Werzish Sehat Ki Muhafiz

ورزش صحت کی محافظ

Werzish Sehat Ki Muhafiz

پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم ،ایف آر سی پی (ایڈنبرا)ایف اے سی سی(امریکا)
آج کل اس قسم کی ہوا دار ورزش میں اطبّا اور مریضوں کی دلچسپی بڑھ گئی ہے،جس کی ابتدا1960ء سے ہوئی تھی ۔ہوا دار ورزش سے مراد ایسی ورزش ہے ،جس سے پٹھوں کو دوران خون سے اوکسیجن کی کماحقہ ،رسد ملتی رہے۔یہ کم شدت لیکن زیادہ مدت کی ورزش ہے ،جس کی عادت بہ آسانی پڑجاتی ہے ،مثلاً آہستہ دوڑنا،تیز چلنا،سائیکل چلانا،تیرا کی کرنا،رقص کرنا،برف پر پھسلنایا صحرا نوردی وغیرہ۔

اس کے برعکس نا ہوا دار ورزش زیادہ شدت اور کم مدت کی ہوتی ہے ۔اس کے دوران بہ قدرِ ضرورت اوکسیجن مہیا نہیں ہوسکتی اور صرف پٹھوں میں موجود اوکسیجن پر ہی اکتفاکرنا پڑتا ہے ۔
تندرستی کو برقرار اور دل وتنفس کو صحیح حالت میں رکھنے کے لیے روزانہ 30منٹ ورزش کرنی چاہیے یا ایک دن چھوڑ کر 60منٹ۔

(جاری ہے)

یہ ورزش اس شدت سے کی جا سکتی ہے کہ ہلکا سا پسینا آجائے یا قدرے سانس پھول جائے۔

جن افراد کو عادت نہیں ہے ،وہ آہستہ آہستہ ورزش کریں ۔اپنی ورزش کی حدمعلوم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنی زیادہ سے زیادہ رفتارِ دل معلوم کرلی جائے اور پھر اتنی شدت سے ورزش کی جاسکتی ہے کہ دل کی رفتار ،زیادہ والی رفتار کی 60فی صد تک ہو جائے۔
اپنے دل کی زیادہ سے زیادہ رفتار معلوم کرنے کے لیے اپنی عمر کو 220میں سے گھٹا دیں ۔اگر آپ کی عمر 40ہے تو 220میں سے 40گھٹا دیں ،جواب 180آئے گا ،جس کا 60فی صد108ہو گا،یعنی 40سال کا آدمی اتنی شدت سے ورزش کر سکتا ے کہ اس کی رفتارِ قلب بڑھ کر 108فی منٹ ہو جائے ،
یہ حدِ رفتارِ قلب ہے ۔

جن افراد کی صحت اچھی ہے،وہ معالج کی اجازت سے اسے 70فی صد تک بھی کر سکتے ہیں ۔جب ورزش ترک کردی جاتی ہے تو ایک ہفتے میں حاصل کر دہ فوائد مکمل ختم ہو نے لگتے ہیں ،
لہٰذا ورزش کو جاری رکھنا چاہیے۔عام طور پر لوگ اس ورزش کو جاری رکھتے ہیں ،جس میں وہ لطف محسوس کرتے ہیں اور سب سے زیادہ باعث لطف ورزش تیز قدموں سے لمبی سیر ہے ،جسے لوگ ہمیشہ جاری رکھتے ہیں اور رکھ سکتے ہیں ۔


ورزش سے دل کو جو فوائدحاصل ہوتے ہیں ،ان میں رفتارِ نبض اور فشارِ خون میں کمی اور اعتدال قابلِ ذکر ہیں ۔ایسا آرام کی حالت میں بھی ہوتا ہے اور معمولی محنت کے وقت بھی۔دل سے اخراجِ خون زیادہ ہوتا ہے اور خون میں موجود کولیسٹرول میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ورزش کرنے والوں میں اوسط عمر زیادہ اور عارضہ قلب کا امکان کم ہوتا ہے۔خراب کولیسٹرول (ایل ڈی ایل)کم اور اچھی کولیسٹرول(ایچ ڈی ایل )بڑھ جاتی ہے ۔

جن افراد میں موخرالذ کر کولیسٹرول زیادہ ہوتی ہے ،ان میں عارضی قلب کا امکان کم ہوتا ہے ،وزن مناسب ہو جاتا ہے اور بلند فشارِ خون میں اعتدال آجاتا ہے۔
اگر کوئی فرد ہفتے میں تین مرتبہ تین میل پیدل چلے تو دو برس میں 4800حرارے جلنے پر اس کا وزن 13پونڈ کم ہو جائے گا۔فربہی سے عارضہ قلب بڑھتا ہے۔اگر چربی گردن کی پشت ،کندھوں اور پیٹ میں جمع ہو جائے،جیسی مردوں میں ہوتی ہے تو عارضہ قلب کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔

ورزش سے اس قسم کی چربی کم ہوتی ہے اور ذہن پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے ۔
پریشانی،افسردگی و کرب کم ہوتے ہیں اور تھکن بھی کم ہوجاتی ہے ۔توانائی کا احساس ہوتا ہے اور ایسا ہی فائدہ ہوتا ہے ،جیسے نفسیاتی معالجے(سائیکوتھراپی)سے ہوتا ہے ۔اس سے تمبا کو نوشی ترک کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ہڈیوں کے بھُر بھُرے پن (OSTEOPOROSIS) میں کمی آتی ہے اور ذیابیطس میں اعتدال آتا ہے ۔


ورزش بوڑھوں کے لیے بھی مفید ہے ۔حاملہ خواتین بھی ورزش کر سکتی ہیں ،بشر طے کہ ان کی ماہر معالج اجازت دے ۔وہ 15سے 30منٹ تک چہل قدمی کریں ۔دل کی رفتار 140فی منٹ سے زیادہ نہ بڑھنے دیں ۔جن خواتین میں قلتِ خون یا عارضہ قلب ہے ،ان کو احتیاط کرنی چاہیے ۔چناں چہ سب کو ورزش کرنی چاہیے ،مگر اس قدر نہیں کہ بے حد سانس پھول جائے۔سب سے اچھی ورزش کھانے سے پہلے 30منٹ تیز چلنا ہے۔


مختصر یہ کہ ورزش نہایت ضروری ہے اور سب کے لیے مفید ہے ۔سب سے اچھی ورزش تیز چلنا ہے ،جو خراب حالات اور خراب موسم میں گھر کے اندر کمرے میں یا چھت پر بھی کی جا سکتی ہے ۔گھر میں کھڑی سائیکل بھی چلا سکتے ہیں ،اس دوران اکتا ہٹ دور کرنے کے لیے ٹیلی ویژن دیکھا جا سکتا ہے ۔نوجوان اور جوان بلا کسی تکلف کے ورزش شروع کر سکتے ہیں ۔
جو افراد دل کے مریض ہیں یا جنھیں اپنے دل اور صحت سے متعلق شک ہے ،وہ طبی مشورے کے بعد ورزش شروع کر سکتے ہیں ۔

اگر طبی مشورے کی سہولت نہیں ہے تو کھانے سے قبل چہل قدمی کسی کے لیے بھی نقصان دہ نہیں ہو گی۔سب سے اچھی ورزش لمبی سیر ہے ۔یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ بہت دور تک جائیں ،بلکہ اسے دیر تک کریں ۔
عجیب بات یہ ہے کہ اکثر لوگ ورزش سے مراد سیر نہیں لیتے،حال آنکہ سیر سے بہتر کوئی ورزش نہیں ہے ۔ورزش خالی پیٹ صبح وشام کی جائے اور اسے رفتہ رفتہ بڑھایا جائے۔30منٹ تک روزانہ چلنا نہایت اچھی ورزش ہے ۔ورزش خواتین اور بچوں کے لیے بھی مفید ہے ۔چناں چہ چلیے،خوب چلیے اور صحت مندر ہیے۔

تاریخ اشاعت: 2019-02-12

Your Thoughts and Comments