Yoga - Tandrusti Ka Asaam Ilaam Hai

’ ’یوگا․․․تندرستی کا آسان علم ہے“

Yoga - Tandrusti Ka Asaam Ilaam Hai
شاہین ملک
یوگا زندگی کا حصہ بنا کے دیکھئے یہ جسمانی اور سانس کی ورزش ہے جو ذہن اور بدن میں آکسیجن پیدا کرتی ہے ۔یہ تن من اور روح کی ورزش ہے ۔یوگا سے صحت کو ملنے کے بھی متعدد فوائد ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ مادی اور روحانی زندگی میں تمام کامیابیوں کی بنیادی شرط صحت ہے اور اچھی صحت کے لئے متوازن غذا کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش نہایت ضروری ہے عام جسمانی ورزشیں جسم کے سطحی یا بیرونی پٹھوں کو مضبوط بناتی ہیں لیکن یوگا ان تمام داخلی اعضاء اور عضلات کی بھر پور کسرت زیر عمل لاتا ہے جو صحت بر قرار رکھنے کے ساتھ ساتھ نظام ہاضمہ ،نشوونما اور جسم کے مختلف خلیوں اور بافتوں کی درستگی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے ۔

پاکستان میں ڈاکٹر معیزکے شاگردوں میں یوگی وجاہت نے بڑی شہرت اور مقبولیت پائی اس کی ایک بڑی وجہ ان کا یوگا سے بے غرض رشتہ ہے ان کے طریقے میں خلوص اور نیک نیتی سے لوگوں کی مدد کرنا شامل ہے ۔

(جاری ہے)

وہ ٹیلی ویژن کے مارننگ شوز میں بھی کبھی کبھی نظر آجاتے ہیں اور ان پروگراموں کی ریٹنگ بڑھانے میں یوگی وجاہت کے سیگمنٹ کابھی کردار ہوتا ہے ۔
”آپ کتنے عرصے سے یوگا کی مشقیں کروا رہے ہیں؟“
”جب سے سیکھا یہ سلسلہ تب ہی سے شروع ہوا تھا۔

میرا خیال ہے کہ 25برس تو ہوہی گئے ہوں گے۔“ ”یوگا سے متعلق کچھ تضادات بھی پائے جاتے ہیں اور جن ملکوں نے اسے تہذیب کا حصہ بنایا وہ اس کے ثمرات بھی محسوس کررہے ہیں آپ کی کیا رائے ہے؟“
”میرا کہنا بھی یہی ہے کہ اسے ورزش ہی سمجھنا چاہئے۔پڑوسی ملک سمجھتا ہے کہ یو گا کا آغاز ان کی سر زمین سے ہوا اور حقائق پوشیدہ رکھ کے یو گا سے شغف رکھنے والوں کے ہجوم سے زر مبادلہ بھی کمایا۔

مجھے دکھ ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس جانب توجہ نہیں دی اور مورخیں نے بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے دنیا کو تندرستی کا آسان علم دیا ایک ایسا علم جس نے دنیا کو اب تک اپنے صحر میں جکڑ ا ہوا ہے ۔میں آپ کو بتاؤں کہ وادی سندھ کی تہذیب تقریباً 300BCسے 1300BCپرانی ہے۔
اس تہذیب نے دنیا کو نفس کے ٹھہراؤ اور منصوبہ بندی کا درس دیا اور اس تہذیب نے ایک ایسے علم کو بھی جنم دیا جو آج کی دنیا میں یوگا کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

بلاشبہ ہڑپہ اور موہن جودڑو کے کھنڈرات سے ایسے نشانات اور مہریں ملی ہیں اور یہ برطانوی ارضیاتی محکمے کی رپورٹ کا حوالہ ہے۔اس مخصوص مہر کو جس میں ایک یوگی آسن میں بیٹھاہے اسے Pashupaliکہا جاتا ہے ۔اس مہر کو کراچی کے عجائب گھر میں NMP 50.296کے نمبر سے دیکھا جا سکتا ہے ۔ہمیں فخر ہونا چاہئے کہ پاکستان کی دھرتی سے شروع ہونے والا علم آج دنیا میں انسانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں سرگرم ہے۔


”یوگا قیمتی اثاثہ ہے اسے ہم کس طرح مثبت اور انقلابی تبدیلی کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں؟“
”بھئی میں تو یہ تک کہتا آیا ہوں کہ لوگ اس کی اہمیت جان لیں تو ہم پڑوسی ملک سے ایک ایسی جنگ بنا کسی ہتھیار کے جیت سکتے ہیں جس سے یوگا کی دنیا میں حکمرانی کرنے والی یہ سلطنت دھچکا کھائے گی اور ملکی مفاد کے لئے بھی اس تبدیلی کو استعمال کرسکیں گے۔

یہ قدرے مذہبی اصطلاح بھی ہے اور انسان کے نقطہ نظر پر انحصار کرتی ہے ۔اسلام سے یا ہماری نماز کے طریقے سے ہر گز بھی متصادم نہیں ۔ہم اسلام میں جن تعلیمات کی پیروی کرتے آرہے ہیں ۔وہ تمام یوگامیں موجود ہیں۔نماز کئی گنا آگے اور بہتر اس لئے ہے کہ اس میں ہم حمد وثناء اور دعائیں کرتے ہیں۔ وضو کرکے پاک ہو کر شیطانی خیالات اور منفی سوچوں کو چھوڑ کر صرف اللہ کی لولگاتے ہیں تو اس سے بڑھ کر کوئی کام،کوئی ورزش نہیں ہو سکتی۔

دیکھئے اللہ تبارک تعالیٰ نے نماز میں ہمارے لئے فلاح کا پہلو رکھا ہے ۔
ہم اس وقت مارپیٹ یا نفرت کی باتیں نہیں سوچتے اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ بعض مسلم گھرانے یو گا کو اچھا نہیں سمجھتے میں بھی اسے نماز کے مقابل نہیں سمجھتا اگر غیر مسلم اپنے پاٹ پڑھتے ہیں تو یہ ان کی اختراع ہے بلکہ یہ تو یوگا سے سازشی معاملات کرنا ہے ۔آج انہیں برسوں سے لاتعداد بیماریوں میں یہ ورزش کام آتی ہے۔

دمے سے لے کر گردوں اور دل کی بیماریوں سے جوڑوں کی بیماریوں تک کونسی ایسی بیماری ہے جس کا علاج ہم نے یوگا میں نہیں کیا۔بہتر نتائج حاصل کئے ۔میں ذاتی طور پر کئی سو افراد کو خود کشی کرنے سے بچا چکا ہوں ۔میں نے کچھ نہیں کیاصرف انہیں نماز اور یوگا کی طرف لایا۔“
”یوگا کی کچھ اور طبی افادیت بتاتے چلئے۔“
”اس میں مختلف آسن ہیں جن میں درد ،طبیعت کے بوجھل پن،ڈپریشن،اسہال ،قبض ،بیزاری ،دمے کی تکالیف ،عضلات کی اینٹھن ،موٹاپایاجسمانی نقاہت شامل ہیں ہر مرض اور کیفیت میں آرام مل جاتا ہے ۔

ہر آسن اعصابی اور اندرونی اعضاء کے افعال کو متحرک کرتا ہے۔ جسم میں لچک آتی ہے ۔ذہن پر سکون ہوتا ہے ۔بہت سی تکالیف جس میں پیٹ کے عضلات سکڑنے کی وجہ سے درد کا ہونا شامل ہے ،اس میں اینٹھن کم ہوتی ہے ۔گہرے سانس لینے سے دماغ اور جسم میں آکسیجن جاتی ہے ۔تمام دیگر متبادل طریقہ
علاج میں بھی تحت الشعور کو مثبت سرگرمیوں کی جانب منتقل کیا جاتا ہے اور شعور پختہ کیا جاتا ہے ۔اس طرح یوگی مطمئن اور شاد رہتا ہے ۔تجربے کاریوگی کی معاونت کے ساتھ باقاعدہ مشقیں کرنے سے ذہنی وجسمانی صلاحیتوں میں نکھار اور بہتری آجاتی ہے ۔“
تاریخ اشاعت: 2019-06-19

Your Thoughts and Comments