نا انصافی کی،حالانکہ اگر وہ اپنے اس معاملے میں کی گئی سعی پر نظر ڈالیں تو ڈپریشن میں مبتلا نہ ہوں۔اگر کسی کو کھلے ماحول سے روک کر بند ماحول کی طرف کر دیا جائے تو وہ ضرور دماغی مریض ہو کر رہے گا خواہ ذمہ دار خود ہی ہو،(ارسطو)۔


علامات مردوں میں:
ذرا سی بات پر غصہ،بے چین رہنا،چیزوں کو توڑنا۔
ناامید رہنا،خالی بیٹھے رہنا،معدے کا خراب رہنا۔
پسندیدہ کاموں سے اجتناب، کسی کام میں دلچسپی نہ لینا،جلدی تھک جانا۔
خود کشی کی ترکیب سوچنا۔
حافظے کا کمزور ہونا،دھیان بٹا رہنا۔
دن کو سونا،بہت سونا یا بالکل نہ سونا۔
سردرد،تھکاوٹ،سستی،چڑچڑاپن۔


علامات خواتین میں:
غصہ اکثر بچوں پر سختی کرنا۔
وزن بڑھنا،سر میں بوجھل پن ،جلد کا پیلا ہونا۔
رات میں سانس کا ایک دم رکنا پھر ٹھیک ہو جانا۔
دم گھٹنا،رات آنے لگے تو وحشت ناک ہونا۔
دلچسپی کا فقدان،تنہائی پسندی،چڑچڑاپن۔
حافظے کی کمزوری،نیند کی کمی،کچھ کو نیند زیادہ آتی ہے۔
آواز میں تبدیلی،جلد تھک جانا۔


دل کی دھڑکن میں تبدیلی محسوس ہونا،درد سر اور چکر۔
علامات بچوں میں:
غصہ،چڑچڑا رہنا،ذرا سی بات یا مذاق پر رونا۔
اداس رہنا،سوچنا کہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔
تنہائی پسندی،سکول جانے سے ڈرنا،خود کشی کا سوچنا۔
حافظے کی کمزوری،نیند کے وقت کا بگڑنا،ضدی پن۔
وزن بڑھنا،توانائی کی کمی اور سستی،تھکاوٹ،ریح کا زیادہ ہونا۔


دھیان اور توجہ کی کمی،منفی سوچیں۔
جلد کا نرم ہونا،زبان میں سفید دھبے،نہار منہ یہ دھبے با آسانی دکھتے ہیں۔
ہم ڈپریشن سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
بچوں پر ڈائٹ ڈپٹ سے پرہیز کریں۔
امتحان میں ناکامی ہو جائے تو بچوں کو امید دلائیں ،حوصلہ دیں،کیونکہ ایسی حالت میں اپنا نفس بھی ملامت کرتا ہے ،حوصلہ شکنی یا ڈانٹ ڈپٹ سے ڈپریشن لاحق ہوتا ہے۔


گھر میں زیادہ دیر رہنے سے پرہیز کریں،سبز گھاس پر چلیں۔
کسی کام کو ذہن پر سوار نہ ہونے دیں،نیند کا بہت خیال رکھیں۔
مقوی دماغ میوہ جات علی الخصوص پستہ استعمال کریں۔
”میڈی ٹیشن“کے ذریعے تھکاوٹ دور کریں۔
خواتین جلدی اس عارضے میں مبتلا ہوتی ہیں کیونکہ اس کا مزاج نازک ہوتا ہے ،لہٰذا در گزر سے کام لیں۔
جب کسی کو کھوئے کھوئے دماغ میں پائیں تو اس کا دھیان اس کی پسندیدہ چیزوں کی طرف مائل کرنے کی کوشش کریں۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-22

Your Thoughts and Comments