بند کریں
صحت مضامینورزشورزش اور جنسی صلاحیت

مزید ورزش

- مزید مضامین
ورزش اور جنسی صلاحیت
جنسی وظیفہ طاقت اور قوت برداشت کا کھیل ہے جو آپ کے عضلاتی دماغی اور قلبی نظام سے بھاری مطالے کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد قدرے تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے
پروفیسر ڈاکٹر لارنس:
ورزش کا جوفوری اثر آپ کی جنسی کارکردگی پر دیکھنے میںآ تا ہے وہ ایک تو جنسی فعل کا تھوڑے وقفے کے بار بار وقوع پذیر ہوسکنا اور دوسرے اس کے معیار لی بلندی ہوتی ہے آپ کے متعلقہ اعضاء کی جس میں تیزی آنے سے جذبات میں ایک طلاطم برپا ہوجاتا ہے ۔ تھکے ہارے اور پلپلے ہونیکی صورت میں آپ کی کارکردگی بھی پست رہے گی۔لیکن صرف حساس مشینری کا ہی معاملہ نہیں ۔ جنسی وظیفہ طاقت اور قوت برداشت کا کھیل ہے جو آپ کے عضلاتی دماغی اور قلبی نظام سے بھاری مطالے کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد قدرے تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن اس کا سب سے نمایاں فعلیاتی اثر یہ ہوتا ہے کہ دوران خون اور فشار خون ، دونوں میں وقتی تیزی آجاتی ہے اور اگر آپ فٹ نہیں ہونگے تو اس کی کامل ادائیگی میں ناکام رہیں گے۔ایک دن ہسپانوی زبان کے پروفیسر جنکا نام البرٹو تھا ، انکی اہلیہ میرے پاس آئیں اور اپنا دکھڑا یوں سنایا۔ البرٹو سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ پڑھانے ، ریسرچ اور مختلف کمیٹیوں کاکام کرنے کے بعد جب وہ رات کو گھر آتا ہے تو ایک کتاب لکھنے بیٹھ جاتا ہے ۔ عمومی طور پر وہ بہت تھکا ہوا ہوانے کی وجہ سے میز پر اونگھتا رہتا ہے ۔ لیکن جب سونے کی کوشش کرتا ہے تو نیند اس سے کوسوں دور بھاگ جاتی ہے۔ ہمارے ازداجی تعلقات شادی کے صرف پہلے سال تک ہی اچھے رہے۔ اب چھٹیوں کے علاوہ باقی دنوں میں مجھے احساس محرومی سے گرزنا پڑتا ہے۔ کیا آپ اس بارے میں میری کوئی مدد کرسکتے ہیں، میں کہا آپ البرٹو کو میرے پاس بھیجیں۔ وہ اگلے ہی روز آگیا میں نے اس کو اپنے فٹنس پروگرام میں شامل کرلیا۔ جسمیں ہر پروفیسر کو اس کی ضرورت کے مطابق ورزش کے علاوہ کچھ جماسٹک سے ملتی جلتی کاروائیاں اور تیرنا بتایا گیا تھا۔ تیرنے سے پروگرام ذرا سا طویل ہوجاتا تھا۔ البرٹو کو اسکی جنسی کمزوری کیلئے خاص طور پر کچھ نہ دیا گیا کیونکہ اس کو ضرورت ہی نہیں تھی۔ صرف چند ہفتوں کے کورس سے ہی وہ بالکل ٹھیک ہوگیا۔ جس پر اس کی بیوی بڑی خوش اور میری شکر گزار تھی۔ البرٹو کو ایک نئی توانائی کے علاوہ اپنے مردانہ پن کا خصوصی احساس ملا ۔ اس کے ناکارہ پٹھے دوبارہ کارگر اور مضبوط ہوگئے اور وہ خود کو آئینے میں دیکھ کر پھولا نہ سماتا تھا۔ جب کوئی دل کے دورے یا کسی اور کمزور کردینے والے عارضے کی وجہ سے نقل وحرکت سے محروم ہوجاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس وقت تک پوری طرح صحت یاب نہیں سمجھتا جب تک اس کی جنسی صلاحیت دوبارہ بحال نہیں ہوجاتی۔ اگر وہ مقاربت نہ کرسکے تو وہ اپنے آپ کو ٹھیک نہیں سمجھتا جنسی صلاحیت دوبارہ بحال ہونے تک۔ جب وہ اس کے قابل ہوجاتا ہے تو سب اچھا لگنے لگتا ہے۔ حتیٰ کے صحت مند لوگوں میں بھی مردانگی یا نسوانیت کا معیار جنسی اہلیت ہی ہوتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک صحت مند شخص”بیماریوں سے محفوظ“ بھی جنسی لحاظ سے فٹ نہ ہوا اور حیرت انگیز طور پر اس کا الٹ بھی عین ممکن ہے۔ میرے وسیع تجر بے میں تو یہ آیا کہ ڈھلی ہوئی عمر کے لوگوں میں پائی جانے والی یاسیت کو ورزش کافی کم کرتی ہے اور فٹنس جتنی بہتر ہو جنسی اہلیت بھی اتنی ہی تسلی بخش ہوگی۔ خواہ بڑھاپا بھی آگیا ہو۔ اگر آپ بحیثیت انسان اپنے آپکو پسند کرتے ہیں تو دوسروں سے روابط بڑھانا اتنا ہی آسان ہوگا۔ آپ کی خواہش ہوگی کہ لوگ آپ کو تعریف بھری نظروں سے دیکھیں آپ کے قریب آئیں اور آپ سے تعلقات بڑھائیں۔ اگر آپ اپنے بارے میں ہی اچھا تاثر نہیں رکھتے تو آپ میں دوسروں کو متاثر کرنے والئے آثار ہی ہوتے جسے عرف عام میں جنسی کشش کہا جاتاہے۔ صرف ورزش کرنے سے خواہ تھوڑی ہی ہو، آپ کو زندگی میں کئی خوشیاں مل سکتی ہیں مثلاََ آپ اپنی اصل عمر سے کم نظر آئیں ، بہتر محسوس کریں اور شاید ورزش نہ کر نے کی نسبت زیادہ عمر پائیں۔ اس کے برعکس ورزش نہ کرکے آپ دوسروں کے محتاج ہونے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ کیونکہ جب بھی تھوڑی سی جسمانی مشقت کی ضرورت پڑے گی آپ دوسروں کی جانب دیکھنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اور اگر کوئی آپ کی مدد کو نہ آئے تو آپ کو شدید احساس محرومی کے زیر اثر اندازہ رہنا محال ہوجائے گا۔ میرے خیال میں تو ایسا تصور ہی ہولناک اور بھیانک ہے ۔ آپ کا خیال ہے؟ ہاں اگر آپ کو مذکورہ بالا صورتحال کے متبادل ماحول میسر آجائے تو آپ کی زندگی بہت بہتر گزرے گی۔ آپ کی فعلیاتی صحت ٹھیک ہونے سے آپ کا دل خود بخود ورزش کرنے کو چاہے گا۔ تاکہ فٹنس حاصل ہوسکے۔ اور قدرت نے بڑی فیاضی سے کام لیتے ہوئے انسان کو ماحول کے مطابق ڈھل جانے کی شاندار صلاحیت عطا کی ہے تاکہ آپ چند یوم میں ہی اتنی فٹنس حاصل کرلیں کہ جسمانی آزمائش کے مقابلے میں ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔ آپ سوچیں کہ اگر بہتر محسوس کرنا اور نظر بھی آنے کے علاوہ شاید طویل عمر پانا بھی کافی دلیل نہیں تو ایک اور بات پر غور کریں کہ ورزش ہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ آپ مستقبل طور پر اس فالتو چربی اور موٹاپے سے بے ضررطور پر جان چھڑا سکتے ہیں۔ جو آپ نے کاہل اور سست رہ کر سوہان روح بنالی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے