Khush Rehne Ke Liye Bhi Warzish Aham Hai

خوش رہنے کیلئے بھی ورزش اہم ہے

Khush Rehne Ke Liye Bhi Warzish Aham Hai
لیاقت علی جتوئی
ورزش کے انسانی جسم اور ذہن کو حاصل ہونے والے فوائد کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔دنیا کی تقریباً ہر تحقیق میں یہی بات کہی گئی ہے کہ اگر انسان صحت مند رہنا چاہتا ہے تو اسے اپنے روزمرہ معمولات میں ورزش کو ضرور شامل کرنا چاہیے۔ورزش کے دل کے امراض،موت کا سبب بننے والی مختلف بیماریوں،فالج اور ذیابیطس جیسی بیماریوں پر اثرات کے حوالے سے تو ہم جانتے ہی ہیں ،تاہم آج سے پہلے تک ایسی کوئی ٹھوس سائنسی تحقیق سامنے نہیں لائی گئی ،جس میں ورزش کو دماغی اور جذباتی صحت کے ساتھ جوڑا گیا ہو۔


اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابھی تک یہ بات تو واضح تھی کہ ورزش کے جسمانی اور ذہنی صحت کو حاصل ہونے والے فوائد بے شمار ہیں ،تاہم اب اگر کسی سائنسی تحقیق میں آپ کو یہ بتایا جائے کہ دراصل،آپ کی دماغی اور جذباتی صحت کے لیے ورزش آپ کے اکنامک اسٹیٹس(معاشی حالت)سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے تو آپ کیا کہیں گے؟
آکسفورڈاور ییل یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تحقیق سے دراصل یہی بات ثابت ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

یہ تحقیق علم نفسیات کے بین الاقوامی جرنل’دی لینسنٹ‘میں شائع ہوئی ہے۔تحقیق میں سائنسدانوں نے امریکا کے 12لاکھ سے زائد باشندوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے ہیں ۔یہ سروے 18سال اور اس سے زائد عمر کے افراد سے 2011ء ،2013ء اور 2015ء میں کیا گیا۔سروے میں شامل افراد کی عمروں کے علاوہ صنف،نسل،ازدواجی حیثیت ،آمدنی ،تعلیمی قابلیت ،باڈی ماس انڈیکس ،عمومی جسمانی صحت اور ماضی میں ڈپریشن سے دوچار رہنے جیسے عوامل کو بھی مد نظر رکھا گیا تھا۔


سروے میں شامل افراد سے بنیادی سوال یہ کیا گیا تھا:”گزشتہ 30روز کے دوران آپ نے کتنی مرتبہ خود کو دماغی طور پر بیمار محسوس کیا ،جیسے کہ دباؤ کی وجہ سے ،ڈپریشن کی وجہ سے یا کسی دیگر جذباتی مسئلے کی وجہ سے ؟“
سروے میں شریک افراد سے ان کی جسمانی سرگرمیوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔جسمانی سرگرمی کے لیے انھیں 75سرگرمیوں میں سے انتخاب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا،جن میں لان کی کٹائی،بچوں کی دیکھ بھال ،گھر کا کام کاج،وزن اُٹھانا،سائیکل چلانا اور دوڑ نا شامل تھا۔


جسمانی طور پر زیادہ سرگرم زیادہ خوش
سائنسدانوں نے تحقیق سے پتہ لگا یا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے ورزش کرتے تھے ،انھوں نے سال میں تقریباً 35دن اپنے مزاج میں خرابی محسوس کی ،جب کہ جسمانی طور پرغیر سر گرم رہنے والے افراد نے سال میں 53دن خود کو ناخوش یا افسردہ محسوس کیا۔مزید برآں ،تحقیق کاروں نے سروے کے نتائج اخذ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لوگ جو سال بھر جسمانی سرگرمیوں اور ورزش میں خود کو مصروف رکھتے ہیں،وہ سال میں 25ہزار ڈالر سے زائد کمانے والے لیکن جسمانی طور پر غیر متحرک افراد کے برابر خوش رہتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو جو خوشی جسمانی طور پر سر گرم رہنے جیسے کھیلنے اور ورزش کرنے سے حاصل ہوتی ہے ،اس جیسی خوشی حاصل کرنے کے لیے جسمانی طور پر غیر متحرک رہنے والے افراد کو سالانہ کم از کم 25ہزار ڈالر کمانے پڑیں گے۔ تاہم ،سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کر نا چاہیے کہ آپ جس قدر زیادہ ورزش کریں گے،اتنی زیادہ خوشی محسوس کریں گے۔


زیادہ ورزش کے اثرات
تحقیق یقینا ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ورزش جسمانی اور دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کتنی ورزش سے مطلوبہ یا بہترین نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں کہ اگر اس سے زیادہ ورزش کی جائے تو الٹا اس کے منفی نتائج آنا شروع ہو جاتے ہیں۔تحقیق کے مصنف ییل یونیورسٹی کے ایڈم چیکر اؤ ڈ بتاتے ہیں کہ آپ کی جسمانی صحت اور ورزش کے دورانیے کے درمیان تعلق انگریزی کے لفظ Uکی طرح ہے ۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ورزش اور جسمانی سر گرمی کے آپ کی جسمانی اور دماغی صحت پرمثبت اثرات اس وقت ہی مرتب ہو سکتے ہیں،جب اسے مخصوص مدت کے لیے کیا جائے۔
تحقیق میں اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہر ہفتے 30منٹ سے ایک گھنٹے دورانیے کے تین سے پانچ سیشنز کے ذریعے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔مزید برآں،ایسی ورزش یا جسمانی سرگرمی،جیسے ٹیم اسپورٹس میں خود کو مصروف رکھنے والے افراد کی دماغی صحت دیگر ورزشیں کرنے والے افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر رہتی ہے۔

تاہم،اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایروبکس یا سائیکلنگ کرنے والے افراد کی دماغی صحت پر اس سر گرمی کا کوئی مثبت اثر نہیں ہوتا۔تحقیق کے مطابق، انفرادی ورزش کے بھی دماغی صحت پر بھر پور مثبت اثرات دیکھے جاتے ہیں اور یہ فوائد غیر متحرک رہ کر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
البتہ،زائد ورزش کے دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔در حقیقت ،سروے میں شامل وہ افراد جو روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ وقت ورزش میں گزارتے تھے ،ان کی دماغی صحت،غیر متحرک افراد کے مقابلے میں بھی کم تر پائی گئی۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-27

Your Thoughts and Comments