Zehni Sehat Magar Kaise - Article No. 2281

ذہنی صحت مگر کیسے - تحریر نمبر 2281

منگل 26 اکتوبر 2021

Zehni Sehat Magar Kaise - Article No. 2281
کنزا زاہد یار خان
جس طرح جسمانی صحت ہمارے لئے بہت ضروری ہے،بالکل اسی طرح ذہنی صحت کا اچھا ہونا بھی بہت ضروری ہے،کیونکہ اگر ہم جسمانی طور پر تو صحت مند ہوں،مگر ذہنی اُلجھنوں کا شکار ہوں یا کسی نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوں تو ایسی جسمانی صحت ہمارے لئے زیادہ فائدہ مند نہیں۔یہ ذہنی اُلجھنیں دراصل ایک دلدل کی مانند ہوتی ہیں،جس میں اگر ایک بار پاؤں دھنس جائے تو پھر انسان دھنستا ہی چلا جاتا ہے۔

ان اُلجھنوں سے منسلکہ کیفیات کو وہی شخص اچھی طرح سمجھ سکتا ہے،جو خود کبھی ان کا شکار ہوا ہو اور ان سے ہونے والی کوفت و اذیت سے گزرا ہو۔
ہر انسان کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا دور ضرور آتا ہے،جب وہ شدید مایوسی میں گرفتار ہو جاتا ہے،اُسے اپنے آگے پیچھے کچھ سجھائی نہیں دیتا اور ہر طرف تیرگی و نا اُمیدی سے اُس کا ذہن ماؤف ہونے لگتا ہے۔

(جاری ہے)

ایسے میں اگر وہ حالات کے آگے ہتھیار ڈال دے تو وہ ذہنی مریض بھی بن سکتا ہے۔
جس طرح ہم میں سے کوئی بھی فرد کبھی بھی کسی جسمانی بیماری کا شکار ہو سکتا ہے،اسی طرح ذہنی بیماری میں مبتلا ہونا بھی عام بات ہے،لیکن اس سے وابستہ بدنامی کا خوف ہمیں معالج کے پاس جانے اور اس حوالے سے بات کرنے سے روکتا ہے اور ہم کسی ذہنی اُلجھن کا شکار ہونے کے باوجود صرف اندر ہی اندر سلگتے رہتے ہیں۔

ان ذہنی مسائل میں سے کچھ بہت معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں،جو بہت زیادہ خطرناک نہیں ہوتے،جب کہ کچھ انتہائی مہلک اور نفسیاتی عوارض میں شامل ہوتے ہیں۔ذیل میں چند ایسے مسائل بیان کیے جا رہے ہیں ،جو رفتہ رفتہ ہمیں ذہنی مریض بنا سکتے ہیں:
بے روزگاری
ایک تحقیق کے مطابق بے روزگاری کا براہِ راست تعلق ہماری ذہنی صحت سے ہے۔

طویل عرصے تک بے روزگار رہنے کے سبب کوئی بھی شخص ڈپریشن (اضمحلال و افسردگی) کا شکار ہو سکتا ہے۔جب شدید محنت،مسلسل تگ و دو،اچھی تعلیم اور اعلیٰ ڈگری ہونے کے باوجود بھی کوئی شخص نوکری ملنے سے محروم رہے تو وہ لازمی طور پر ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
ڈپریشن
ڈپریشن کہنے میں تو بہت ہی سادہ سا لفظ ہے،لیکن جو لوگ اس کیفیت سے گزرتے ہیں تو اُن کا دل ہی جانتا ہے کہ یہ مرض کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔

ڈپریشن کی کئی وجوہ ہیں،جن میں اَن دیکھے مستقبل کا خوف،کسی قریبی ساتھی سے بچھڑ جانے کا ڈر،اندیشے،وسوسے یا ماضی کے تلخ واقعات کا بار بار یاد آنا بھی ڈپریشن کا باعث بن سکتا ہے۔
تشدد
تشدد چاہے کسی بھی طرح کا ہو،یہ ہر حال میں ہمیں نفسیاتی مریض بنانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔بچپن میں کیا جانے والا تشدد احساسِ کمتری کو جنم دیتا ہے،جو آگے چل کر کسی نفسیاتی عارضے کی شکل میں زندگی بھر کے لئے پیچھے پڑ سکتا ہے۔

اسی طرح ہراسگی بھی ایک طرح کا تشدد ہی ہے اور یہ بھی اکثر کسی نفسیاتی عارضے پر ہی ختم ہوتا ہے۔
گھریلو ناچاقیاں
گھر کا کشیدہ ماحول اور ہر وقت کا لڑائی جھگڑا بھی ہماری ذہنی صحت کے لئے بہت مضر ہے۔گھر جو ہمارا مسکن ہے،اگر ہمیں وہیں سکون و چین اور اطمینان نہ ملے تو اس کا منفی اثر لازمی طور پر ہمارے دل و دماغ پر پڑتا ہے۔


کام کا دباؤ
ہمارے ہاں اکثر دفاتر کا ماحول بھی خاصا تناؤ والا ہوتا ہے اور نو سے پانچ تک کے دفتری اوقات بہت تکلیف دہ بھی ہو سکتے ہیں۔دفتری زندگی میں ایک دوسرے سے بلاوجہ کی رقابت و حسد اور دوسروں کا حق غصب کرکے آگے بڑھنے کا جنون ہماری ذہنی صحت کے لئے بہت ضرر رساں ہے۔اس کے علاوہ مسلسل کئی ہفتوں یا مہینوں تک اضافی کام کا دباؤ بھی ڈپریشن کا سبب بن سکتا ہے۔


خیر،یہ تو ذہنی عدم سکون کی وہ وجوہ ہیں،جو ہمیں ہمارے ماحول سے ملتی ہیں،اس کے علاوہ کچھ مسائل پیدائشی بھی ہوتے ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ یہ مزید پیچیدہ ہو کر کسی نفسیاتی عارضے کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں اور اگر ایک بار کوئی نفسیاتی بیماری لاحق ہو جائے تو اس سے جان چھڑانا اگرچہ ناممکن تو نہیں،لیکن بہت مشکل ضرور ہوتا ہے۔نفسیاتی مریضوں کا علاج کرنا اس قدر مشکل ہوتا ہے کہ معالج اکثر خود بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔


بہرحال اگر ہم ان مسائل سے بہ خوبی آگاہ ہوں تو بڑی حد تک ان سے بچا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں چند تجاویز ذیل میں درج کی جا رہی ہیں،جن پر عمل کرکے خود کو ان اُلجھنوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ان میں سب سے اہم تو یہ ہے کہ جتنا ممکن ہو خود کو ذہنی تناؤ سے بچائیں۔ ویسے بھی موجودہ حالات لوگوں کے لئے بہت پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ایک طرف کورونا وبا سے پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال ہے تو دوسری طرف آئے دن ہونے والے جرائم۔


جب ہم ٹی وی اور اخبارات میں اس طرح کے واقعات کثرت سے دیکھتے اور پڑھتے ہیں تو ہم پر ان کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ہر روز اخبارات میں اس طرح کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ جن سے ہمارے خوف و پریشانی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ہم مزید غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس لئے کوشش کیجیے کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کا استعمال آپ ضرور کریں،لیکن بہت کم۔


اس کے علاوہ جتنا ممکن ہو سکے،زندگی کو سادہ اور آسان بنائیں،بے جا خواہشات کے پیچھے بھاگنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا،لہٰذا جتنا سہل ہو سکے ان سے دور رہیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ بھی عطا کیا ہے،اُس پر اُس کا شکر ادا کریں۔تقدیر سے شکایت کرکے آپ کو کچھ نہیں ملے گا اور یاد رکھیے کہ اپنے دل میں دوسروں سے جلن،حسد اور رقابت کے جذبات رکھ کر آپ خود بھی بے چینی و بے قراری کی آگ میں جلتے رہیں گے۔خود کو پُرسکون رکھیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا کریں:
کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچتی ہیں امیر
ناخدا جن کا نہ ہو،اُن کا خدا ہوتا ہے
تاریخ اشاعت: 2021-10-26

Your Thoughts and Comments