بند کریں
صحت مضامینورزشیوگا ورزشیں (چوتھا پروگرام)

مزید ورزش

پچھلے مضامین -
یوگا ورزشیں (چوتھا پروگرام)
یوگا کوئی مذہب نہیں۔ یہ ایک فن ،ایک سائنس ہے جس نے آج سے ہزاروں برس قدیم چین میں جنم لیا اور وہاں روح اور بدن کے باہمی توازن اور انسان کے اندر اور باہر کے پورے تول کی عملی ترجمانی کرتی رہی۔ چین سے اس علم کو ہندوستان نے مستحار لیا اور اسے یوگا کا نام دیا۔
یوگا کوئی مذہب نہیں۔ یہ ایک فن ،ایک سائنس ہے جس نے آج سے ہزاروں برس قدیم چین میں جنم لیا اور وہاں روح اور بدن کے باہمی توازن اور انسان کے اندر اور باہر کے پورے تول کی عملی ترجمانی کرتی رہی۔ چین سے اس علم کو ہندوستان نے مستحار لیا اور اسے یوگا کا نام دیا۔ چین ہی سے اس علم کو جاپان نے اپنایا اور اس میں چند ترامیم کرکے اے مارشل آرٹس کی وسیع دنیا میں داخل کر دیا۔ آج کل یوگا اپنا تدریجی سفر طے کرکے مغربی دنیا میں وارد ہو چکا ہے اور وہاں سے انگریزی، فرانسیسی اور جرمن میں اس کا لٹریچر دھڑا دھر چھپ کر دنیا کے مختلف گوشوں میں پہنچ رہا ہے۔
یوگا ورزشیں جنہیں یوگا آسن کہتے ہیں پورے عضلاتی نظام، فضلاتی نظام، دوران خون کے نظام اور ہضم کے نظام سے بڑا گہرا تعلق رکھیں ہیں۔ یوگا ورزشیں افزائش حسن،اعادہ شباب، درازیء عمر اور تندرستی وتن سازی کے لئے بھی بڑے آسان اور عملی طریقے فراہم کرتی ہیں، جن کی اہمیت وافادیت صدیوں پہلے تسلیم کی جاچکی تھی اور آج بھی تسلیم کی جا رہی رہے۔ یہاں جو یوگا ورزشیں دی جاری ہیں ان کا تعلق افزائش حسن وجمال کے علاوہ جسمانی اور نفسیاتی عارضوں کے علاج سے بھی ہے۔ ان ورزشوں کی باقاعدہ مشق کرتے ہوئے ان سے استفادہ کریں۔ اور یاد رکھیں کہ یوگا ورزشیں یعنی یوگا آسن کرنے کا بہترین وقت صبح کا وقت ہے جبکہ پیٹ خالی ہو۔
سرونگا آسن:
یہ آسن یعنی یوگا ورزش دوران خون کی اصلاح، سپر نما غذہ کی اصلاح اور ٹانگوں اور جسم کے بالائی حصے کے عضلات کو خون کی زیادہ مقدار پہنچانے کے لئے انتہائی مفید اور کارآمد ہے۔ دوران خون کی زیادہ مقدار جسم کے زیریں عضلات ہی کو سیراب کرتی ہے ۔ اس لیے ضرورت ہے کہ بالائی عضلات بھی خون سے اچھی طرح فیض یاب ہوں۔ اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے کندھوں کے بل کھڑے ہونے کا جو آسن ہے اس کو سرونگا آسن کہتے ہیں۔ اس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔ہر عمر میں اس آسن کی اعادیت یکساں ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے