Zehni Tanao - Aik Sangeen Aalmi Masla - Article No. 1735

ذہنی تناؤ،ایک سنگین عالمی مسئلہ - تحریر نمبر 1735

جمعرات 21 نومبر 2019

Zehni Tanao - Aik Sangeen Aalmi Masla - Article No. 1735
لیاقت علی جتوئی
آج کے مشینی دور کی روز مرہ زندگی میں سکون کے لمحات تلاش کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے طرز زندگی (لائف اسٹائل)،افراتفری اور ہر چیز کی قلت (وقت ،وسائل ،سکون وغیرہ)نے ہماری زندگیوں سے ٹھہراؤ ختم کر دیا ہے۔ایسے میں ہمیں اپنے اردگرد کئی لوگ(ہم خود بھی)کبھی ملازمت میں مسائل کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار نظر آتے ہیں تو کچھ گھر،خاندان اور دوست واحباب میں اپنے کسی پیارے کی خراب صحت کے باعث ذہنی کرب میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔

دراصل،روزانہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہمارے مزاج پر اندازوں سے زیادہ اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
دماغی یا ذہنی تناؤ کے حوالے سے ایک حیران کن بات یہ ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دماغی پریشانی یا تناؤ صرف غریب ملکوں کے غریب عوام کو لاحق ہو سکتا ہے تو اسے یہ جان لینا چاہیے کہ ایک نئی تحقیق کے مطابق،کسی بھی وقت تقریباً 50فیصد امریکی شہری معتدل ذہنی تناؤ میں مبتلا رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

اگر عالمی سطح پر ذہنی تناؤ کے مسائل کی بات کریں تو اندازہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 50کروڑ کے لگ بھگ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ذہنی تناؤ کے لحاظ سے پاکستان میں کیے جانے والے سروے بھی پریشان کن ہیں۔پاکستان سائیکائٹر یک سوسائٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں نفسیاتی اور ذہنی امراض میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔سوسائٹی کے اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں 33فیصد لوگ ذہنی پریشانی اور ڈپریشن،4فیصد لوگ وہم جبکہ3فیصد بے جا خوف کے عارضے میں مبتلا ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ ایک اندازہ ہے کہ زندگی جوں جوں تیزی کی طرف گامزن ہو گی،ڈپریشن کے امکانات مزید بڑھتے چلے جائیں گے۔
ذہنی تناؤ کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ دنیا بھر کے 10سے20فیصد نوجوان مختلف ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔وہ افراد جو 20سے40سال کی عمر کے زمرے میں آتے ہیں،ان میں ذہنی تناؤ (جو آگے چل کر ڈپریشن کی وجہ بن سکتاہے)پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں یہ عارضہ لاحق ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتاہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ذہنی تناؤ اور دیگر دماغی امراض کے باعث،دنیا بھر میں ہر سال8لاکھ افراد خودکشی کے ذریعے اپنی زندگیاں گنوابیٹھتے ہیں۔ان اعدادوشمار کا سب سے زیادہ حیران کن پہلو یہ ہے کہ 15سے 29سال کی عمر کے نوجوانوں میں خود کشی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ مجموعی خود کشیوں میں سے 79فیصد خود کشیاں تیسری دنیا کے ممالک میں ہورہی ہیں۔


ذہنی تناؤ کی اقسام
ماہرین کے مطابق ،ہر طرح کا تناؤ نقصان دہ نہیں ہوتا۔کچھ ذہنی تناؤ ایسا بھی ہو سکتاہے جو سستی ،کاہلی اور بے زاری سے جان چھڑوا کر آپ کو متحرک بنادے۔یہ تناؤ آپ کو زیادہ کام کرنے اور زیادہ کار کردگی دکھانے میں مدد گار اور معاون ثابت ہو سکتاہے۔یہی نہیں،ہر فرد کی شخصی نوعیت کے پیش نظر ہر ایک کے لیے تناؤ کا پیمانہ مختلف ہوتاہے۔

ہو سکتا ہے کہ ایک بات جو آپ کے لیے ذہنی تناؤ کی وجہ بن رہی ہے،اسی نوعیت اور اسی شدت کی بات کسی اور کے لیے ایک عام سی بات ہو۔تاہم،جب کبھی کوئی شخص ذہنی تناؤ محسوس کرتاہے،اس کے بعد ہر فرد کا جسم ایک ہی طرح اس تناؤ پر ردعمل ظاہر کرتاہے۔تناؤ پر ردعمل جسم کا سخت یا مشکل صورتحال سے نمٹنے کا طریقہ ہوتاہے۔ذہنی تناؤ کے نتیجے میں اعصابی نظام،ہارمونز،نظام تنفس اور خون کی شریانوں میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں،جس سے دل کی دھڑکن تیز ہو جانا،سانس کا پھولنا،پسینہ بہنے لگنا وغیرہ عام ہے۔

ساتھی ہی،یہ جسمانی توانائی کی ایک لہر بھی فراہم کرتاہے۔اسے جسم کا فائٹ یا فلائٹ ردعمل کہا جاتاہے ،یہ ایک کیمیائی ردعمل ہوتاہے،جس کے نتیجے میں وہ جسمانی ردعمل کے لیے تیار ہوتاہے کیونکہ اسے لگتاہے کہ وہ حملے کی زد میں ہے۔
مثبت تناؤ
کچھ ذہنی تناؤ ایسا ہوتاہے ،جو عارضی اور مختصر وقت کے لیے پیدا ہوتاہے،جس پر آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔

اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ جب آپ کو اپنے ادارے کی طرف سے کسی بڑے پروجیکٹ کی ذمہ داری دی جاتی ہے یا پھرجب آپ کو لوگوں کے سامنے پریز نٹیشن دینی ہوتی ہے تو آپ کو پیٹ میں گڑ گڑاہٹ سی محسوس ہوتی ہے اور ہتھیلیوں پر پسینہ بہنے لگتاہے۔یہ مثبت ذہنی تناؤ ہوتاہے، جو دراصل بہتر کارکردگی دکھانے میں معاون ہوتاہے۔
منفی تناؤ
پاکستان جیسے معاشرے میں جب رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ یہاں ہر تیسرا فرد ذہنی تناؤ کا شکار ہے تو وہ منفی تناؤ ہوتاہے۔

منفی جذبات انتہائی پُر تناؤ ہوتے ہیں،ان میں ہر وقت کی فکر مندی ،غصہ آنا،خوفزدہ رہنا یا مزاج میں مستقل چڑ چڑاپن شامل ہے۔اس طرح کا تناؤ اچھا نہیں ہوتا اور طویل المیعاد بنیادوں پر سنگین مسائل کی وجہ بن سکتاہے۔
ذہنی تناؤ کے اثرات
اگر ایک شخص مسلسل ذہنی تناؤ کا شکار رہنے لگے تو وہ سر درد ،دل کے امراض کے ساتھ ساتھ جلد کے امراض ،ہائی بلڈ پریشر،دمہ ،ذیابیطس ،ڈپریشن،معدے کے مسائل اور جوڑوں کے درد جیسے موذی امراض کا شکار ہو سکتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-21

Your Thoughts and Comments