Gym Jana Or 9 Ghaltiyon KO Na Dohrana - Article No. 1940

جم جانا اور 9 غلطیوں کو نہ دہرانا - تحریر نمبر 1940

ہفتہ اگست

Gym Jana Or 9 Ghaltiyon KO Na Dohrana - Article No. 1940
صحت مند زندگی کی شروعات صحت بخش طرز زندگی اپنانے سے کی جا سکتی ہے۔اس ضمن میں آج کل جم میں ممبر شپ حاصل کرنے کا رجحان خاص طور پر دیکھا جا رہا ہے۔لوگ اپنی سہولت اور استطاعت کے مطابق جم کا انتخاب کرتے ہیں تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں کئی ہزار روپے فیس کے طور پر ادا کرنے اور گھنٹوں محنت کرنے کے باوجود بھی مطلوبہ نتائج نہ ملنے کا شکوہ ہوتاہے؟ماہرین صحت اور جم انسٹرکٹرز کی رائے کے مطابق ایسا تبھی ممکن ہے جب آپ کچھ اہم نقاط نظر انداز کر رہے ہوں یا مطلوبہ مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے جلد بازی سے کام لے رہے ہوں!ایسی صورتحال میں پریشان نہ ہوں آپ کی رہنمائی کے لئے حاضر خدمت ہے۔

مذکورہ تحریر میں ورزش کے دوران جم میں کی جانے والی چند اہم غلطیاں کی جانب توجہ دلائی جا رہی ہے،ملا حظہ کیجئے:
جم میں اکثر اوقات لوگوں سے یہ کوتاہی ہو جاتی ہے کہ وہ تیز وزنی کو اپنی ورزش کا حصہ بنائے بنا وزن میں کمی آنے کی امید رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

ورزش خصوصاً Six-Packsکے حصول کے لئے خواہ وہ مرد ہویا خاتون،جسمانی قوت بڑھانے والی یہ مشق کرنا ضروری ہے تو اس کا اثر پھٹوں کی مضبوطی کی صورت میں نظر آتا جس کے سبب ہمارا میٹا بالزم بھی بہتر ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جسمانی قوت بڑھانے کے لئے ہفتے میں تین بار یہ مشق ضرور کریں۔ہلکے وزن کے ساتھ زیادہ مشق کرنے کی بجائے بھاری وزن کا استعمال کرتے ہوئے مناسب انداز سے مشق کریں۔
دوسری اہم غلطی صحت مند جسم کا تعین کرنے کے لئے وزن ناپنے والی مشین کا سہارا لینا ہے۔اکثر خواتین کی یہی شکایت ہوتی ہے کہ جسم میں کڑی محنت کرنے کے باوجود بھی ان کے جسم میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ کچھ خواتین کے وزن میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

اس مسئلے کی بنیادی وجہ جسم کی ساخت میں آنے والی تبدیلی ہے۔اس بات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ ورزش سے قبل بڑھے ہوئے وزن اور موٹاپے کی وجہ جسم میں موجود چربی تھی جبکہ ورزش کے بعد وزن میں نمایاں کمی نہ آنے یا بڑھنے کی وجہ ورزش کے سبب بننے والے پٹھے ہیں جو میٹا بالزم کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تو اپنے سوچنے کے انداز میں تبدیلی لائیے۔

صحت مند اور اضافی چربی سے پاک جسم کے حصول کو اپنا ہدف بنائیے۔انشاء اللہ بہت جلد آپ کو مطلوبہ نتائج ملنا شروع ہو جائیں گے۔
ورزش کے بعد کیلوریز کے استعمال میں توازن قائم نہ کر پانا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔صحت بخش غذا جیسے پنیر یا خشک میوہ جات کے انتخاب کے دوران ہم اکثر اس نقطے کو نظر انداز کر جاتے ہیں کہ اس میں کیلوریز کی مقدار کتنی ہے جس کے سبب وزن میں کمی نہیں آپاتی۔

ساتھ ہی کچھ افراد کیلوریز کے معاملے میں اس قدر محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں جس کے باعث انہیں بار بار بھوک لگتی اور میٹا بالزم کی سطح میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔اس لئے بہترین طریقہ یہی ہے کہ کھانے سے قبل جانچ کیجئے کہ آپ کو کیا اور کس مقدار میں کھانے کی ضرورت ہے تاکہ کیلوریز کی مناسب اور مطلوبہ مقدار آپ کے جسم کو ملتی رہے۔
جم میں ممبر شپ حاصل کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا۔

بعض لوگ جم میں داخلہ لینے کے بعد ٹرینر کی مدد لئے بغیر ہی ورزش کرنا چاہتے ہیں۔یہ طریقہ ہر گز درست نہیں۔کیونکہ جم ٹرینر کا کام صرف ورزش سیکھانا نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر شخص کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہی ڈائٹ پلان اور ورزش تجویز کرتاہے۔اس لئے اپنے جم ٹرینر کی مددسے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
جم میں کسی مخصوص ورزش کو اپنی روٹین کا حصہ بنا لینا درست رویہ نہیں۔

اس معاملے میں بھی آپ کو اعتدال اور توازن بر قرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ Cardioاور جسمانی قوت بڑھانے کے لئے تیز وزنی کرنا دونوں ہی نہایت اہم ورزشیں ہیں۔Cardio چربی جلانے اور تیز وزنی میٹا بالزم کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔اس لئے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ کسی ایک ورزش کے بجائے دیگر تمام ورزشوں کو توازن کے ساتھ روٹین کا حصہ بنائیے۔


ہر انسان کی جسمانی ساخت اور ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔اس لئے دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ کرنے سے گریز کریں۔اس سے آپ کا اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ ہے اپنی جسمانی ضروریات کے مطابق ورزش کیجئے اور خوراک کا اپنے آپ سے ہی موازنہ کیجئے کہ آپ پہلے کے مقابلے میں آب آپ کتنے صحت مند ہیں۔علاوہ ازیں ضرورت سے زائد ورزش بھی آپ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم جم کے لئے ایک مخصوص وقت مقرر کریں تاکہ بھر پور نتائج حاصل کئے جا سکیں۔
جم جانے والے افراد میں ایک خاص عادت پروٹین پاؤڈر اور دیگر سپلیمنٹ کا استعمال ہے۔اس میں ہر گز دورائے نہیں کہ یہ مفید ثابت ہوتے ہیں مگر کلیتاً ان ہی پہ انحصار کرنا درست نہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ صحت مند رہنے کے لئے صحت بخش قدرتی غذاؤں کا استعمال بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ بھرپور غذائیت ملنے کے ساتھ ساتھ تادیر شکم سیری کا احساس رہے اور آپ کیلوریز والی غذاؤں کی جانب راغب نہ ہو سکیں۔


جم میں ایک بنیادی غلطی جو لوگ اکثر اوقات کر جاتی ہیں وہ ٹانگوں کی ورزش نظر انداز کرنا۔ٹانگوں کی ورزش نہ صرف آپ کے جسم کے نچلے حصے کے پٹھوں کے لئے مفیدہے بلکہ یہ اوپری حصے کے پٹھوں کی مضبوطی میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ٹانگوں کی ورزش ہارمونز کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔علاوہ ازیں اس بات کا خیال رکھیں کہ ٹانگوں کی ورزش میں Leg Pressسے زیادہ Deadliftsاور Squatsپر دھیان دیں۔

Leg-Press 1000 lbsسے بہترین دن میں دوبار Deadliftingکرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتاہے۔
Cardioورزش کو سنجیدگی کے ساتھ روٹین کا حصہ نہ بنانا بھی ایک اہم غلطی ہے۔تیز وزنی یعنی جسمانی قوت میں اضافہ کرنے والی ورزشیں بلا شبہ ضروری ہیں مگر اس کے ساتھ Cardioخواہ وہ روایتی انداز سے کی جائے یا جدید انداز سے ،آپ کی روٹین کا حصہ ہونا ضروری ہے یہ نہ صرف آپ کے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھانے اور چڑبی ختم کرنے میں مدد کرتی ہے بلکہ یہ پٹھوں میں گلوکوز اورTriglycerides کو جذب کرنے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس سے محفوظ رکھنے کی بھی کارگر ثابت ہوتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-08-29

Your Thoughts and Comments