Jaan Leeva Lakin Qabil E Elaaj Bimari Depression

جان لیوا لیکن قابل علاج بیماری ڈپریشن

پیر جولائی

Jaan Leeva Lakin Qabil E Elaaj Bimari Depression
ڈاکٹر وقاص نواز
ایسی خبریں اور چٹھیاں روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتی ہیں لیکن ہم کسی امتحان میں ناکامی ،کسی محبت میں دل ٹوٹنے اور کسی بے روزگاری سے تنگی کا لبادہ اوڑھا کر ان چٹھیوں کو بھی ان مایوسی زدہ متیوں کے ساتھ دفنا دیتے ہیں اور اس کے بعد ہمارے مورو الزام ہمیشہ زبردستی کرنے والے والدین پیچیدگیوں سے بھرا امتحانی نظام اور کرپشن وسفارش سے بھرا یہ معاشرہ ٹھہرتا ہے۔

یوں ہم کبھی اس بیماری کا ذکر نہیں کر پاتے جس کو ”ڈپریشن“ کہا جاتا ہے۔جی ڈپریشن!یہ وہی بیماری ہے جس کی علامات سنتے ہی ہماری زبان پر”ڈرامہ اور اداکاری“ کے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں۔جو تشخیص سے پہلے”نظر لگنا“اور تشخیص ہو بھی جائے تو”پاگل پن“قرار پاتی ہے۔

(جاری ہے)

جس کے نتیجے میں ہونے والے شخصی زوال کو”کوئی صدمہ“اور خود کشی کو“کمزور اعصاب“کی نشانی مان کر باقی بچوں کو فلموں ڈراموں سے پرہیز کرنے کی تلقین کرکے کام مکا دیا جاتا ہے۔


ہر گھر میں ڈپریشن کی مختلف تعریف اور پہچان ہے۔بیٹے کو ہو جائے تو ایموشنل بلیک میلنگ سے ماں باپ کو ڈرانا اور بہو کو ہو جائے تو”ماں کا سکھایا ہوا ڈرامہ“سمجھا جاتا ہے ۔ماں باپ کو ہو جائے تو بڑھاپے کا”سٹھیانہ“اور ملازم کو ہو جائے تو کام سے بچنے کا”بہانہ“قرار پاتا ہے ۔ہمارے معاشرے صحت اور طب کی معلومات کے بارے میں شدید گمان اور کم علمی کا شکار ہیں۔

جہاں آج بھی شوگر کا علاج مقیت شہد اور ہیپا ٹائٹس کا علاج کبوتر سے کیا جاتا ہے۔وہاں ڈپریشن جیسی پیچیدہ بیماری کو پکڑ پانا اور کنٹرول کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا عوام کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ شوگر اور بلڈ پریشر کی طرح یہ بھی ایک بیماری ہوتی ہے۔جیسے شوگر میں انسان کے جسم میں انسولین بننا بند ہو جاتی ہے ویسے ہی ڈپریشن میں بھی انسان کے دماغ میں بہت سے کیمیکل جن کو” نیوروٹرانسمٹر“کہتے ہیں ان کا توازن بگڑ جاتا ہے۔

جیسے شوگر کی علامات ہوتی ہیں جیسے کہ”بہت پیاس لگناوزن کم ہونے لگنا ،بہت پیشاب آنا“ویسے ہی ڈپریشن کی بھی نو علامات ہوتی ہیں جو کہ یہ ہیں:
1۔کسی کام میں خوشی محسوس نہ ہونا۔ 2۔مایوسی محسوس کرنا۔3۔نیند کا نہ آنا یا بہت زیادہ آنا۔4۔بھوک نہ لگنا۔5۔بولتے ہوئے نظر نہ ملاپانا یا بہت تیز تیز بولنا جس سے بی چینی ظاہر ہو۔6۔ہر وقت جسم کا تھکا تھکا محسوس ہونا۔

7۔اپنی ذات کے بارے میں اس وہم کا شکار رہنا کہ میں ایک ناکام انسان ہوں اور میری وجہ سے میرے خاندان کو بدنامی دیکھنا پڑ رہی ہے۔8۔کسی بھی کام میں دل نہ لگنا۔9۔خود کشی کے خیال آنا۔
ان میں سے چار علامات ہفتے میں زیادہ تر دن موجود ہوں اور انسان کی زندگی اور روز مرہ کاموں میں فرق ڈالیں تو آپ کو کوئی نظر’کوئی جادو‘کوئی وہم یا کوئی ڈرامہ نہیں لاحق ہوا بلکہ آپ اس بیماری کا شکار ہو گئے ہیں جو”ڈپریشن“کہلاتی ہے اور قابل علاج ہے جس کے لئے آپ کو کسی بابے کے تعویز کسی جوگی کے جھاڑ ورم اور کسی آنٹی کی”میں بھی کبھی بہو تھی‘والی نصیحت کی نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر،ایک ماہر نفسیات کی ضرورت ہے بالکل ویسے ہی جیسے شوگر انسولین سے کنٹرول رہتی ہے ویسے ہی ڈپریشن ”کو نسلنگ اور میڈیسن“سے کنٹرول رہتا ہے۔

ڈپریشن کی اکثر دوائیں کم از کم چھ مہینوں بعد اپنا اثر دکھانا شروع کرتی ہیں اس لئے فوراً نتیجہ نہ ملنے پر ڈاکٹر کو”سا ہو کار“اور دوائی کو ”کاروبار“قرار دینے سے پہلے یہ یاد رکھیں کہ دوا کا اثر دیر سے ہو گا۔جیسے شوگر کنٹرول نہ ہوتو گردے فیل ہو سکتے ہیں اور پاؤں بھی کاٹنا پڑ سکتا ہے اسی طرح ڈپریشن کا ٹھیک علاج نہ ہو تو انسان مایوسی کا اس حد تک شکار ہو سکتا ہے کہ وہ خود کو کسی پھندے پر لٹکا کر کوئی تیزاب پی کر کسی چھت سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا دھاگہ کاٹ سکتا ہے ایک امداد وشمار کے مطابق ہر سال پاکستان میں تین سو سے زیادہ لوگ ڈپریشن کی وجہ سے خود کا خاتمہ کر لیتے ہیں لیکن ظلم یہ ہے کہ شوگر میں تو گھر کے ملازم تک کو علم ہوتا ہے کہ”صاحب جی کو شوگر تھی اس لئے پاؤں کٹ گیا“لیکن اس بیماری میں کسی اللہ والے کو بھی نہیں پتا چلتا کہ یہ جو خود کشی ہوئی ہے یہ بیوی سے جھگڑے ،امتحان میں ناکامی‘ باس سے توتو میں میں اور محبت میں نامرادی کی وجہ سے نہیں بلکہ کبھی تشخیص نہ ہو سکنے والے ڈپریشن کی وجہ سے ہوئی ہے۔


ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 35فیصد لوگوں میں ڈپریشن پایا گیا ہے جن میں اکثریت خواتین اور کم تعلیم یافتہ لوگوں کی ہے۔ خاندانی رویے،معاشرتی پابندیاں‘کم تعلیم‘معاشی وسائل کی کمی اور آس پاس بڑھتی انتہا پسندی وہ عوامل ہیں جن سے اس خود بخود ہونے والی بیماری میں بڑھاوا آتا ہے اور پھر بس تابوت میں آخری کیل کی طرح کسی ایک ہٹ کی ضرورت پڑتی ہے جو اس ڈپریشن کے مریض کو موت تک لیجاتی ہے اور یہ ہٹ کسی امتحان میں ناکامی اطلاق ملازمت سے برخاتگی اور محبوب کی بیوفائی جیسی کوئی بھی بات ہو سکتی ہے جو ایک عام تندرست انسان کے لئے بہت معمولی اور روز مراد کی بات جیسی ہی ہوتی ہے۔

خاص طور پر عورتوں میں بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ڈپریشن کا ایک دور آسکتا ہے جس کو ”پوسٹ پارٹم ڈپریشن“ کہتے ہیں جس میں وہ بات بات پر رونے لگتی آہی اور چڑچڑی ہو کر کبھی کبھی بچے کی بھی ٹھیک سے دیکھ بھال نہیں کر پاتی۔اس کی وجہ پیدائش کے فوراً بعد جسم میں پیدا ہونے والے ہارمونز کی تبدیلی ہے جو چار پانچ ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتی ہے لیکن اس دوران ”اکھڑا بد مزاج اور ڈرامہ“کہنے کی بجائے اس کو علاج اور کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے جو مجھے اکثر پڑھے لکھے اور اونچے گھرانوں میں بھی نظر نہیں آتی۔


اس بیماری کو بیماری نہ سمجھنے کے رجحان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شوگر اور ٹی بی کی طرح اس بیماری کا کوئی بلڈ ٹیسٹ کوئی ایکسرے نہیں ہوتا بلکہ بس علامات کی بنیاد پر ایک ماہر کے انٹرویو کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ڈپریشن کے ہر دس ہزار میں سے بس ایک مریض اس کی تشخیص کے لئے کسی ماہر نفسیات ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے جب کے باقی نو ہزار نوسو ننانوے لوگ یا تو اس کو ڈرامہ اور ایک بہانہ قرار دیے جانے کے ڈر سے کبھی اظہار ہی نہیں کر پاتے یا کر بھی دیں تو بس کسی بابے:جوگی:مولوی صاحب یا خاندان کی سب سے تجربہ کار خاتون سے نصیحت ڈھونڈتے نظر آتے ہیں ۔

وہ الگ بات ہے کہ جب اس بیماری کی وجہ سے وہ خودکشی کر کہ موت کے منہ میں چلے جائیں تو وہ ہی مولوی صاحب اور آنٹی اس موت پر حرام ہونے کا فتوی دے کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے اپنے اپنے کاموں پر چلے جاتے ہیں اور پیچھے رہ جاتی ہیں مرنے والے کی چھوڑی ہوئی وہ کاغذ کی چٹھیاں جو لواحقین کو رہتی عمر تک اس کی ذہنی بیماری کو اداکاری،نظر اور بہانہ سمجھنے کی غلطی پر کوستی رہتی ہیں۔


میں نے اکثر یہ بھی دیکھا ہے کہ اس معاملے میں بس پانچ وقت نماز اور دعا کی نصیحت کر کہ بات ختم کردی جاتی ہے اور اس بیماری کو محض نا امیدی قرار دیکر اس کو مسلمانیت سے جوڑ دیا جاتا ہے کہ”مسلمان کبھی نا امید اور ڈپریس نہیں ہو سکتا“۔جیسے ایک مسلمان جسم میں انسولین کی کمی ہونے سے شوگر اور کولیسٹرول بڑھنے سے ہارٹ اٹیک کا شکار ہو سکتا ہے اسی طرح ایک مسلمان جسم میں کیمیکل کے توازن بگڑنے سے اس مرض ڈپریشن کا شکار بھی ہو سکتا ہے ۔

ہارٹ اٹیک ہونے کی صورت میں یہ معاشرہ ہسپتال کیوں بھاگتا ہے؟مسجد کا رخ کیوں نہیں کرتا ؟بس پانچ وقت نماز اور قرآن کی تلاوت کا درس دے کر بات ختم کیوں نہیں کر دیتا جیسا ڈپریشن میں کرتا ہے؟ڈپریشن کو مایوسی قرار دیکر بس ذکر ودعا کا درس دینے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ”مایوسی اور ڈپریشن میں فرق ہے۔ڈپریشن ایک پوری بیماری ہے جس کی نو علامتوں میں سے بس ایک علامت مایوسی ہے۔

جیسے شوگر میں دعا کے ساتھ ساتھ انسولین کی بھی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی اس بیماری میں دعا اور ذکر کے ساتھ ساتھ دوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
یاد رکھیں کہ ہر ذہنی بیماری بشمول ڈپریشن پاگل پن نہیں ہوتی بلکہ ویسی ہی ایک بیماری ہوتی ہے جیسے شوگر،دمہ اور بلڈ پریشر بیماریاں ہیں۔یہ بالکل قابل علاج ہوتی ہے اور اس علاج سے انسان کی ملازمت:تعلقات:جذبات اور زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

اس کے لئے ملک میں بہت سے فری کلینک بھی قائم ہیں۔لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں بتائیں اپنوں میں بیگانوں میں،شادیوں میں،جنازوں میں،مجلسوں میں،میلادوں میں،خطبوں میں،تبلیغوں میں،بیٹیوں میں،بہوؤں میں،ہر جگہ بتائیں کہ ڈپریشن ایک مرض ہے جس کا علاج ممکن ہے۔ اس سے اگر کسی ایک مریض کی وقت سے پہلے تشخیص ہو گئی اور اس سے اس کو خود کشی سے روک کر اس کی جان بچالی گئی تو یہ ایک انسان نہیں پوری انسانیت پر رحم ہو گا کیونکہ قرآن فرماتا ہے:”جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔“
تاریخ اشاعت: 2020-07-06

Your Thoughts and Comments