Aankhon Ki Bemariyan

آنکھوں کی بیماریاں

Aankhon Ki Bemariyan

آنکھ بڑا نازک عضو ہے آنکھوں کی بیماریوں کا گھریلو علاج بعض صورتوں میں خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے آنکھوں میں اندھا دھند ہر اچھی بری چیز ڈالے جانا بہت خطرناک ہے ہم یہاں صرف آنکھوں کی چنداہم بیماریوں کا ذکر کریں گے جب کا گھریلو علاج آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور اس سے آنکھوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال نہیں ہوتا دیگر خرابیوںکے لیے آپ کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔


گوہا نجنی:گوہا نجنی پپوٹوں کی سب سے عام بیماری ہے پپوٹے پر پہلے خارش ہوتی ہے پھر ایک دانہ ابھرنے لگتا ہے جو تین چار دنوں میں خاصا بڑا ہوجاتا ہے اور بہت درد کرنے لگتا ہے چند دن بعد اس دانے میں پیپ پڑجاتی ہے اور یہ پھٹ جاتا ہے گندہ مواد نکلنے کے بعد زخم بہت جلد مندمل ہوجاتاہے اور درد بھی جاتا رہتا ہے اکثر اوقات سارا پپوٹا سوج جاتا ہے یہ بیماری اکثر بچوں میں دیکھنے میں آتی ہے گوہا نجنی ایک سبب بھی وہی جراثیم ہیں جو پھوڑوں کا باعث بنتا ہیں جسمانی کمزوری اور جراثیم کے خلاف قوت مدافعت کی کمی ان جراثیم کے حملے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں خصوصاً کمزور بچوں کو بیک وقت کئی گوہا نجنیاں نکل سکتی ہے بعض اوقات ایک جگہ گوہا نجنی ٹھیک ہونے کے بعد کسی دوسری جگہ نکل آتی ہے جن لوگوں کو پھوڑے زیادہ نکلتے ہوں یا انہیں ایکنی ہو انہیںگوہا نجنی نکلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

(جاری ہے)


علاج:اگر بچہ کمزور ہو تو اسے مناسب غذا کھلا کر اس کی صحت بہتر بنائیں جب گوہا نجنی سخت درد کررہی ہو تو گرم کپڑے اس کی ٹکور کرنے سے اس میں جلدی پیپ پڑتی ہے اور اس کے پھٹ جانے کے بعد درد ٹھیک ہوجاتا ہے اگر پھٹ پڑنے کے بعد بھی گوہا نجنی نہ پھٹے تو اس میں اگی ہوئی ایک پلک بال کھینچ دیجیے پیپ باہر آنے لگتی ہے اگر گوہا نجنی پھر بھی نہ پھٹے اور سخت درد کررہی ہو تو کسی ڈاکٹر سے اسے چیرا دلوا لیجیے گوہا نجنی میں درد کے علاوہ خارش بھی ہوتی ہے لیکن بچوں کو گوہا نجنی کھجانے نہ دیجیے اس پر دباﺅ پڑنے سے جراثیم اردگرد کے صحت مند حصے میں گھس جائیں گے بعض لوگ گوہا نجنی کو انگلیوں میں دبا کر اسے پھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں یہ بھی مریض کے لیے خطرناک ہے اور جراثیم کے لیے مفید اگر کئی گوہا نجنیاں نکل آئی ہوں یا یہ بار بار نکلتی ہوں تو پنسلین کے چند ٹیکے لگوا لینا مفیدرہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جسمانی کمزوری کا انسداد بھی ضروری ہے۔


آنکھوں کی الرجی:الرجی بھی آنکھوں کی سوزش کا اہم سبب ہے سبب سوزش الرجی کی وجہ سے ہو تو اس کا پتا لگانا مشکل نہیں ہوتا آنکھوں میں اچانک جلن اور سوزش ہوتی ہے اور بہت زیادہ پانی آتا ہے یہ حالت زیادہ دیر تک نہیں رہتی اور عموماً الرجی کا سبب دور ہوجانے کے بعد سوزش جاتی رہتی ہے اگر آنکھ مسلسل الرجی کا شکار رہے تو جراثیم کو اس پر قابض ہونے کا موقع مل جاتا ہے اس لیے اس کا فوری علاج ضروری ہے آنکھ کی الرجی کے ساتھ عموماً ناک کی الرجی زکام بھی ہوتی ہے۔


علاج:الرجی کے سبب کا پتالگانے کی کوشش کریں گردوغبار،گیسیں،صنعتوں میں استعمال ہونے والے بعض کیمیاوی مادے خوشبوئیں دوائیں اور روغن وغیرہ اس الرجی کے اہم اسباب ہے حتیٰ الوضع اس سبب سے بچنے کی کوشش کریں اگریہ ممکن نہ ہو تو کسی الرجی کلینک سے رجوع کریں جہاں آپ کو الرجی پیدا کرنے والی چیز کے خلاف بے حس بنایا جاسکتا ہے وقتی طور پر الرجی سے نجات پانے کے لیے اینتھیکال لوشنAnthical lotion کے چند قطرے آنکھ میں ٹپکائیں آنکھ میں ڈالی جانے والی ایک دوا ایٹروپین Atropine آنکھ کی الرجی کا اہم ترین سبب ہے اگر آپ کو ایٹروپین کی وجہ سے الرجی ہوتی ہے تو اسے ترک کردیں اور اس کی بجائے ہوم ایٹروپین Home Atropine استعمال کریں۔

تاریخ اشاعت: 2018-02-07

Your Thoughts and Comments