Daftar Ko Jaraseem Se Mehfooz Banaye

دفتر کو جراثیم سے محفوظ بنائے!

Daftar Ko Jaraseem Se Mehfooz Banaye

دفتر کی سجاوٹ اور آرائش وزیبائش سے ادارے کی صلاحیت وکار کردگی کا پتا چلتا ہے ،لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دفتر کی آرائش بعض اوقات بہت سے امراض میں بھی مبتلا کرسکتی ہے ۔دفاتر میں بچھے قالین ،
دروازے ،کھڑکیاں ،برقی آلات ،اےئرکنڈیشزوغیرہ سے کئی امراض بھی پھیل ہو سکتے ہیں ۔دفاتر کا رخ ،ان میں ہوا اور دھوپ کے گزرنے کا راستہ وغیرہ ایسے عوامل ہیں جو کسی جگہ کو ”امراض کا گڑھ “بنا سکتے ہیں ۔


عالمی ادارہ صحت نے اس کے لیے ”کثیر الکیمیائی علامت مرض “
(Multiple Chemical Syndrome) یا ایم سی ایس MCS)کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔
دفاتر میں موجود اشیا کی تیاری میں ایسے کئی کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں جو ہر ایک آدمی کو تو متاثر نہیں کرتے ،مگر کسی نہ کسی کے لیے سخت نقصان دہ ہو سکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ایسے کیمیائی مرکبات کے منفی اثرات درد سر ،
سستی ،جسم پر سرخ دھبے Rashesبے ہوشی ،سانس کی تنگی ،خر خراہٹ ،چھینکیں ،متلی ،آنکھوں کی جلن،
نکسیر،آنکھوں ،حلق اور جلد کی خارش جیسی علامات سے ظاہر ہوسکتے ہیں ۔

نیز ان کی وجہ سے نمونیا،
پھیپھڑوں کا شدید انفیکشنِ،اعصابی اور دفاعی نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایم سی ایس زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں ۔
یہ خطرات فرنیچر اور دروازوں کی درزیں بند کرنے والے مسالے سے لے کرفرش پر قالین بچھنے کے عمل تک موجود رہتے ہیں ۔خاص طور پر اگر نیارنگ کروایا گیا ہویا فرنیچر پر نئی پالش کرائی گئی ہوتو رنگ وروغن اور گلووغیرہ سے زیادہ تیز گیسیں خارج ہوتی ہیں ۔

ان میں بعض گیسیں زیادہ نقصان دہ ہوتی ہیں ۔
رنگ وروغن اور اشیا چپکانے والے ربر گوند میں کئی مضر صحت مرکبات شامل ہوسکتے ہیں ۔
کیڑے ماردواؤں کااسپرے کرنے سے آنکھوں اور ناک سے پانی بہہ سکتا ہے اور گلے میں خراش ہوسکتی ہے ۔تمام کیڑے مار دوائیں ،ابئبر کلینر اور فضا کو معطر کرنے والے پھوار(اےئر اسپرے )فضا کو زہریلا بھی کردیتے ہیں ۔


عمارتی سامان رنگ وروغن ،لکڑی کی بنی اشیاء مثلاً پلائی ووڈفوم اور قالین ان تمام چیزوں میں فارمل ڈیہائڈFormaldehydeشامل ہوتا ہے ۔ایسی جگہ پر کئی کئی گھنٹے بیٹھے رہنے سے آنکھوں سے پانی جاری ہوسکتا ہے ،سانس میں تنگی ،جلدی خارش، برونکائٹس اور دمہ کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
دفتروں میں جو قالین فرش پر بچھے ہوئے ہیں ،باہر سے آنے والے بعض حضرات اپنے گندے جوتے ان پر رکھتے ہیں ۔

یوں باہر کی گندگی دفتر کے قالین پر جم جاتی ہے ۔اس کے بعد یہی گندگی الرجی،دمہ اور دیگر امراض کا سبب بنتی ہے ۔خاص طور پر دق وسل کے جراثیم (جوکسی ایسڈیا اسپرٹ سے بھی ہلاک نہیں ہوتے )ایک سال تک زندہ رہ کر اپنی افزائش کرتے ہیں ۔یہ جراثیم انسانی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہیں ۔
ایشا کو چپکانے والا ربر گوند (Adhesive)،وارنش ،روشنائی اور رنگوں میں ٹرائی کلورو ایتھالئین Trichloroethy leneہوتا ہے جو الرجی اور حلق میں سوزش پیدا کر سکتا ہے ۔


بعض دفتری مشینیں بھی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں ۔مثال کے طور پر کچھ فوٹو اسٹیٹ مشینوں میں سے اوزون خارج ہوتی ہے ۔اس کی وجہ سے اس مشین کے قریب رہنے والے شخص کی آنکھوں اور گلے میں جلن ہوسکتی ہے ،نکسیر جاری ہو سکتی ہے اور کونٹیکٹ لینز پہننے والے کی آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔بلوپرنٹ کاپی کی مشین سے امونیا اور ایسیٹک ایسڈ کے بخارات خارج ہوتے ہیں جس کی وجہ سے آنکھوں ،ناک اور گلے میں جلن ہوسکتی ہے ۔


دفتر کی عمارت کے کونے کھدروں میں پرندے جوگھونسلے بنالیتے ہیں ،وہ بھی جراثیم سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔جس کمرے میں ایرکنڈیشز لگا ہوتا ہے ،وہاں کی ہوا بار بار استعمال ہو کر اسی کمرے میں موجود رہتی ہے ۔اس ہوا میں دھویں اور جراثیم کی آمیزش ہو سکتی ہے ۔کمرے میں اگر سگرٹ پی جائے تو اس کا نوے فیصد حصہ کمرے ہی میں موجود رہ کر فضا کو آلودہ کردیتا ہے جس کی وجہ سے اس کمرے میں موجود افراد نظام تنفس کی الرجی اور غنودگی میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔


کبوتروں کے پنجروں میں بھی ایسے جراثیم پرورش پاتے ہیں جو پھیپھڑوں کے مسائل پید اکرسکتے ہیں ۔
”کثیر الکیمیائی علامات مرض ”(MCS)کا آغاز دو طرح سے ہو سکتا ہے ۔اول تو یہ کہ بہت ہی قلیل مقدارمیں فضا میں کیمیائی اجزا موجود ہوں جو جسم پر اثر انداز ہو کر بیمار کر سکتے ہوں ۔یا پھر بڑی مقدار میں کیمیائی اجزا کا استعمال ہورہا ہو اور لوگ ان کی بو سے متاثر ہو کر کسی تکلیف میں مبتلا ہو جائیں ۔

کسی نقصان دہ کیمیکل کی تھوڑی سے مقدار بھی اپنے مضر اثرات مرتب کرتی ہے ۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ”ٹو کسو کولوجی ڈپارٹمنٹ“کے مطابق اس وقت سبز ہزار سے زائد کیمیائی مرکبات تجارتی پیمانے پر زیر استعمال ہیں ۔ان میں سے صرف چند سو کو مناسب طور پر سائنسی بنیادوں پر جانچاگیا ہے ۔نیز ہر سال ایک ہزار سے زائد نئے کیمیکل متعارف کرائے جاتے ہیں ۔

ان میں سے زیادہ تر کو جانچا بھی نہیں جاتا کہ یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں یا نہیں ۔
ان خطرات کو کس طرح کم کیا جائے؟․․․․
اس کے لیے ماہرین چند تدابیر تجویز کرتے ہیں :
اپنے دفترکو تمبا کو نوشی سے پاک کیجئے۔
باقاعدگی کے ساتھ ایروبک ورزش ،بہترین دفاع ہے ۔ورزش کے ذریعہ سے شرح استحالہ
( Metabolic Rate) بڑھا کر جسم میں زہریلے مادوں کے اثرات کے خلاف زیادہ قوت مدافعت پیدا کی جا سکتی ہیں ۔


اپنے دفتر یا کمرے کے ایر کنڈیشز کو چیک کر لیجئے کہ آیا اس میں سے تازہ ہوا اندر آرہی ہے اور استعمال شدہ ہو اباہر جارہی ہے یا نہیں ۔
نئی تحقیق یہ ہے کہ ایر کنڈیشز کا استعمال اسی صورت میں کیا جائے جب ضروری سمجھا جائے۔اس کے بجائے کمرے یا دفتر میں سورج کی روشنی اور ہوا کے گزر کا اہتمام کیا جائے۔
دفتر کے فرش کو صاف ستھرا رکھیے۔


فوٹو اسٹیٹ ،پرنٹر وغیرہ مشینوں کو ایسی جگہ پر رکھیے کہ جہاں سے ہو ابہ آسانی گزرتی رہے ۔
پودوں کے ذریعہ سے فضا کو صاف رکھیے ۔گملوں کے پودے کمروں کی فضا کو صاف کرتے رہتے ہیں ۔
دیواریں ،قالین اور پردے باقاعدگی سے صاف کیجئے۔
ہر دروازے کے پاس پائے دان رکھیے تاکہ کمرے میں آنے سے پہلے اس پر جوتے صاف کر لیے جائیں ۔ان پائے دانوں کی باقاعدگی سے صفائی کیجئے ۔
مندرجہ بالا چھوٹے چھوٹے مگر اہم پوائنٹس پر توجہ دے کر آپ اپنے آپ کو اور اپنے دفتر کے دیگر افراد کو نہ صرف بہت سی پریشانیوں اور بیماریوں سے بچا سکتے ہیں بلکہ اپنی کار کردگی میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں ۔

تاریخ اشاعت: 2019-01-21

Your Thoughts and Comments