Stress Aur Hypertension Se Kaise Mehfooz Raha Jaye - Article No. 2278

اسٹریس اور ہائپر ٹینشن سے کیسے محفوظ رہا جائے - تحریر نمبر 2278

جمعہ 22 اکتوبر 2021

Stress Aur Hypertension Se Kaise Mehfooz Raha Jaye - Article No. 2278
ہائپر ٹینشن ہائی بلڈ پریشر کا طبی نام ہے۔یہ ہائی بلڈ پریشر،دل کی بیماری،فالج اور بعض اوقات موت کا باعث بن جاتا ہے۔بلڈ پریشر وہ دباؤ ہے جو انسان کے خون کی شریانوں کے خلاف کام کرتا ہے۔اس دباؤ کا انحصار اس بات پر ہے کہ خون کی رگیں کتنی مزاحمت کرتی ہیں اور دل اس دباؤ کو برداشت کرنے کیلئے کتنی سختی سے کام کرتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر دل کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔

صحت مند زندگی کے لئے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا ناگزیر ہے۔اس مضمون میں ہم بلڈ پریشر بڑھنے کی وجوہات پر نظر ڈالیں گے،ساتھ ہی اس کی نگرانی اور اسے معمول کی حد میں رکھنے کے طریقوں پر بھی بات کریں گے۔ذیل میں درج باتوں پر عمل کرکے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
باقاعدہ جسمانی ورزش
معالج مشورہ دیتے ہیں کہ ہائپر ٹینشن میں مبتلا افراد ہفتے میں 150 منٹ پر مشتمل درمیانے درجے کی یا 75 منٹ پر مشتمل محنت و مشقت والی ایروبک ورزش ضرور کریں۔

(جاری ہے)

صحت مند افراد کو بھی یہ ورزش کرنی چاہئے۔اس ضمن میں پیدل چلنا،ٹہلنا،سائیکل چلانا یا تیراکی کرنا بھی شامل ہیں۔
تناؤ میں کمی
مراقبہ،نیم گرم پانی سے غسل،یوگا اور لمبی سیر پر چلے جانا،خود کو آرام دہ حالت میں لانے کی تکنیکس ہیں جو تناؤ کو دور کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔تناؤ سے نمٹنے کے لئے نشہ آور اشیاء قوت بخش ادویات،تمباکو اور جنک فوڈ کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

یہ اشیاء ہائی بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن کی پیچیدگیوں کو بڑھاتے ہیں۔تمباکو نوشی سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔سگریٹ نوشی سے گریز ہائی بلڈ پریشر سمیت دل کی دیگر بیماریوں اور پھیپھڑوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔
نمک کی مقدار کم کرنا
دنیا کے بیشتر ممالک میں لوگ روزانہ اوسطاً 9 سے 12 گرام نمک کھاتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت (WHO) سفارش کرتا ہے کہ ہائپر ٹینشن اور اس سے متعلقہ صحت کی دیگر پریشانیوں کے خطرے کو کم کرنے کیلئے روزانہ 5 گرام سے کم نمک استعمال کیا جائے۔


پھل سبزیاں زیادہ،چکنائی کم
جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر ہو یا ہائی بلڈ پریشر ہونے کا زیادہ خطرہ ہو تو ان کے لئے ماہرین درج ذیل ہدایات دیتے ہیں:
ثابت اناج،ہائی فائبر والی غذائیں کھائیں۔
مختلف اقسام کے پھل اور سبزیاں لیں۔
پھلیاں،دالیں اور گری دار میوے اپنی خوراک میں شامل کریں۔
ہفتے میں دو بار اومیگا 3 پر مشتمل کوئی خوراک لیں۔


زیتون کا تیل استعمال کریں۔
بغیر کھال کے مرغی اور مچھلی کھائیں۔
کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات استعمال کریں۔
ٹرانس فیٹ،ہائیڈرو جنیٹڈ ویجیٹیبل آئلز اور جانوروں کی چربی سے بنے آئلز سے اجتناب کریں۔
وزن اور خوراک کا خیال
زائد جسمانی وزن ہائپر ٹینشن میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔وزن میں کمی آنے سے بلڈ پریشر بھی نارمل سطح پر رہتا ہے کیونکہ دل کو جسم کے اندر خون پمپ کرنے کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔

کیلوریز کی مناسب مقدار،متوازن غذا،فرد کا حجم،صنف اور دیگر سرگرمیاں ہائپر ٹینشن پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
شکمِ مادر میں پلنے والے بچوں پر ٹینشن کا اثر․․․؟
پہلے زمانے میں تجربہ کار بڑی بوڑھیاں حاملہ عورتوں کو خوش رہنے،مثبت سوچنے اور اچھی غذا کا مشورہ دیتی تھیں ان باتوں کی صداقت کی اب سائنس بھی گواہی دے رہی ہے۔

پچھلے چالیس پچاس سالوں میں علمی میدان میں بے حد ترقی ہوئی ہے اور ان میں ایک شعبہ نیورو سائنس کا بھی ہے جس کا ادراک ہر حاملہ عورت اور متعلقہ افراد کو ہونا ضروری ہے۔اس سلسلے میں اس واقعہ کا مطالعہ دلچسپی اور معلومات میں اضافے کا سبب ہو گا۔
مایا کی کہانی
جب مایا نے اپنے دو ننھے بچوں کے ساتھ پاکستان سے امریکہ نقل مکانی کی تو ایک ننھا وجود اس کے بطن میں پروان چڑھ رہا تھا۔

اپنے وطن میں خود مختاری کی پُراعتماد زندگی گزارنے والی مایاکیلئے امریکہ شروع میں ایک قید خانے سے کم نہیں تھا۔محبت سے امریکہ بلانے اور ساتھ دینے کا وعدہ کرنے والے بھائی اور بھابی کا رویہ سوہانِ روح ہو گیا تھا۔حمل کے دور میں یوں بھی جذبات کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان حالات میں آنسوؤں کا ایک ریلا تھا جو امڈ پڑتا تھا کہ جس پر بند باندھنا مایا کے اختیار سے باہر تھا۔

مختلف ثقافت اور مشرقی طور طریقے سے ناواقف ڈاکٹر نے مایا کو بتایا۔مجھے پریشانی ہے کیونکہ تمہارے بچے کا وزن بڑھنے کے بجائے کم ہو رہا ہے۔تمہیں جلد از جلد ہسپتال میں داخل کرنا پڑے گا۔ڈاکٹر اگلے تین دن کی تاریخ دے کر چلی گئی لیکن مایا جس کے بچے کی پیدائش میں ابھی پچیس دن باقی تھے سخت اسٹریس میں تھی۔اگلی رات ہی غالباً ماں کی ذہنی حالت کی وجہ سے بچہ دنیا میں آگیا۔

یہ بچہ بہت کمزور اور چھوٹا سا تھا۔شاید کچھ اور دن ماں کی گرمی میں پلتا تو صحت مند پیدا ہوتا۔مایا جیسی اور بھی عورتیں نہ جانے کس قسم کے اذیت ناک حالات گزرتی، محبتوں کو روتی اور شدید اسٹریس سے گزرتی ہوں گی۔لیکن ان کو بھلا کیا خبر کہ ان کے وجود میں پروان چڑھنے والا بچہ بھی کچھ کم تکلیف میں نہیں کہ یہ رشتہ معمولی نہیں آنول نال کا ہے۔


ماں کا اسٹریس بچے کی نشوونما پر
شکمِ مادر میں بچے کی نشوونما کا عمل بہت حیران کن ہے۔جو گویا ایک عمارت کی تعمیر سے مشابہہ ہے۔ایک بیضہ سے متواتر اور سرعت رفتاری سے خلیوں کی تقسیم کا عمل بتدریج مختلف اعضا کی تفریق کرتا چلا جاتا ہے۔اس میں سب سے اہم دماغ ہے یعنی ہمارا کنٹرول سینٹر۔رحمِ مادر میں دماغ پیدائش سے قبل ہزاروں خلیے فی منٹ کے حساب سے بنا رہا ہوتا ہے۔

یہ خلیے بالآخر ایک دوسرے سے برقی مواصلاتی رشتہ قائم کرتے ہیں۔اولاد کا ماں سے رشتہ آنول نال سے ہوتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف غذا بلکہ بنیادی ہارمونز،پروٹین اور گروتھ فیکٹرز بھی بچے کو پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں میں ماں کا مدافعتی نظام کچھ کمزور پڑ جاتا ہے۔اس وقت شکم میں بچہ اس کا اپنا سہی لیکن ایک نیا وجود ہوتا ہے۔ہمارا مدافعتی نظام نئے مادوں کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے۔

مگر زچگی کے وقت قدرت اس نظام کو کم موٴثر کر دیتی ہے۔ماؤں کے اسٹریس ہارمونز کا خون میں اخراج جسم میں خون کے فشار،دل کی رفتار،سانسوں کی آمد و رفت کو تیز کر دیتا ہے اور سی ریکٹو پروٹینC Reactive Proteinیعنی (CRP) کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے۔ساتھ ہی سائیٹو کاینس میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔یہ سب جسم میں سوزش پیدا کرتے ہیں۔مستقل اسٹریس کے بھرپور اثرات بچے پر بھی پڑتے ہیں۔

حساس مشینیں مثلاً الٹراساؤنڈ بتاتی ہیں۔ کہ پیدائش سے دس ہفتہ پہلے ہی بچہ اپنے حواسوں کو اپنے اندر کی محفوظ دنیا میں استعمال کرتا ہے۔وہ گردش کرتا ہے،ناچتا اور لاتیں مارتا ہے ۔ماں ہنستی ہے تو اس کے خوشی کے ہارمونز پہ بھی اثر پڑتا ہے۔اگر ماں میں اسٹریس ہارمون مثلاً کوریسٹول اور ایڈریلین بڑھتے ہیں تو اثرات بچے پہ بھی مرتب ہوتے ہیں۔

مثلاً
1۔ وقت سے پہلے بچہ کا پیدا ہو جانا۔جو رحم میں (CRH) یعنی کورٹیکو پروٹروپک ریلیزنگ ہارمون Corticotropin-Releasing Hormone کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
2۔ وزن میں کمی۔
3۔ بچہ ہیجانی کیفیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔
4۔ بچے میں ڈپریشن،آٹزم اور سیکھنے میں کمی کے علاوہ اے ڈی ایچ ڈی (ADHD) اور اسکزوفینیا کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
5۔ ایسے بچے روتے بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں اور خود اپنی زندگی کے اسٹریس کو بھی منفی انداز میں لیتے ہیں۔


6۔ اسٹریس سے حمل کے ضائع ہونے کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔
گو اس سلسلے میں تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن پوری دنیا میں اس پر انہماک اور سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔کیوں نہ ہو دراصل ان بچوں کی ذہنی صحت کا تعلق ہماری سماجی ترقی اور روشن مستقبل سے ہے۔
یہاں ایمسٹریڈم یونیورسٹی Amsterdam کی ڈاکٹر ٹیسا روزبوم Tesa Roseboom کی تحقیق کا ذکر برمحل ہے جو ایک لمبے دورانیے میں ان چوبیس سو افراد پہ کی گئی جو دوسری جنگ عظیم کے بعد ڈچ قحط (ہالینڈ 1944ء) میں اپنی ماؤں کے شکم میں تھے۔

بچوں کی تخلیق کا بیج قحط،بے بسی اور جنگی ہول ناکی کے زمانے میں پڑا۔بھوک اور غربت کے نتیجہ میں اسٹریس میں مبتلا ماؤں کے یہ بچے ادھیڑ عمر میں دل کی بیماریوں،کولیسٹرول کی زیادتی کے علاوہ خود اپنی زندگی میں بھی اسٹریس سے منفی انداز میں نبرد آزما رہے۔یہ نسبت ان افراد کے جو قحط سے پہلے پیدا ہوئے۔
ماؤں کے اسٹریس ہارمونز بچوں کے دماغی خلیوں اور ان کے درمیان برقی ربط پر اثر انداز ہو کر بحیثیت مجموعی اعصابی،جسمانی اور ذہنی صحت پہ اثر انداز ہوئے۔

جس کا دور رس اثران کے بڑھاپے تک رہا۔اسٹریس بیماریوں کی شکل میں ان ماؤں کے کرب کی یاد دلاتا رہا کہ جن سے ان کا آنول نال کا رشتہ تھا۔
اسٹریس کے دور رس اثرات سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم اپنے بچوں کو کیسا مستقبل دینا چاہتے ہیں۔ایسا معاشرہ کہ جس میں طاقتور کمزوروں کی حق تلفی کرکے نا انصافی کی فضا میں اسٹریس کی آلودگی برقرار رکھیں۔یا ایسا کہ جہاں انصاف،محبت،امن و آشتی اور فکر سے عاری خوش و خرم انسان بستے ہوں․․․؟لازم ہے کہ ایسے طریقہ زندگی کو اپنائیں جو زندگی میں اسٹریس کم کرے اور ذہنی سکون بخشے۔
تاریخ اشاعت: 2021-10-22

Your Thoughts and Comments