Warzish Bohat Zaroori Hai

ورزش بہت ضروری ہے۔۔تحریر: صائمہ نواز

Warzish Bohat Zaroori Hai
خواتین و حضرات اگر زندگی سے پیار ہے تو ورزش کیجئے اور اپنے آپ کو چلتا پھرتا رکھئے ورنہ بہت جلد آپ کی صحت آپ کو زندگی کی دوڑ سے چلتا کر دے گی۔ وہ دن گئے جب ورزش ہماری گفتگو کی بجائے ہماری زندگی میں اس طرح جاری و ساری رہتی تھی کہ ہمیں خود بھی اس کا علم نہیں ہوتا تھا۔مگر آج کی زندگی نے اتنی سہولتیں دی ہیں کہ ہم پیدل چلنا تو تقریبا بھول ہی گئے ہیں صرف بطور ورزش کبھی کبھار چلنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔

یہی حال سیڑھیاں چڑھنے اترنے اور گھر کے کام کاج کا ہے کہ ہر طرف مشینوں کا راج ہے۔ان مشینوں نے ہمیں آرام، وقت کی بچت اور سہولتوں کے ساتھ ساتھ بے تحاشا وزن اور لاتعداد بیماریاں بونس کے طور پر دی ہیں ۔ اس چیز کا ہمیں احساس تو ہے مگر اس کے تدارک کے لیے ہم کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے پہلے تو یہ مفروضہ تھا کہ ورزش صرف بڑی عمر کے لوگوں کے لیے ہی ضروری اور فائدہ مند ہے لیکن اب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ورزش تو بچپن سے ہی ضروری ہے۔

(جاری ہے)

کیونکہ اب تو صحتمند بچوں کی بجائے دو قسم کے بچے نظر آتے ہیں۔لاغر یا پھر موٹاپے سے ہانپتے ہوئے۔ ایسے بچے ورزش کرتے تو ہیں مگر اول الذکر کھانے کی ہر آفرپر سر دائیں سے بائیں ہلانے کی اور ثانی الذکر ہر وقت منہ چلانے کی وہ بھی ٹی وی یا کمپیوٹر کے آگے بیٹھے بیٹھے۔ ہاں والدین گاہے بگاہے انھیں باہر سیر پر بھی لے جاتے ہیں۔ مثلا کسی شاپنگ مال یا تفریحی پارک میں جہاں ایک دو گھنٹے کی مست خرامی بلکہ سست خرامی کے بعد فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کے ڈبے تھامے ہوئے شاداں و فرحاں گھر کو لوٹتے ہیں کہ اچھی خاصی واک یعنی ورزش کر آئے۔

یہی حال بیگمات کا ہے جو اپنی آرام طلبی کے ہاتھوں اپنا وزن بڑھا لیتی ہیں جس کی فکر انھیں اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے سے کم وزن کی کسی خاتون کو دیکھتی ہیں اور پھر اس غم کو غلط کرنے کیلے کھانے پینے کا ہی سہارا لیتی ہیں۔ یہ اپنے بڑھے ہوئے وزن کی فکر کو بھی اس طرح سے اپنے اوپر سوار کر لیتی ہیں جس طرح بڑھا ہوا وزن۔ اور اس زائد وزن اور اس کی فکر کے ساتھ سوتی جاگتی،اٹھتی بیٹھتی،اور کھاتی پیتی رہتی ہیں۔

لیکن مجال ہے جو ان دونوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کسی سنجیدہ کوشش کا آغاز کر لیں۔ ہاں ٹی وی اور رسائل وغیرہ میں نازک اندام حسینائیں دیکھ دیکھ کر دل میں ان جیسی بننے کا شوق ٹھاٹھیں مارتا رہتا ہے اور اس شوق کے ہاتھوں ورزش کرنے کی مختلف مشینیں بھی لا کر گھر کی زینت بنا دی جاتی ہیں۔ جو چند دن کے استعمال کے بعد کپڑے پھیلانے اور سکھانے کے کام آتی ہیں۔

ایسی خواتین کے لئے فوری وزن کم کرنے کا ایک "کارگر" نسخہ یہ ہے کہ میک اپ کا استعمال فورا سے پیشتر چھوڑ دیں۔گارنٹی کے ساتھ چند کلو گرام وزن فوری کم ہو جائے گا۔ اس میں کچھ کمی تو کاسمیٹکس "تھوپنے" سے گریز کے باعث ہو گی مگر ذیادہ کمی میک اپ کے بغیر اپنا چہرہ دیکھنے سے ہونے والے گہرے شاک کے باعث ہو گی اگر صرف زبان چلانے کی ورزش یعنی بولنے سے وزن کم ہو سکتا تواس روئے زمیں پر شاید کوئی بھی فربہ یا زائد وزن والی خاتون نظر نہ آتی۔

مگر،" اے بسا آرزو کہ خاک شد۔" بہرحال امید پر دنیا قائم ہے۔ بڑھے ہوئے وزن کو گھٹانے اور قابو میں رکھنے سے پریشان لوگ اگر کسی دعوت میں مدعو ہوں تو کھانے کے وقت ان کی لبالب بھری پلیٹیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ نہ صرف میزبان سے بلکہ اپنے آپ سے بھی سخت ناراض ہیں اس لیے دونوں کا نقصان بیک وقت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ورزش نہ کرنے کے نقصانات تو ظاہر ہے ورزش نہ کرنے والے ہی بھگتتے ہیں لیکن ان کی ورزش نا کرنے کے فائدے جی ہاں !فائدے کئی دوسرے لوگ اٹھاتے ہیں۔

مثلا پہلے نمبر پر۔ ڈاکٹر،حکیم اور جم انسٹرکٹرز حضرات کہ ان موٹاپے کے ہاتھوں ستائے ہوئے لوگوں کے دم سے ہی کلینک،مطب اور جم پر رونق اور آباد ہیں۔دوسرے نمبر پر آجاتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات وغیرہ کہ جن کو ملنے والے اشتہارات نصف سے ذیادہ مٹاپا کم کرنے اور مٹاپے سے ہونے والے امراض کو دور کرنے والی ادویات وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔

گویا کہ مٹاپا کئی لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔تو داغوں کے علاوہ اب موٹاپے کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں کہ "مٹاپا تو اچھا ہوتا ہے اگر دوسروں کا ہو۔" قصہ مختصر ورزش کی اہمیت سے سب آگاہ ہیں۔ اور ورزش کرنا بھی چاہتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ ورزش اور وہ بھی باقاعدہ کر سکے۔ ایسے میں یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ،"کاش کوئی ایسی مشین ایجاد ہو جائے جو سونے ،ٹی وی اور نیٹ استعمال کرنے اور کھانے پینے سے شغل کے دوران ہمیں ورزش کرا تی رہے اور سمارٹ بنا دے۔

"غور کرنے کی بات ہے ہمارے پاس ٹی وی،کمپیوٹر،سیل فون استعمال کرنے کے لئے وقت ہی وقت ہے۔ فون پر ہم گھنٹوں مشغول رہہ کر "غیبت" کے ذریعے لوگوں کے گناہ کم کر سکتے ہیں۔ مگر اپنا فالتو وزن کم کرنے کے لیے ہمارے پاس روزانہ کے پندرہ بیس منٹ بھی نہیں ہیں۔ زائد وزن کے ستائے ہوئے لوگوں سے عرض ہے کہ اس مسئلے پر سوچنا چھوڑئیے کہ سوچنے سے صرف دماغ ہی سمارٹ اور ایکٹو رہتا ہے۔ جسمانی طور پر سمارٹ بننے کے لیے آج ہی سے ورزش کا آغاز کر دیں۔(یہ جدہ میں قیام کے دوران لکھا گیا تھا۔اس لیے وہاں کے ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔لیکن اب پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی حالات کم و بیش ایسے ہی ہیں)
تاریخ اشاعت: 2019-05-11

Your Thoughts and Comments