Yoga - Article No. 2169

یوگا - تحریر نمبر 2169

پیر جون

Yoga - Article No. 2169
عمران امین
صحت و تندرستی کی ضرورت ہر دور میں مسلمہ رہی ہے مگر موجودہ دور میں کسی بھی انسان کے لئے زندگی کی کشمکش اور شور شرابے کی فضا میں اچھی صحت کا حصول آسان کام نہیں رہا کیونکہ موجودہ وقت میں ہر فرد مادی چیزوں کے حصول کی دوڑ میں شامل ہے۔زندگی اس قدر مصروف اور ظالم ہے کہ کسی کے پاس صبح کی سیر کے لئے وقت نہیں اور کسی کے پاس جم جانے کے وسائل نہیں جبکہ گھریلو خواتین گھر کے کام کاج کو ہی مکمل ورزش سمجھ کر مزید سے انکاری ہیں۔

ان سب حالات میں ”یوگا“ ایک ایسی سرگرمی ہے جو بغیر کسی سازو سامان اور مشقت کے ہر فرد کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لئے انتہائی مفید ہے۔دراصل لفظ ”یوگا“ سنسکرت کے لفظ ”یوگ“ سے نکلا ہے جس کا مطلب ”شامل ہونا یا یکجا ہونا“ ہے۔

(جاری ہے)

یوگا خود نظمی اور ضبط نفس کا ایک قدیم نظام ہے جو ہندوستان میں صدیوں سے متعارف ہے۔بنیادی طور پر یوگا ہندو مت تہذیب سے تعلق رکھنے والی ورزش کی ایک قسم ہے یہ ورزش کتنی پرانی ہے اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن تحقیق کے مطابق یہ پانچ ہزار سال پرانا طریقہ ہے جو جسم کو راحت و سکون پہنچانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔


وادی سندھ کی تہذیب کی تلاش میں کھدائی کے دوران بعض ایسی مورتیاں سامنے آئیں جن پر ”یوگا“ کے مختلف انداز بنے ہوئے تھے جبکہ ”یوگا“ ہندو مذہب،لوگ گیتوں اور ادب کے ساتھ اس قدر مضبوطی سے جڑا ہوا ہے کہ ایک فرانسیسی سکالر نے ”یوگا“ کو ہندو ثقافت کی مستقل بنیاد قرار دیا ہے۔اگرچہ فن یوگا کبھی پُراسرار علم رہا ہے اور ابتداء میں راہبوں،جوگیوں،فقیروں اور سادھوؤں میں منتقل ہوتا چلا آیا مگر اب پُراسراریت کا طلسم ٹوٹ چکا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آسان اور عمدہ نتائج والی ورزش یوگا کو عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہو رہی ہے کیونکہ یوگا کا مقصد انسان کی ذہنی و جسمانی بہتری اور تفکرات سے رہائی ہے لیکن یاد رہے کہ یوگا کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے کہ ایک یا دو نشستوں میں تمام نفسیاتی اور جسمانی عارضوں سے نجات مل جائے۔یوگا کی بلا ناغہ پندرہ سے بیس منٹ کی مسلسل ورزش کرنے کے کچھ عرصے بعد ہی آپ اپنے مزاج میں تبدیلی محسوس کریں گے۔


یوگا کی ورزش کرنے کے مختلف اندازوں کو ”یوگا آسن“ کہا جاتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان آسنوں پر عمل کرنے سے ایک متوازن شخصیت تشکیل پاتی ہے۔یہ آسن خون کی گردش میں بہتری لاتے ہیں اور ذہنی،جسمانی اور جذباتی تناؤ کو دور کرتے ہیں۔یوگا کے آسن ہمیشہ آہستگی اور ہلکی رفتار کے ساتھ کرنا چاہیے وگرنہ تیزی اور پھرتی پٹھوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے ایک بات ضرور ذہن نشین کر لیں کہ یہ ”آسن“ صرف اس وقت سر انجام دیں جب کسی ماہر سے سیکھ لیں۔

فن یوگا کے ماہرین نے قدیم دور سے اپنی ریاضت اور دھیان کی بدولت ہر مزاج کے انسان کے لئے یوگا کی ورزشوں کی بہت سی منزلیں ترتیب دی۔جو کچھ اس طرح سے ہیں۔
بھکتی یوگا:
اس کا تعلق عقیدے اور عبادت سے ہے اس میں زیادہ زور سچائی کے بارے میں غور و فکر کرنے پر دیا جاتا ہے۔
کرما یوگا:
اس سے مراد بنی نوح انسان کی بھلائی کے لئے کام کرنا ہے۔


منترا یوگا:
اس کا تعلق خیالات اور الفاظ سے ہے اس کی مشقوں سے ہمارے ذہن کے اندر پاکیزہ خیالات پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہی خیالات الفاظ کی شکل میں منہ سے نکلتے ہیں۔
ہاتھا یوگا:
اس کا تعلق جسم کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے سے ہے۔اس میں جسمانی مشقوں کے ساتھ ساتھ سانس لینے کے طریقے بھی شامل ہیں اور یہ ورزش ہمارے جسمانی مسلز کی نشوونما میں بھی مددگار ہوتی ہے۔


یوگا کے فوائد
یوگا کرنے سے جسم میں نرمی اور چستی پیدا ہوتی ہے۔
یوگا پٹھوں کو مضبوط کرکے ذہن کو سکون بخشتا ہے۔
دوران خون کو بہتر بنا کر آکسیجن کے عمل کو تیز کرتا ہے۔
نظام ہضم کو درست رکھتا ہے نیز پیٹ کی بیماریوں کو دور رکھتا ہے۔
تھکن سے نجات دلا کر توانائی بحال رکھتا ہے۔
انسان کی ذہنی صلاحیتوں اور امنگوں کو جوان رکھتا ہے۔


ذہنی پریشانیوں پر قابو پانے میں معاونت کرتا ہے۔
چہرے اور جسامت کو خوبصورت رکھنے کے ساتھ ساتھ انسان کو بڑھاپے سے دور رکھتا ہے۔
جلد کے ٹشوز تک خوراک پہنچاتا ہے۔
دل کی دھڑکن متوازن رکھتا ہے۔
بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے۔
سستی میں کمی واقع ہوتی ہے۔
ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ یوگا ہمیشہ خالی پیٹ کریں نیز باقاعدگی سے یوگا کرنے سے ہی اُوپر بیان کیے گئے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-06-07

Your Thoughts and Comments