Aankh Ke Infection Aur Aankh Ki Phinsi

آنکھ کے انفیکشنز اور آنکھ کی پھنسی

Aankh Ke Infection Aur Aankh Ki Phinsi

ڈاکٹر سعدیہ عبداللہ
آنکھیں انسانی جسم کا سب سے نازک اور حساس عضو ہیں جو حواس خمسہ میں سب سے زیادہ نفیس اور پیچیدہ‘ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کے لئے سب سے زیادہ اہم بھی ہیں ۔اس لئے قدرت نے اس کی حفات کے لئے بہت انتظامات کررکھے ہیں ۔یہ ہڈیوں کے خول کے درمیان ہوتی ہے۔ جس میں پلکیں ہوتی ہیں ‘پپوٹے ہوتے ہیں جو دیکھنے کے وقت اور خطرے کے وقت جلدی جلدی کھلنے اور بند ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


آنکھوں میں آنسوؤں کی شکل میں ہمہ وقت ایک نمی موجود رہتی ہے یہ دراصل آنکھوں کی صفائی کا قدرتی اینٹی سیپٹک محلول لیکوئیڈ لائی سوزوم (Lysozome)ہوتا ہے۔جو آنکھوں کو نم رکھنے کے ساتھ ساتھ بیرونی خرابیوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے جیسے جراثیم گردو غبار ‘آلودگی وغیرہ۔

(جاری ہے)


یہ آنسو ان غدود کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں جو آنکھوں کے اُوپر ہوتے ہیں ۔

آنسو آنکھوں کے ڈھیلوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں پھر یہ آنکھوں کے اندرونی کونے میں موجودآنسو کی نالی(Tear duck)
کے ذریعے ناک میں پہنچ جاتے ہیں۔
آنکھوں کو سامنے سے دیکھنے پر سیاہ رنگ کی پُتلی دکھائی دیتی ہے ۔یہ گویا آنکھوں کا دروازہ ہے ۔روشنی اس کے ذریعے آنکھوں کے اندر جاتی ہے اس کے بعد چیزیں دکھائی دیتی ہیں ۔پتلیوں کے اردگرد آئرس(Iris)ہوتا ہے جو اپنے آپ کو روشنی کی کمی بیشی کی مطابقت میں کرتی ہوئی پتلیوں کو تحریک دیتا رہتا ہے ‘آئرس(Iris)کے اردگرد سفید رنگ کا بال(sclera)ہوتا ہے ۔


اگر آپ آنکھوں کا اندرونی معائنہ کریں تو اس میں آپ کو کئی تہیں دکھائی دیں گی ۔اگلے حصے میں ایک شفاف ‘سخت کورنیا(cornea)ہوتا ہے جو آنکھوں کے بیرونی لینس کا کام کرتا ہے ۔آنکھوں کے پچھلے حصے پر ریٹینا (retina)ہوتا ہے ۔کو رنیاکا کام ریٹینا(retina)کو مناسب روشنی فوکس کرکے دینا ہوتا ہے ۔اس کے پیچھے آئرس(Iris)ہوتا ہے اور اس کے فوراً بعد کر سٹالین لینس(Crystallin lens)ہوتا ہے جو اپنی رنگت یا ساخت ‘فوکس کی مطابقت کیلئے تبدیل کرتا رہتا ہے ۔


لینس کے عقب میں ایک شفاف جیلی نما چیز ہوتی ہے جو آنکھوں کے اندرونی حصوں کو بھر دیتی ہے ۔
آنکھوں کے عقب میں ایک ہلکی حساس کوٹنگ یالکیرسی ہوتی ہے جو آنکھوں کا اہم ترین حصہ ریٹینا ہے ۔
روشنی پتلیوں کے ذریعے آنکھوں میں داخل ہو کر ریٹینا کے حساس خلیات میں جا کر دوحصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے ۔جسے روڈز (rods)کونز (cones)کہتے ہیں ۔
یہ ایک ایسی لہر کوتحریک دیتے ہیں کہ جو Optic nervesکے ذریعے دماغ میں جاکر دیکھنے کاحکم دیا کرتی ہے اور اس Optic nerves کے ساتھ ہی بلائنڈ اسپاٹ(Blind spot)موجود ہوتے ہیں اور اس جگہ کوئی بھی روڈز (Rods)یا کورنز(Cornes)نہیں بنتے۔

آنکھیں چونکہ حساس ترین انسانی عضوہیں اس لئے ان میں پیدا ہونے والی کسی بھی خرابی کی صورت میں فوراً ان کی طرف توجہ دینی چاہئے۔وہ علامات جو آنکھوں کی کسی خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہیں وہ یا تو خود آنکھوں میں خرابیوں کی ہوتی ہیں یا آنکھوں کے خول میں کسی خرابی کی نشانی ہوتی ہیں ۔بہر حال آنکھوں کے حوالے سے جو بھی خرابیاں ظاہر ہوں ان پر فوری توجہ دے کر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔


آنکھوں کے عمومی انفیکشنز اور ان کی علامات
پپٹوں کی سوزشBlepharitis
آنکھوں کے انفیکشن کی اس قسم میں پپوٹے دُکھتے ہیں ‘اور سرخ ہوجاتے ہیں ۔ہلکی خارش اور صبح اٹھنے کے بعد پپوٹوں کا ایک دوسرے سے چپک جانا عمومی علامات ہیں اس کا سبب کسی قسم کی الرجی یا جلد پر کسی قسم کی حساسیت کا اُبھرنا بھی ہو سکتا ہے ۔
آشوب چشم(Conjuctivitis)
آنکھوں کے سفید حصوں کا خون کی طرح سرخ دکھائی دینا ان میں سوزش اور تکلیف بھی ہونا‘آنکھوں سے پانی بہنا ‘آنکھوں سے گہری سفید یا زردرطوبت کا اخراج ہونا آشوب چشم(Conjuctivitis)
کی عمومی علامات کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے ۔

اس صورت میں بھی صبح کے وقت پپوٹے ایک دوسرے سے چپک جاتے ہیں ۔
اگر یہ علامت صرف ایک آنکھ میں ہیں تواس کا سبب کسی قسم کا بیرونی عنصر ہو سکتا ہے ۔جیسے گردوغبار کا کوئی ذرّہ آنکھوں میں چلا گیا ہو اور اگر یہ دونوں آنکھوں میں ہے تو اس کا سبب کسی قسم کا شدید انفیکشن یا الرجی ہو سکتا ہے ۔
اگر بچہ اس تکلیف کے ساتھ بیمار بھی ہو یعنی اسے بخار بھی آرہا ہو تو پھر یہ خسرہ (Measles)یا کبھی کبھی ہونے والی بیماری کا واسا کی کی علامت بھی ہو سکتی ہے ۔


آنکھوں کی پھُنسی (Styes)
اس قسم کے انفیکشن کو آنکھوں کی پھنسی (Styes)یا سرخ بادہ بھی کہتے ہیں دکھتی ہوئی سرخ ‘سوجی ہوئی ورم زدہ آنکھیں اس انفیکشن کی واضح علامت ہوتی ہے ۔سوزش کے ساتھ پھنسی کادہانہ بھی رکھتا ہے ۔
آنسو کی نالی کی بندش
(Blockage of tear duck)
بچوں کی آنکھوں میں ہر وقت آنسو بھرے ہوئے دکھائی دیں یعنی آنکھوں میں پانی دکھائی دے اور جب یہ پانی خارج ہوتو یہ بہت گاڑھی رطوبت کی صورت میں ہو۔


اس کا سبب آنسو کی نالی(Tear duck)بلاک ہونا ہو سکتا ہے ۔اس کا اثر دونوں آنکھوں پر ہو سکتا ہے ۔
آنکھوں کی براہ راست خرابیاں سفید موتیا(Cataract)
پتلیوں کے ساتھ ایک واضح طورپر سفیددھبہ دکھائی دے یہ مرض سفید موتیا (Cataract)کی علامت ہے اور یہ پیدائشی بھی ہو سکتا ہے ۔
بصارت کی کمزوری
بچہ چیزوں کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کرے۔اس کوشش میں اس کی آنکھوں پر دباؤ کے باعث بھینگا پن بھی پیدا ہو جائے ۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ بچے کی قریب کی نگاہ کمزور ہو چکی ہے۔
بچہ پڑھتے وقت کتاب کو خود سے بہت قریب کرلے یعنی اپنی آنکھوں کے پاس کر لے یا بلیک بورڈوغیرہ کے پاس جا کر دیکھنے کی کوشش کرے بچے کی دور کی نگاہ کمزور ہونے کا امکان ہے ۔یہ خرابی چھوٹے بچوں میں ذرا کم ہوتی ہے لیکن بڑوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے ۔
بھینگاپن(squint)
بچہ تر چھے انداز سے دیکھا کرے یعنی اس کی نگاہوں کا زاویہ درست نہ ہو۔

یہ بھینگے پن کی نشانی ہے ۔
ان کے علاوہ آنکھوں میں واقع ہونے والی اور بھی خرابیاں یا امراض ہیں جن کا تذکرہ یہاں نہیں کیا گیا۔لیکن یہاں یہ بات دہرادینا پھر ضروری ہے کہ کسی بھی خرابی کی صورت میں آپ اس کا علاج خود سے کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ مستندڈاکٹر سے رجوع کرلیں۔
آنکھ کی پھنسی
نوعیت
آنکھ کی پھنسی(Styes)جسے سرخ بادہ بھی کہا جاتا ہے ایک بیکٹیریل انفیکشن کا نام ہے جو کہ Staphylococealنامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔

جو پپوٹوں پر اس جگہ داخل ہو جاتے ہیں جہاں پلکیں اُگتی ہیں ۔وہاں اس کا اثر ہوتا ہے اور دانے ہو جاتے ہیں ۔یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب کوئی بچہ اپنے گندے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو ر گڑ تاہے۔
عام طور پر یہ آنکھ کی پھنسی انفیکشن کے حامل بیکٹیریا ناک اور گلے وغیرہ کی جلد کے اُوپر ہوتے ہیں اور کوئی نقصان نہیں پہنچاتے لیکن اگر یہ جلد کے اندر داخل ہو جائیں تو پھر ان کی وجہ سے شدید قسم کا انفیکشن ہو جاتا ہے ۔


انفیکشن کے نتیجے میں پیپ نکلنے لگتی ہے جس میں زندہ سفید خلیات اور بیکٹیریا کے ساتھ ساتھ خلیات کا مُردہ مادّہ بھی باہر آتا رہتا ہے‘ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک آنکھ کی پھنسی (Styes) ختم نہ ہو جائے یا پھر بڑی ہو کر پھٹ نہ جائے۔
کچھ بچوں کو آنکھ کی پھنسی (Styes)بار بار نکلتی ہے ۔اس کا سبب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ یا تو اس کے جرثومے لئے گھومتے ہوں یا پھر ان کے جسم کا مدافعتی نظام آنکھ کی پھنسی (Styes)کے انفیکشن کے خلاف مدافعت کرنے میں کمزور ہو گیا ہو۔


آنکھ کی پھنسی (Styes) خطر ناک تو نہیں ہوتی لیکن ان میں تکلیف بہت ہوتی ہے ۔
علامات
بچے کی آنکھوں کے پپوٹوں پر سرخی اور سوجن ہو جاتی ہے ۔
سوجن بڑھنے لگتی ہے اور دو تین دنوں میں ہلکے پیلے رنگ کے دانے سے بن جاتے ہیں ۔
کیا کرنا چاہئے؟
اگر آنکھ کی پھنسی (Styes)خود سے ٹھیک نہ ہو رہی ہوتو پھر بہتر ہے کہ ان میں موجود رطوبت یا پیپ نکال دیں۔


آنکھ کی پھنسی (Styes)کو پھاڑ کر پیپ کبھی نہ نکالیں بلکہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ روئی کا بڑا سا پھایا بنا کر اسے گرم پانی میں ڈبو کر بچے کی آنکھ پر کم از کم بیس منٹ تک رکھے رہیں اور اس عمل کو جب تک ضرورت محسوس کریں دُہراتی رہیں ۔
جب آنکھ کی پھنسی (Styes) پھٹ جائیں تو بہت آہستگی اور نرمی کے ساتھ جراثیم سے پاک یا اینٹی سیپٹک محلول سے (جو حساس جلد کے لیے تیار شدہ ہو)بھگوتی ہوئی روئی سے گندے مواد اور خون کو صاف کرلیں ۔

گندے مواد کو صاف کرنے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ کہیں یہ مواد دوسری آنکھ کی طرف جا کر وہاں بھی انفیکشن نہ پیدا کردے۔
مواد نکالنے کے بعد اس پورے حصے کو پانی سے صاف کرکے ڈاکٹر کے تجویز کردہ اینٹی بایوٹک قطرے یا مرہم استعمال کریں ۔اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو بھی خوب اچھی طرح صاف کرلیں ۔
اگر آنکھ کی پھنسی یا سُرخ بادہ (Styes) اپنے سائز میں بہت بڑی ہوں یا ان میں تکلیف ہورہی ہوتوپھر ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

ڈاکٹر پھر ناک اور منہ کی رطوبت کا کیمیائی تجزیہ کروا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا کہ بیکٹیریا کہاں کہاں پیدا ہورہا ہے ۔
احتیاط
بچوں کو ہر وقت ہاتھ دھونے کی تلقین کر تی رہیں ۔
بچوں کو ناک ہاتھ سے صاف کرنے کی اجازت نہ دیں ۔انہیں ہدایت کریں کہ وہ اس ضرورت کے لیے اپنے ساتھ رومال یا ٹشو پیپرز ساتھ رکھا کریں ۔
اگر آپ یہ محسوس کریں کہ بچے کو آنکھ کی پھنسی (Styes)مسلسل ہونے لگی ہے تو پھر اس کی غذا میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کی مقدار زیادہ کردیں ۔


اگر بچے کی آنکھیں دُکھنے آرہی ہوں تو باہر جاتے ہوئے انہیں دھوپ کے چشمے لگانے کی ہدایت کریں ۔
مریض بچے ایسے ماحول میں نہ رہیں جہاں دھواں بھرا ہوا ہو ۔دھوئیں سے آنکھ کی پھنسی (Styes) کی شدّت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔
ضمنی دوائیں اور علاج
چینی طبی فلسفے کے مطابق آنکھیں جگر کے حساس آلے کی حیثیت رکھتی ہیں ۔اس لئے جب آنکھوں میں کوئی خرابی ہوتی ہے تو اس نظرئیے کے تحت جگر کا بھی علاج کیا جاتا ہے۔
قدرتی طریقہ علاج میں غذاؤں پر دھیان دیا جاتا ہے اور مختلف غذاؤں کے ذریعے خرابی دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ہومیو پیتھی میں اس کے لئے کئی دوائیں موجود ہیں مثلاً پل (Staphisagria) 6Cہر گھنٹے کے بعد مسلسل دس دنوں تک دینے کی ہدایت کی جاتی ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-25

Your Thoughts and Comments