Werzish Kin Kin Bimarion Se Bachati Hai? Janye

ورزش کن کن بیماریوں سے بچاتی ہے؟جانئے

Werzish Kin Kin Bimarion Se Bachati Hai? Janye

عباد الرحمن
دنیا بھر کے طبی ماہرین صحت مند رہنے اور بیماریوں سے بچنے کے لیے ورزش پر زور دے رہے ہیں ۔ان ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید سہولتوں نے انسانی زندگی میں آسانیاں تو پیدا کی ہیں لیکن انسان کی صحت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔وہ دن بہ دن پُر آسائش زندگی گزارنے کا عادی اور غیر متحرک ہورہا ہے جس کے باعث اسے نہایت ہی سنگین قسم کے عارضے گھیر رہے ہیں ۔


جدید طرززندگی موٹاپے کا باعث بھی بن رہا ہے ۔ماہرین کہتے ہیں کہ ورزش نہ صرف موٹاپے سے نجات دلاتی ہے بلکہ عمر کے ہر حصے میں حد تو یہ ہے کہ بڑھاپے میں بھی انسان کو صحت مند رکھتی ہے ۔ورزش کئی امکانی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے اور عمر رسیدگی کے نقصانات کم کرتی ہے ۔باقاعدہ ورزش کرنے والے لوگ عمر کے ہر حصے میں اپنے ہم عمروں سے بہتر زندگی گزارتے ہیں ۔

(جاری ہے)


بچے ہر وقت کھیلتے کود تے رہتے ہیں اور کبھی چین سے نہیں بیٹھتے۔یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف توانا دکھائی دیتے ہیں بلکہ تندرست بھی رہتے ہیں ۔بڑے ہو کر یہی بچے سست پڑجاتے ہیں کھیلنے کود نے کی عادت جاتی رہتی ہے ۔انسان اپنے اوپر بڑھاپا خود طاری کرتا ہے ۔جس طرح کسی مشین کو استعمال کرتے ہیں تو وہ چلتی رہتی ہے لیکن جب بند کردیں تو اس میں زنگ لگ جاتا ہے ۔

اسی طرح جب تک انسان چلتا پھرتا رہتا ہے متحرک رہتا ہے اور تندرست رہتا ہے ۔
ورزش کے لیے رہنمائی بھی ضروری ہے خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو اپنے موٹاپے سے نجات چاہتے ہیں یا پھر خود کو جسمانی طور پر قابل رشک بنانا چاہتے ہیں ۔
ایک عام صحت مند فرد چہل قدمی،باغبانی،تیراکی یاسائیکلنگ وغیرہ سے خود کو صحت مند رکھ سکتا ہے لیکن ضروری ہے کہ ورزش کو عارضی طور پر نہ اپنایا جائے ۔

چہل قدمی بھی شروع کی جائے تو معالج یا تربیت یافتہ شخص کے مشورے سے ۔کچھ لوگ ادھیڑ عمری میں چہل قدمی شروع کرتے ہیں اور ابتداء ہی میں انتہائی فاصلہ طے کرکے ناصرف خود کو تھکالیتے ہیں بلکہ پیدل نہ چلنے کی عادت کے باعث اپنے پیروں کو اکڑالیتے ہیں ۔ورزش ہمیشہ مرحلہ وار شروع کرنی چاہیے۔
اگر معالج نصف گھنٹے روز چہل قدمی کا مشورہ دے تو ا س پر عمل ضرور کریں لیکن اس چہل قدمی کو مشقت نہ بنائیے،بلکہ ذہن کو ہلکا پھلکا رکھ کر چہل قدمی سے لطف اندوز ہوں ۔

ضروری نہیں کہ آپ پہلے ہی دن نصف گھنٹہ چہل قدمی کریں ۔اگر آپ پندرہ سے بیس منٹ میں تکان محسوس کرنے لگیں تو چہل قدمی کا سلسلہ بند کردیں ۔طویل عرصہ تک ورزش نا کرنے والوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنی ورزش کا وقت رفتہ رفتہ بڑھائیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ ورزش کرنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقے اپنائیں تو اس سے ناصرف آپ تندرست وتوانار ہیں گے بلکہ جسمانی نقصان کا احتمال بھی نہیں رہے گا۔


پاؤں کی جانب جھکیں اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر لگائیں ۔پھر سیدھے کھڑے ہوں اور بائیں طرف یہ عمل دہرائیں۔ خیال رہے کہ دونوں گھنٹے نہ مڑیں اور کہنیاں بھی نہ مڑنے پائیں۔ ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو زمین پر لگانے کی کوشش کریں ۔پیٹ کے لیے یہ ورزش بہت اچھی ہے ۔
عموماً خواتین کو بڑھے ہوئے پیٹ کے بہت سے مسائل درپیش ہوتے ہیں اور وہ اس سے نجات کے لیے طرح طرح کے ٹوٹکے استعمال کرتی رہتی ہیں ۔


بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کے خواہش مندافراد کے لیے یہ ورزشیں مفید ہو سکتی ہیں ۔
زمین پر بائیں طرف کی کروٹ پر لیٹ جائیں اور اپنا وزن بائیں کہنی پر ڈال لیں ۔اپنا دایاں گھٹنا پیٹ کے ساتھ لگائیں اور اب بائیں ٹانگ کو اٹھا کرسیدھا کریں ۔جہاں تک ہو سکے اپنا دایاں ہاتھ بھی دائیں ٹانگ کی طرف کھینچیں یہ عمل ایک سائیڈ پر تین مرتبہ دہرائیں پھر دوسری طرف بھی یہی عمل کریں ۔


بائیں طرف لیٹ کر اپنا وزن بائیں کہنی پر ڈالیں اور دائیں ٹانگ اور دایاں ہاتھ دونوں اوپر کی طرف اٹھائیں اور کھنچاؤ محسوس کریں پھر دائیں طرف کی کروٹ پر لیٹ کربائیں ٹانگ اور ہاتھ اوپر اٹھائیں ۔
زمین پر بالکل سیدھا لیٹیں ۔پھر کمر کو اٹھا کر دونوں ہاتھوں پر رکھیں اور ٹانگوں کو اندر کی طرف کھینچ کر انگو ٹھوں پر توازن قائم کریں ۔

زمین سے صرف کہنیوں تک بازو اور پاؤں کی انگلیاں چھونی چاہئیں ۔
یہ ورزش رانوں اور پیٹ کے لیے مفید ہے ۔زمین پر سیدھا لیٹیں ،کمر کو ہاتھوں پر رکھیں اور اپنا سارا جسم اوپر کو اٹھالیں ۔صرف کندھے زمین کو چھوئیں ۔بائیں ٹانگ کو سیدھا رکھیں اور دائیں ٹانگ کو موڑ کر پیٹ تک لائیں اور پاؤں کا رخ بائیں ٹانگ کے گھٹنے کی طرف رکھیں ۔اسی طرح دوسری ٹانگ کے ساتھ بھی یہی عمل ددہرائیں ۔


یہ ورزش کمر،بازو اور رانوں کے لیے مفید ہے ۔اگر چہ ذراسی مشکل ہے ۔دونوں ٹانگیں فاصلے پر رکھ کر زمین پر لیٹ جائیں ۔بایاں بازو سر کے اوپر لے جا کردائیں طرف کو مڑ جائیں کہ کمر میں کھنچاؤ محسوس ہو ۔پھر دوسرا بازو اوپر لا کر بائیں طرف مڑجائیں ۔
پٹھوں کے لیے مفید ورزش
یہ ورزش پیٹ کے پٹھوں کے لیے مفید ہے ۔زمین پر لیٹ جائیں پھر ہاتھ اور پاؤں دونوں کو کھینچتے ہوئے بیٹھنے کی کوشش کریں ۔

پاؤں کے انگوٹھے اور ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک ہی رخ کی طرف کھینچیں ۔دو سیکنڈ تک رکیں پھر لیٹ جائیں اب دوبارہ رکیں ۔پہلے بائیں طرف کو شش کریں پھر دائیں طرف ․․․․․․!
اپنی بائیں طرف پر لیٹیں ،سر اور کندھوں کو سیدھا رکھیں ۔اپنے جسم کا وزن بائیں ہاتھ پر رکھیں اور ہاتھ کو منہ کے سامنے رکھیں ۔اب اپنی سیدھی ٹانگ کو جہاں تک جا سکے اوپر لے جائیں اسی طرح دس بارہ مرتبہ کریں ۔

یہی عمل دوسری طرف بھی دہرائیں ۔
زمین پر الٹا لیٹیں ،سر کو اٹھائیں اور دونوں بازوؤں کو آگے کی طرف باندھ لیں ۔اب کندھے سیدھے رکھیں ۔دونوں ٹانگیں اوپر کی طرف اٹھائیں ۔اس کے ساتھ اپنا اگلاجسم بھی تھوڑا سااوپر اٹھائیں۔ ٹانگوں کو اوپر اٹھا کر اوپر نیچے ہلائیں ۔یہاں تک کہ آپ کچھ دنوں بعد دو مرتبہ بغیر ٹانگیں لگائیں انکو ہلاسکیں ۔یہ ورزش کو لہوں کے لیے مفید ہے ۔اگر چہ اسے کرنے کے لیے شروع میں آپ کو تھوڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-10

Your Thoughts and Comments