Sehatmand Life Style

صحت مند لائف سٹائل

Tasveer Ahmad تصویر احمد بدھ مئی

Sehatmand Life Style
ترقی یافتہ معاشروں میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ۔ایسے معاشروں میں صحت مند لوگوں کا تناسب بیمار لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے اور اِن مُمالک کے ہسپتال اور ڈسپینسریاں ویران ،جبکہ پارکوں اور سیر گاہوں میں رش دکھائی دیتاہے۔اِیسی جگہوں پر ایک طرف تو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں وہیں دوسری طرف لوگوں میں صحت کے متعلق آگاہی اور صحت مند طرزِزندگی (Healthy Lifestyle)کو پروموٹ کیا جاتا ہے ، جبکہ ترقی پذیراور غیر ترقی یافتہ مُلکوں میں زیادہ تر صحت کی سہولیات کے فقدان کو زیرِ بحث لایا جاتاہے اور لوگوں میں صحت کے متعلق شعور اُجاگر نہیں کیاجاتا۔

لوگوں میں صحت مند طرزِزندگی کی آگاہی کے بغیر صحت کی سہولیات کی فراہمی کی مثال ایسے ہی ہے جیساکہ ایک بالٹی میں پانی بھرا جارہا ہوجبکہ اُس بالٹی میں کوئی سوراخ موجود ہوجس سے پانی بہہ بھی رہا ہو۔

(جاری ہے)

ایسے میں صحت کے مسائل پر قابو پانے کے لئے جو بھی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے وہ ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۔
اس لیے صحت مند معاشروں کے پروان چڑھنے میں ، میں پہلی ذمہ داری اُس معاشرے میں بسنے والے لوگوں پرعائد ہوتی ہے ۔

اُس معاشرے میں بسنے والے لوگ، اُنکی تہذیب وتمدن، اُن کا طرزِزندگی اور اُنکی روایات ،اُس معاشرے کی سمت کا تعین کر تی ہیں، مثلاً صحت مند معاشروں میں بیماری پر قابو پانے سے پہلے لوگوں میں اس بیماری سے متعلق آگاہی ، حفاظتی تدابیر اور جلد تشخیص پر بات کی جاتی ہے ۔لوگوں کو اُس بیماری سے بچاؤ کے طریقے بتائے جاتے ہیں ۔مثال کے طور پر سنگاپور کا ہیلتھ سسٹم دنیا کے بہترین سسٹم میں سے اِیک ہے لیکن پھر بھی سنگاپور کے میٹرو ٹرینوں، بسوں اور بس سٹاپ پر ذیابیطس اور بلڈپریشر کنٹرول سے متعلق آگاہی پوسٹرز دکھائی دیتے ہیں۔

اِسی طرح ہانگ کانگ (Hong Kong)کے عوامی مقامات (public places)پر بھی بلڈ پریشر اور (pregnancy care)کے متعلق معلومات اور پوسٹرز آویزاں دکھائی دیتے ہیں۔
صحت مند لائف سٹائل میں دوسرا اہم کردار کھانے سے متعلق ہے جس میں کھانے کی مناسب مقدار اور معیار ہے ۔ چائنہ سمیت مشرقی ایشیائی مُلکوں (ملائیشیا، سنگاپور، جاپان، کوریا ) اور دیگر یورپی مُمالک میں لنچ کی ٹائمنگ دوپہر 12:00-01:30کے درمیان ہوتی ہے جبکہ ڈنر کی ٹائمنگ شام (06:00-07:30)کے درمیان ہوتی ہے ۔

اِن ممالک کے لوگ اگر رات کو ڈنر سے لیٹ ہو جائیں تو وہ بغیر کھانا کھائے سو جاتے ہیں ۔میڈیکل سائنس نے بھی اِس چیز کا انکشاف کیا ہے کہ رات کو دیر سے کھانا کھانا اورکھانے کے فوراًبعد سونا بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے ۔شام کو جلد کھانا کھانے کی وجہ سے رات کو سونے کے وقت تک کھانا ہضم ہو جاتا ہے اور نیند کا تسلسل بھی برقرار رہتا ہے۔اِسی طرح ترقی یافتہ مُمالک کے لوگ صبح جلد ناشتہ کرتے اور ناشتہ میں فائبر (دلیہ،کیلا)لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

درحقیقت ہمیں زندہ رہنے کیلئے زیادہ کھانے یاپیٹ بھر کرکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی ، ہمارا زیادہ کھانا موٹاپے اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔اِسی طرح کھانے کا معیار صحت مند زندگی کا ضامن ہوتا ہے۔ کورین ،جاپانی اور دیگر مشرقی ایشیائی مُلکوں کے لوگوں کی دُبلاپتلا اور چست ہونے کی وجہ اُنکی کم تیل اور اُبلی ہوئی اشیا ء کا اِستعمال ہے،جیسا کہ اِن ممالک میں زیادہ تر چاول(Rice eating nations)کھائے جاتے ہیں اور یہاں کا Staple Foodبھی چاول ہیں۔

چاول کے ساتھ ساتھ اِن مُمالک میں مچھلی اور اُبلی ہوئی سبزیاں کھائی جاتی ہیں۔جبکہ اِسکے برعکس ہمارے زیادہ تر کھانے مرچ مصالحہ دار(Spicy)اور تیل والے (Oily)ہوتے ہیں۔ہم لوگ گوشت (Red Meat) زیادہ استعمال کرنے والے مُمالک میں شامل ہیں۔ ہماری خوراک میں سبزیوں ،دالوں اور میوہ جات کا اِستعمال بھی کم ہوتا جارہا ہے۔پوری دنیا میں چائے سے مرادقہوہ (بغیر دودھ) تصور کیاجاتا ہے ،جبکہ ہمارے والی چائے کیلئے Milk Teaکہہ کر طلب کرنا پڑتا ہے اور دودھ والی چائے کونسبتاًluxuryاورغیر صحت مند مشروب تصور کیاجاتاہے۔


اِسی طرح صحت مند لائف سٹائل کے حامل مُمالک میں ورزش اوردیگر Physical activitiesعام دکھائی دیتی ہیں ۔لوگ صبح،شام اور رات کے وقت پارکس ،جم خانوں، دریا کناروں اور جاگنگ ٹریکس پر ورزش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ایسی جگہوں پر hikingاور cyclingکو باقاعدہ پروموٹ کیا جاتا ہے ۔ ایمسٹرڈیم (Amsterdam)کوWorld's Cycling Capitalکہا جاتا ہے جہاں سائیکلوں کی تعداد لوگوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

نیدرلینڈ کے بعد ڈنمارک اور جرمنی میں سب سے زیادہ سائیکلوں کا اِستعمال کیا جاتا ہے جو کہ ایک صحت مند طرزِزندگی کو ظاہر کرتاہے۔
صحت مند لائف سٹائل کے اکثر لوگ Yogaاور meditationکرتے دکھائی دیتے ہیں۔Yogaکا لفظی مطلب ہوتاہے ترتیب دینا،یعنی اپنے دماغ کو ترتیب دینا(harness the mind)۔یوگاکے پاپولر مُلکوں میں انڈیا، سپین، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ ملتے ہیں جہاں بہت سی یوگا destinationsاور یوگا ٹرینرز ہیں۔

آجکل یوگا اور meditationایک مُکمل تھر اپی کی شکل اختیارکر چُکی ہیں۔
آخر میں ،میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میری اِس تحریر کا مقصد لوگوں میں صحت مند لائف سٹائل سے متعلق آگاہی اور اپنی عادات واطوار کا جائزہ لینا ہے کہ قارئین کس طرح صحت کے اُصولوں پر عمل پیرا ہو کرصحت مند زندگی اختیار کر سکتے ہیں۔کیونکہ ایک بیمار شخص صرف اپنے لیے بیمار نہیں ہوتا،اُس بیمار شخص پر بہت سا سرمایہ اور بہت سے صحت مند لوگوں کی محنت اور توجہ درکا ر ہوتی ہے۔میری خداتعالیٰ سے دُعا ہے کہ خداتعالیٰ آپ سب کو صحت مند رکھے، آمین۔شکریہ
تاریخ اشاعت: 2020-05-06

Your Thoughts and Comments