Nojwanoon Ko Depression Kiyon Hota Hai?

نوجوانوں کو ڈپریشن کیوں ہوتاہے؟

Nojwanoon Ko Depression Kiyon Hota Hai?

جوانی کے ایام کو زندگی کے سنہری دن کہا جاتاہے۔اس دور میں لوگوں کے جذبے جوان ہوتے اور کچھ کرنے کی امنگ بڑھتی رہتی ہے۔واقعی زندگی کے اس دور میں عزم جواں ہوتاہے،جذبہ زندہ ہوتاہے، جھپٹنے،پلٹنے ،اور پلٹ کر جھپٹنے کے لیے خون ہر دم گرم رہتاہے۔اگر زندگی کے اس حسین دور میں امنگیں پوری نہ ہوں،آرزوئیں پایہ تکمیل کو نہ پہنچیں تو زندگی کا یہ حسین وقت بد ترین بھی بن سکتاہے۔

نوجوانوں میں پژمردگی،پریشانی،ڈپریشن،نفسیاتی الجھنیں ،ذہنی دباؤ،اسٹریس وغیرہ کی وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں:
․․․․․گھر والوں کی مناسب توجہ کا نہ ملنا۔
․․․․․ماں باپ میں آپس کی لڑائی۔
․․․․․امتحان میں ناکامی۔
․․․․․․وسائل کی کمی۔
․․․․․․دوستی یا محبت سے محرومی۔

(جاری ہے)


․․․․․․بیروزگاری۔
ان وجوہات کی بنا پر کئی نوجوان ذہنی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ بعض جسمانی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔


ذہنی پریشانیوں سے بچاؤ
والدین کے لیے ضروری ہے کہ اپنے سب بچوں خاص طور پر نوجوان بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں۔کسی ناکامی کی صورت میں ان کی ہمت بڑھائیں اور بے جاڈانٹ ڈیٹ سے گریز کریں۔والدین کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ یہ عمر کے بہترین دن ہیں۔اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کو صحت اور ہمت دی ہے۔

توانائیوں کو بھر پور اور مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے۔کام دیانت داری اور خوب لگن سے کیجیے۔کسی بھی ناکامی کی صورت میں ہمت نہ ہاریں۔کام میں دل جمعی سے لگے رہیں۔نشہ صرف نوجوانوں کو ہی نہیں بلکہ سارے خاندان کو متاثر کرتاہے۔
دوران پڑھائی نیند آنا
اکثر طالب علم یہ شکایت کرتے ہیں”جب بھی کتاب کھولتا ہوں فوراً سستی چھا جاتی ہے۔

ذرا سی دیر میں سارا جسم تھکا تھکا سا محسوس ہوتا ہے اور فوراً اونگھ آنے لگتی ہے۔یوں کتاب کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے۔“موقع بے موقع او نگھ اور نیند کا آنا اس وقت ہوتاہے جب آدمی کو اس کام میں نہ کوئی دلچسپی ہو اور نہ لگاؤ۔موقع بے موقع ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے پینے،ورزش کی کمی یا بعض بیماریوں میں بھی بند ہ ہر وقت سستی محسوس کرتا ہے اور سویا سیا رہتاہے۔

طالب علم جو باقاعدگی سے اپنا کام نہیں کرتے اور امتحان کے دنوں میں افر ا تفری میں پڑھائی شروع کرتے ہیں،ان میں اس کی خاصی شکایت ہوتی ہے کیونکہ جب پلاننگ کے بغیر اور بے قاعدگی سے کوئی کام شروع کیا جائے تو ذہن جسم کا ساتھ نہیں دیتا اس لیے وہ کام شروع کرتے وقت سست ہوتے ہیں اور کام یا پڑھائی شروع کرتے ہی نیند آجاتی ہے۔
علاج اور بچاؤ
جو طالب علم زیادہ اونگھ اور پڑھائی کے دوران نیند آنے میں مبتلا رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ مندرجہ ذیل باتوں پہ عمل کریں۔


ذہن اور جسم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے تازہ ہوا ،مناسب آرام،باقاعدہ ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔
جسم صحت مند ہو گا تو ذہن بھی اس کے ساتھ ساتھ چلے گا اور جو کام کیا جائے گا تو ذہن اس میں پورا ساتھ دے گا۔
روزانہ اور وقت پر کام کرنے سے بہت سی پریشانیوں سے محفوظ رہا جا سکتاہے ۔ضروری ہے کہ باقاعدگی کو زندگی کا شعار بنایا جائے۔


بعض نوجوانوں میں خواہ مخواہ کا”اسٹڈی فوبیا“ہوتاہے جسے پڑھائی سے ڈر کہتے ہیں۔جب کبھی ایسا مسئلہ در پیش ہو،صدق دل سے اللہ سے مدد مانگیں اور ذہن خالی کرکے اپنی پڑھائی میں لگ جائیں۔
ایک سنہری اصول یہ ہے کہ جب کبھی زیادہ پریشانی اور ذہنی دباؤ ہوتو اس وقت ذہن پر مزید بوجھ نہ ڈالیں بلکہ خود کو بالکل فارغ چھوڑ دیں۔کچھ دیر کے لیے آرام کریں،باہر گھومیں پھریں اور ذہن کو فریش کرکے کام کی طرف لگے۔


بعض طالب علم زیادہ تر جاگنے کے لیے بعض دواؤں کا بھی استعمال کرتے ہیں،جن کا اکثر الٹا اثر ہو سکتاہے۔
بعض طالب علم امتحان کے دنوں میں کھاتے پیتے بہت ہیں۔ کھانے پینے کی زیادتی جسمانی سستی کا سبب بنتی ہے۔
امتحان کے دنوں میں بالخصوص اور عام دنوں میں بالعموم خوراک متوازن ہونی چاہیے۔زیادہ چٹ پٹے اور مسالے دار کھانوں سے گریز کرنا چاہیے۔

کھانا ہمیشہ تھوڑی بھوک رکھ کر ہی کھایاجائے۔
توجہ اور دھیان کی فقدان کیوں․․․؟
اکثر اوقات طالب علم اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں”جب بھی پڑھائی شروع کروں ،توجہ بٹی رہتی ہے۔پڑھائی کے علاوہ خیالات بھی آتے رہتے ہیں۔اکثر بھولی بسری باتیں یاد آتی ہیں اور یوں کتاب کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے اور گھنٹوں بیٹھنے کے باوجود کتاب میں سے نہ کچھ یاد رہتا اور نہ کچھ سمجھ میں آتاہے ؟“
ان کے برعکس وہ طالب علم جو یکسوئی کے ساتھ پڑھائی کی طرف توجہ دیتے ہیں وہ کم وقت میں مضامین کو نہ صرف یاد کرلیتے ہیں بلکہ ان پر گرفت بھی مضبوط کر لیتے ہیں اور یوں وہ کامیابی سے سر فراز ہو جاتے ہیں۔

طلبہ کے ان دونوں گروپوں میں بڑا فرق توجہ اور دھیان کا ہے۔ایک مکمل دھیان اور توجہ کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔دوسرے بغیر توجہ اور دھیان کے کام مکمل کرنے کی بے سود کوشش کرتے ہیں اور یوں انہیں پریشانی کا سامنا کرنا ہوتاہے۔
وجوہات
پڑھائی ہو یا کوئی اور کام ،جس میں دلچسپی نہ لی جائے،اس میں ٹھیک طرح کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔

کسی کام یا پڑھائی میں دلچسپی نہ ہونے کی بڑی بڑی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
․․․․․کسی خاص مضمون میں رغبت نہ ہونا۔
․․․․․بے قاعدہ طرز زندگی۔
․․․․․پلاننگ کا فقدان۔
․․․․․جسمانی اور ذہنی عوارض۔
․․․․․مالی مسائل وغیرہ۔
توجہ اور دھیان کیسے حاصل کی جائے․․․․؟
کام میں مکمل دلچسپی:
جب بھی کوئی کام کیا جائے تو اس میں پوری دلچسپی کا ہونا ضروری ہے۔

ذہن کو یکسوکریں۔کام شروع کرنے سے پہلے جسم کو ڈھیلا چھوڑدیا جائے اور تمام ذہنی تفکرات کو ایک طرف رکھا سمجھ کر خدا سے مدد مانگی جائے۔اس کے بعد کام یا پڑھائی میں لگ جایا جائے۔ان شاء اللہ یکسوئی حاصل ہو گی اور توجہ اور دھیان کے ہوتے ہی کام ٹھیک طرح ہونے لگیں گے۔
باقاعدگی کی اہمیت:
زندگی کو ایک قاعدے اور ضابطے کے مطابق گزارنے سے اکثر مسائل خودبخود حل ہو جاتے ہیں ۔

وہ لوگ جوکاموں کا شیڈول بنا کر کام کرتے ہیں وہ اکثر کامیاب ہوتے ہیں۔
فیصلے خود کیجیے:
جو کام خود فیصلہ کرکے کیا جائے اس میں بندے کی دلچسپی بر قرار رہتی ہے اور ذہن پوری توانائیوں سے اس کی طرف متوجہ رہتاہے۔اکثر اوقات نوجوان لڑکے لڑکیوں کو وہ کام کرنے پڑتے ہیں جو کچھ لوگ ان پر ٹھونستے ہیں جس کی وجہ سے توجہ اور دھیان حاصل نہیں ہوتا۔

کسی بات میں قریبی لوگوں سے مشورہ کرنا ضروری ہوتو بھی جہاں تک فیصلے کا تعلق ہے وہ خود کرنا بہترہے۔
خوراک کی اہمیت
کھانے پینے کی بے اعتدالیاںآ دمی کو کئی طرح کے مسائل میں مبتلا کرتی ہیں۔جسم ٹھیک نہ ہوتو ذہن بھی ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا اور بیمار آدمی توجہ اور دھیان سے کام نہیں کر سکتا۔اس لیے ضروری ہے کہ کھانا کھاتے وقت اعتدال سے کام لیا جائے۔بھوک رکھ کر کھایا جائے اور سادہ و متوان غذ استعمال کی جائے۔
ورزش کی اہمیت
جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے ورزش کی بھی بہت اہمیت ہے۔سادہ اور مکمل غذا کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ورزش بھی ضروری ہے۔اس سے جسم کے ساتھ ساتھ ذہن بھی تازہ رہتاہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-02

Your Thoughts and Comments