Durust Ghaza Ka Intekhab Kijye!

درست غذا کا انتخاب کیجیے!

Durust Ghaza Ka Intekhab Kijye!
صحت وتندرستی اور خوبصورتی کے لیے کئی لوگ غذا میں تبدیلیوں کا سہارا لیتے ہیں مثلاً اگر کوئی دبلا ہونا چاہتا ہے تو کار بو ہائیڈریٹ پر مبنی غذائیں بالکل چھوڑ دیتا ہے حالانکہ ایسا کرنا بعض اوقات صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔خاص طور پر اگر ورزش کے دوران کاربو ہائیڈریٹ کو مکمل ترک دیا جائے تو فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے ۔دراصل نقصان دہ یا مشکل سے ہضم ہونے والے کاربو ہائیڈریٹ مثلاً چینی والے سیریلز ،کریکرز،کیک،آٹا،جیم ،ڈبل روٹی،آلو سے بنی ریفائن اشیاء ،شکر آمیز مشروبات وغیرہ کا استعمال چھوڑ کر قدرتی ذرائع سے حاصل کردہ کار بو ہائیڈریٹ مثلاً سبزیاں،اناج، پھل ،میوہ جات اور دہی اپنی خوراک میں شامل کیے جائیں۔


یہ جاننا لازم ہے کہ روز مرہ معمولات اور ہمارا طرز زندگی،صحت پر اچھے اور برے اثرات مرتب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

(جاری ہے)

صرف خوراک کی تبدیلی سے ہی صحت اچھی نہیں ہو سکتی،اس کے ساتھ ورزش اور وقت پر سونا ،جاگنا اور وقت پر کھانا کھانے کی عادت اپنا نا ناگزیر ہے۔وزن،خوراک اور صحت کے حوالے سے لوگ کئی غلط فہمیوں میں مبتلا رہتے ہیں ۔سوچتے ہیں کہ اگر فلاں فلاں چیز کھانا بند کر دیں تو خوب اسمارٹ ہو جائیں گے،درست بات یہ ہے کہ متوازن خوراک تندرست وتوانا اور وزن پر قابو رکھنے میں مدد دیتی ہے۔


ورزش طرز زندگی کا حصہ ہونا ضروری ہے،لیکن اکثر خواتین کی ورزش کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے،یعنی وزن کم کرنا۔ورزش کرنے والی خواتین اکثر یہ شکایت کرتی ہیں کہ ورزش کے باوجود ان کا وزن کم نہیں ہو رہا ․․․؟برطانیہ کے معروف پر فارمنس کو چ جون ڈینورسNutrient Timing کے بارے میں کہتے ہیں۔”کیا ورزش کرنی چاہیے․․․؟دراصل ورزش کے ساتھ ساتھ اس بات پر ضرور دھیان دینا چاہیے کہ کیا کھایا جائے،کب کھایا جائے اور کیوں کھایا جائے۔


خوراک کن اجزاء پر مشتمل ہے․․․؟
جون ڈینورس کے مطابق:”کوشش کیجیے کہ زیادہ سے زیادہ تازہ اور غیر پر وسسڈ غذا استعمال میں آئے۔اگر خوراک میں معیاری گوشت ،مچھلی شامل ہے،ایواکاڈو،میوہ جات اور ناریل کا تیل استعمال ہو رہا ہو اور باقاعدگی سے بہت سی سبزیاں کھائی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صحت مند غذا استعمال کی جارہی ہے۔


پروٹین کا استعمال
پروٹین یعنی گوشت،مچھلی اور انڈے․․․صرف غذائیت ہی نہیں دیتے بلکہ ان کا مناسب استعمال نظام انہضام کو بھی فعال اور متحرک رکھتا ہے۔اکثر فاسٹ فوڈ یا جنک فوڈ کھانے کا دل چاہتا ہے،لیکن ان خواہشات پر نظر رکھنا چاہیے۔
مایوسی میں کوشش ترک نہ کریں
وزن کم کرنے کے لیے اچھی خوراک کا آغاز تو زور وشور سے کیا جاتا ہے لیکن چند دن یا ایک ماہ میں مطلوبہ نتائج نہیں ملتے تب ہر کوشش ترک کر دی جاتی ہے۔

جون کے مطابق :”یہ ایک عام غلطی ہے اور اس سے بچانا چاہیے۔مایوس ہونے کے بجائے کوشش کیجئے کہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں یا کم ازکم ایسے لوگوں کے ارد گرد رہیں جو تعاون کرنے والے اور مثبت سوچ کے مالک ہوں۔“
پر فارمنس کوچ نے مشورہ دیا کہ خواتین کو صحت مند خوراک مستقل مزاجی سے اپنا نا چاہیے۔
اچھے کار بو ہائیڈریٹ
اچھے کار بو ہائیدریٹ Carb Flexکا مطلب ہے کہ ایسے کار بو ہائیڈریٹ استعمال کیے جائیں جو سبز اور جڑوں والی سبزی سے حاصل ہوں لیکن ان کا استعمال وقت کو مد نظر رکھ کے کرنا چاہیے۔

یہ بہتر ہے کہ دن کے آغاز میں ایسی چیزیں کھائی جائیں جو خالص اور کار بو ہائیڈریٹ پر مشتمل ہوں۔اس طرح نظام انہضام بہتر کام کرے گا اور تو انائی کی کمی محسوس نہیں ہو گی۔صبح کے اوقات باقی دن کے مقابلے میں زیادہ متحرک گزرتے ہیں ایسے میں کار بو ہائیڈریٹ پر مبنی غذا ہضم کرنا آسان ہوتاہے۔
جون ڈینورس یہ مشورہ بھی دیتے ہیں:”ورزش کے بعد ایسی چیزیں ضرور کھانی چاہئیں جوStarch یعنی نشاستہ پر مبنی ہوں ،مثلاً آلو اور چاول وغیرہ۔

ان کے ذریعے جسم کے پٹھوں کو وہ طاقت اور توانائی حاصل ہو گی جس کی ضرورت ورزش کے بعد بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔متوازن خوراک کی وجہ سے جسم پروٹین کو مناسب انداز میں جذب کرتا ہے اور یوں انسولین لیول متوازن رہتا ہے۔وہ خواتین جو وزن کم کرنا چاہتی ہیں انہیں چاہیے کہ دن میں پروٹین اور اچھی چکنائی کے بجائے نشاستہ پر مبنی خوراک استعمال کریں۔


45منٹ
ورزش کے پینتالیس منٹ بعد پٹھے متحرک ہو جاتے ہیں اور چکنائی جسم میں جمنے کے بجائے استعمال ہونے لگتی ہے۔وہ خواتین جو ورزش کے حوالے سے سنجیدہ ہوں، ان کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ورک آؤٹ کے بعد پروٹین شیک پئیں اور کار بو ہائیڈریٹ کی کچھ مقدار بھی کھائیں ۔ورزش کے بعد بھوکا رہناا چھا نہیں۔
اچھی نیند کے لیے اچھا کھانا
بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کو کھانے سے نیند اچھی آتی ہے ۔

کیلے ،نٹ بٹر ،پنیر ،مچھلی ،چیریز وغیرہ ۔ان سب میں ایک ایسا امیون ایسڈ موجود ہوتا ہے جوMelatonin میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔بادام میں میگنیشیم ہوتا ہے ،یہ بھی جسم کے پٹھوں کو سکون بخشتا ہے۔
آرام کرنے کے دن
جس دن ورزش نہ کررہی ہوں اس دن کار بو ہائیڈریٹ کے بجائے اچھی چکنائی مثلاً ایواکاڈو،بیج اور میوہ جات استعمال کریں۔

جب ورزش کی جائے تو کار بو ہائیڈریٹ سے حاصل ہونے والے حرارے با آسانی استعمال ہو جاتے ہیں لیکن ورزش نہ کی جارہی ہو تو یہی کار بو ہائیڈریٹ جسم میں چربی بن کر محفوظ ہونے لگتے ہیں۔
کب کیا کھائیں․․․؟
صبح آٹھ سے صبح دس بچے تک:یہ کار بو ہائیڈریٹ پر مبنی خوراک کھانے کے لیے بہترین وقت ہے ۔اس طرح جسم کو کار بوہائیڈریٹ استعمال کرنے کے لیے وقت ملے گا اور چکنائی جمع ہونے کے بجائے توانائی حاصل ہو گی۔


دوپہر ایک بچے سے دو پہر دو بجے تک
کھانے میں کار بو ہائیڈریٹ کی ایک مخصوص مقدار لینی چاہیے،بہتر ہے کہ اس وقت تک روزانہ ضرورت کا55 فیصد کار بوہائیڈریٹ استعمال کر چکی ہوں۔اس وقت کھانے میں پروٹین کا کچھ حصہ بھی شامل کریں۔انڈے یا چکن والا سلاد کھائیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-09-04

Your Thoughts and Comments