Maraqbe Main Kamyabi Kaise Hasil Ho

مراقبے میں کامیابی کیسے حاصل ہو

منگل فروری

Maraqbe Main Kamyabi Kaise Hasil Ho
روحانی سلسلہ سے وابستہ خواتین وحضرات کو تربیت کے لئے کن خصوصیات کی ضرورت پڑتی ہے ،اسے اپنی شخصیت میں مثبت نکھارپیدا کرنے کے لئے کن کن مراحل سے گزرنا پڑتاہے یہ سب باتیں جاننے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب میں الحمد اللہ اس کلاس سے بڑی معاونت مل رہی ہے۔روحانی سلاسل میں فردکی تربیت کے مختلف مراحل اور اعمال واشغال ترتیب دئیے جاتے ہیں۔

جن کا ذکر ہماری گفتگو میں ہوتا رہا ہے اور آگے بھی ہو گا۔لا شعوری معاملات کی تفہیم،باطنی نظر کو سمجھنے،باطنی تحریکات اور کیفیات کو سمجھنے کے لئے سلسلہ عظیمیہ میں سب سے زیادہ زور جس مشق پر دیا جاتا ہے․․․․․وہ مراقبہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے کوئی بھی فرد خواہ اس کا تعلق روحانی سلسلہ سے ہویا نہ ہو بہت سے فوائد حاصل کر سکتاہے۔

(جاری ہے)

مراقبہ سے فوائد تین مراحل میں حاصل ہو تے ہیں۔


1۔جسمانی
2۔ذہنی
3۔روحانی
یا لاشعوری
کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ مراقبہ کررہے ہیں لیکن انہیں کچھ نظر نہیں آتا اور نہ ان کی روحانی آنکھ کھلی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم اس مشق کو ٹھیک طرح سے کررہے ہیں یا نہیں۔اگر اس مشق کو ٹھیک طرح سے سر انجام دیا جارہا ہے،اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے تو نتائج نہ ملنے کی وجوہات کا جائزہ لینا چاہیے۔


مثال:ہم اپنے بچے کو پرائمری سکول بھیجتے ہیں۔ایک سال گزر جائے اور بچے کو ABCDبھی نہ آئے تو ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ کیا سکول میں صحیح طریقے سے نہیں پڑھایا جارہا یا بچہ ہی ٹھیک طرح نہیں پڑھ رہا۔ بالکل اسی طرح مراقبہ کا معاملہ ہے۔مراقبہ کر نے سے پہلے کچھ ہدف مقرر کیے جا سکتے ہیں کہ ہمیں اتنے دن کے مراقبہ میں یہ نتائج حاصل ہونا چاہئیں۔

سب سے پہلا نتیجہ مراقبے کے جسمانی اثرات ہیں۔ مراقبہ کرنے والے شخص کو اگر وہ ٹھیک طرح سے مراقبہ کررہا ہوتو ،سب سے پہلے جو نتیجہ ملنا چائیے وہ نیند میں بہتری ہے۔بیس سے تیس منٹ مراقبہ کرنے سے یہ فائدہ ہوتاہے کہ نیند بہت اچھی اور گہری ہو جاتی ہے اور اس دوران جسم کی ریپئرنگ(Repairing)اور مینٹیننس(Maintenance) کا جو قدرتی نظام ہے وہ زیادہ فعال اور متحرک ہو جاتاہے۔


اس کے نتیجے میں مراقبہ کرنے والا فرد فریش رہتاہے۔بے خوابی یا کم خوابی کے کئی مریضوں میں مراقبہ سے علاج کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔یہاں تک کہ کچھ عرصہ بعد ان مریضوں کی نیند کی دوائیں بتدریج کم ہونا شروع ہو گئیں۔روحانی علوم کے حصول میں سالکین کو کم کھانے،کم بولنے اور کم سونے کی ہدایت کی جاتی ہے۔اگر کوئی فرد اپنی نیند کا دورانیہ آٹھ گھنٹے سے کم کرکے چھ گھنٹے کرنا چاہے تو اس کی صحت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں جبکہ مراقبہ کرنے والا شخص آدھے گھنٹے کا مراقبہ کرکے دو گھنٹے تک کی نیند کے فوائد حاصل کر سکتاہے۔

مراقبے کے پہلے نتیجے کے طور پر نیند اور جسمانی نظام میں بہتری آنی چائیے۔
مراقبے کا دوسرا نتیجہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بہتری ہے،مثال کے طور پر ارتکاز توجہ میں اضافی،ذہنی یکسوئی ہونا یا ذہنی انتشار سے نجات ملنا۔ذہنی یکسوئی میں اضافہ قوت ارادی اور خود اعتمادی میں اضافہ کا ذریعہ بنتاہے۔کسی ماہرین رہنمائی کے ساتھ مراقبہ کرنے سے تقریباً چھ ماہ میں آدمی کی شخصیت میں نمایاں تبدیلیاں آنی چاہئیں۔

اگر مقررہ وقت میں نتائج حاصل نہیں ہورہے یا ان مسائل سے چھٹکارا نہیں مل رہا کہ اس فرد کو تجویز کیا جائے کہ وہ اپنے گائیڈسے رہنمائی حاصل کرے۔
مراقبہ کا ایک نتیجہ روحانی وباطنی ترقی ہے۔مراقبہ کے ذریعے باطنی نظر کا کھلنا․․․․․اس مقصد کے لئے کافی زیادہ مدت درکار ہے۔بعض طالب علم یہ سوچتے ہیں کہ وہ صرف آنکھیں بند کرکے بیٹھیں گے اور کام ہو جائے گا ․․․․ایسا ہر گز نہیں ہے۔

اس مقصد کے لئے طویل عرصہ صحیح طور پر ریاضتوں کی ضرورت ہے۔اس کے لئے انسان کا اعلیٰ ظرف ہونا،نیک نیت ہونا بہت ضروری ہے۔اگر کم ظرف یا بدنیت شخص کی نظر کھل جائے تو وہ خیر کے بجائے شر کی طرف جا سکتاہے۔کئی لوگوں کے اندر خود ستائشی کا جذبہ بہت زیادہ ہوتاہے۔اس جذبے کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔
لاشعوری کیفیات میں باطنی نظر کھلنا بہت بڑی ایک نعمت ہے۔

اس کے لئے سلاسل طریقت میں ریاضتیں مجاہدے تجویز کیے جاتے ہیں ۔تذکیہ نفس کی مشقوں کے لئے کئی مراحل سے گزرنا ہوتاہے۔اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔مراقبے کے جسمانی اور ذہنی اثرات یا نتائج تو بہت جلدی مل سکتے ہیں ۔ہمیں پہلے ان نتائج کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ ہمیں اندازا ہو سکے کہ ہمارا مراقبہ کس حد تک درست ہورہا ہے۔ اس کا جائزہ لینا آسان ہے ہم اپنی جسمانی عمومی صحت کو دیکھیں،پر سکون نیند کے دورانیے کو نوٹ کریں۔

اسی طرح خود اعتمادی ،قوت ارادی ،ذہنی یکسوئی،یاداشت کی بہتری ،قوت مدافعت میں اضافہ ،امیونٹی جو انسان کے اندر ہوتی ہے اس میں اضافے کا جائزہ لیں۔ پابندی سے مراقبہ کرنے والے لوگ کی امیونٹی بہت اچھی ہوجاتی ہے۔ مراقبہ کے ذریعے آپ کی صحت اچھی ہونی چائیے۔آپ کی قوت مدافعت میں اضافہ ہونا چاہئے۔آپ کے ذہنی ارتکازconcentrationمیں اضافہ ہونا چائیے۔ مقصد خواہ جسمانی صحت کی بہتری ہو یا ذہنی و نفسیاتی فوائد کا حصول یا باطنی نظر کی بیداری مطلوب ہو۔ سوال یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک یا تینوں مقاصد کے لئے مراقبہ میں کامیابی کیسے حاصل ہو․․․․؟
تاریخ اشاعت: 2020-02-04

Your Thoughts and Comments