Jaldi Bemari Egzema Ke Phailoo Mein Khatarnak Had Tak Izafah

جلدی بیماری ایگزیما کے پھیلائو میں خطرناک حد تک اضافہ

Jaldi Bemari Egzema Ke Phailoo Mein Khatarnak Had Tak Izafah

فرزاںہ چوہدری

جوان اور دلکش جلد صنف نازک کا بہترین زیور ہے‘ جلد دل کی طرح اور دماغ کی طرح کشادہ نہیں ہوسکتی لیکن جوان‘ صحت مند‘ نرم و ملائم اور خوبصورت جلد ہر خاتون کا سرمایہ ہے حسین نظر آنا ہر عورت کا خواب ہے‘ اسی لیے خواتین میں اپنی جلد کی حفاظت کا رجحان خاصا ہے ۔ دنیا میں تقریباً تین ہزار جلدی امراض پائے جاتے ہیں۔

جن کا علاج ماہر امراض جلد کرتے ہیں۔سرد موسم میںجلد کی حفاظت اور اس موسم کی جلدی بیماریوں کے حوالے سے ماہرامراض جلد پروفیسر ڈاکٹر شہباز آمان سے کی گئی گفتگو نذر قارئین ہے۔

معروف ماہر امراض جلد پروفیسر ڈاکٹر شہباز آمان پاکستان ایسوسی ایشن آف ڈرماٹولوجی کے جنرل سیکرٹری ہیں وہ سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(سمز) میں پروفیسر آف سکن اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

وہ جلدی امراض پر51 ریسرچ پیپرز ،3 کتابیں تصنیف اور 10انٹرنیشنل ریسرچ پیپرز بھی تحریر کر چکے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شہباز آمان نے1989ء میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور میو ہسپتال میں بطور ہاؤس آفیسر کام کا آغاز کیا۔ پہلے میڈیسن اور پھر جلد کے شعبے میں کام کیا۔ 1999ء میں جلدی امراض میں سپیشلائزیشن کی اور2014ء تک میو ہسپتال میں ہی اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

پروفیسر ڈاکٹر شہباز آمان نے بتایا’’انسان کا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے وغیرہ کا غلاف جلد ہے جلد بہت بڑا باڈی کا آرگن ہے ۔ سر سے پاؤں تک ہر انسان جلد کے غلاف میں لپٹا ہوا ہے۔ جلدی بیماریاں انسان کی کوالٹی آف لائف کو متاثر کرتی ہیں۔ اس لئے اس شعبے میں کوالٹی آف لائف اور کاسمیٹک لُک کی ڈیمانڈ ہے۔ جنرل میڈیسن پریکٹس میں چالیس فیصد مریض جلدی امراض کے آتے ہیں۔

اس کے پیش نظرمیں نے ڈرماٹالوجی کو جوائن کیا اور کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان سے93ء میں MCPS کیا اور99ء میں ڈرماٹولوجی میںFCPS کیا ‘‘۔ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ، پروفیسر آف ڈرماٹولوجی، ایس آئی ایم ایس سروسز ہسپتال ،پروفیسر ڈاکٹر شہباز آمان نے بتایا’’ جلد موسمی اثرات سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ سردی کے موسم میں جہاں نزلہ،زکام،کھانسی،بخار سے انفیکشن وغیرہ اور دیگر بیماریاں ہوتی ہیں وہاں جلدی بیماریوں کے لحاظ سے بھی یہ موسم نہایت اہم ہے۔

بہت سی جلدی بیماریاں سرد موسم میں شدت پکڑ لیتی ہیںجن کا خصوصی احتیاط اور بروقت علاج سے ہی تدارک کیا جاسکتا ہے۔ موسم گرما کے مقابلے میں موسم سرما میں جلدی مسائل میں اضافہ ہوجاتاہے۔ گرمیوں میں پسینے اور اس کی چکنائی کی وجہ سے جلد خشک نہیں ہوتی جبکہ سردیوں میں ہوا میں نمی کاتناسب کم ہوتا ہے۔ ہواانسانی جسم کی نمی کوکھینچ لیتی ہے اور لوگوں میں جلد کے خشک،کھردری ، پھٹنے اور خارش کی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔

سرد ہوائیں ہماری جلداور بالوں پرا ثرانداز ہوتی ہیں۔ خاص طور پر خشک جلد پر سردہوائیں اپنے منفی اثرات چھوڑتی ہیں۔ 90فیصد افراد کی جلد نارمل ہوتی ہے‘ لیکن نارمل جلد کا بھی موسمی اثرات سے بچاؤ ہر صورت میں ضروری ہوتاہے۔ سردیوں کے موسم میں عموماََ گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے بندکردئیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے بیرونی ہواکے تمام داخلی راستے بند ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں کمرے میں موجود ہواکی نمی ختم ہوجاتی ہے اور ہوامزید خشک ہوجاتی ہے۔

اس طرح جلد کی خشکی میں بھی اضافہ ہوجاتاہے۔ جسم کے دوسرے حصوں کی طرح سردیوں میں سر کی جلد بھی خشک ہو جاتی ہے۔اور سر میںخشکی کی شکایات عام ہوجاتی ہیں۔ سر میں خشکی کی وجہ سے بالوں کی جڑیں متاثر ہوتی ہیں اور بال کمزور ہو کر گرنے لگتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ سر کی خشکی ہماری بھنووں اور کانوں تک پہنچ جاتی ہے اور اس سے بے چینی اور بے آرامی کی کیفیت جنم لیتی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا’’ فنگس کی وجہ سے سر میں ایک پیچ بن جاتا ہے جہاں سے بال اڑ جاتے ہیں۔ فنگس سر‘ چہرے ، جسم‘اورناخنوں پر لگتا ہے۔ اکثر خواتین کے پانی میں کام کرنے سے یعنی برتن کپڑے دھونے سے انگلیوں کے ناخن خراب ہو جاتے ہیں ناخنوں کے مختلف رنگ کالے‘ سبز اور براؤن ہو جاتے ہیں اور ناخنوں میں سوزش بھی ہو جاتی ہے۔ پانی اور چوٹ کی وجہ سے فنگس بڑھتی ہے۔

جن لوگوں کی جلد حساس ہے ان کے جسم کے کسی بھی حصے میں جلد پر نوکیلے شکل کا ایک رنگ بنا دیکھا ہوگا جسے عام لوگ دھدرد کہتے ہیں، یہ بھی فنگس ہی ہوتی ہے۔ چمبل (ایگزیما) کو بھی فنگس کہتے ہیں۔ سردیوں میں خصوصاً ہمارے ہاتھوں اور پیروں کی جلد خشک ہونے سے کھجلی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کا ایگزیما بھی ہوسکتا ہے، جس کا علاج کروانا ضروری ہوتا ہے۔

دنیا بھر کے صنعتی ملکوں میں جلدی بیماری ایگزیما کے مریضوںمیں 3 فیصد اضافہ ہو چکا ہے ۔ اس جلدی بیماری میں جلد پر خارش، سوزش اور جلد پر سرخ دانے نمودار ہوتے ہیں ۔ اس بیماری کی چند اہم علامات میں خارش، جلدی سوزش، خشکی، خون کا رسنا، جلد کا پھٹنا شامل ہے۔ اس کے اسباب میں کھانے پینے کی الرجی جیسے دودھ، انڈے سے ہونے والی الرجی، پالتو جانوروں، گھروں میں مٹی، دھول، پولن وغیرہ ممکن ہیں۔

دنیا بھر میں15 فیصد سے 20 فیصد بچے اور تقریباً 3 فیصد بالغ اس بیماری سے متاثر ہیں۔ ایگزیما کو کم کرنے کے لیے ایسے صابن یا شیمپو سے نہانے سے گریز کرنا چاہیے جن سے جِلد متاثر ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شہباز آمان نے بتایا’’ جلد کی خشکی کے باعث پیدا ہونے والی خارش کا علاج نہ کیا جائے تو یہ پورے جسم کو متاثر کر سکتی ہے۔ بہت سے مریض اسے معمولی اور موسمی تکلیف خیال کرتے ہیں اور اس سے نجات کے لیے عام لوشن اور موسچرائزر استعمال کرتے ہیں، لیکن ان سے افاقہ نہیں ہوتا، بلکہ بعض صورتوں میں یہ شکایت بڑھ جاتی ہے۔

انہیں فوری ماہرِ امراضِ جلد سے رجوع کرنا چاہیے، کیوں کہ یہ شکایت ایک فرد سے دوسرے کو بھی لاحق ہوسکتی ہے۔جلد ی خارش کے مریض کا تکیہ، تولیا، چادر، کنگھا، صابن اور ایسی تمام اشیاء الگ کر دیں، جو دوسرے بھی استعمال کرتے ہوں۔ اس طرح گھر کے دیگر افراد اس بیماری سے محفوظ رہیں گے۔ خارش کا مرض تیزی سے پھیلتا ہے۔ بچوں، خصوصاً نومولود کی جلد انتہائی حساس ہوتی ہے وہ خارش سے جلد متاثر ہوسکتے ہیں‘‘۔



پروفیسر ڈاکٹر شہباز آمان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا’’سرد موسم میں کم و بیش ہر کسی کو جلدی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ جلد کا خشک ہونا‘ ہونٹوں اور ایڑیوں کا پھٹنا‘ ہاتھوں کی کھال کا اترنا‘ انگلیوں کا سوجنا وغیرہ۔سردیوں میں جلد پر نمی کی کمی کی وجہ سے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی کھال اور ہونٹ پھٹنے لگتے ہیں ۔

یوں تو سردی میں سب لوگوں کے ہونٹ خشک رہتے ہیں لیکن جن کی جلد حساس ہوتی ہے ان کے ہونٹ بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ان کو چاہیے کہ لپ پام کا استعمال کریں۔ ہونٹوں پر زبان نہ پھیریں‘ رات کو سونے سے پہلے ہونٹوں کا بالائی سے مساج کریں اور دن میں زیتون کے تیل سے مساج کریں اس کے علاوہ ناریل اور بادام کا تیل برابر مقدار میں ملا کر ہونٹوں پر لگانا بھی فائدہ مند ہے۔

خشک جلد کی حامل خواتین کو ایسے موسچرائزر کا انتخاب کرنا چاہیے جو جلد کو مطلوبہ مقدار میں نمی فراہم کرے ۔ حساس جلد کو سردیوں میں خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ عام طور پر چکنی جلد کی حامل خواتین کا خیال یہ ہوتا ہے کہ انکی جلد چونکہ چکنی ہے لہذا وہ خشک نہیں ہو گی اور نہ ہی اسے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہے حالانکہ چکنی جلد والی خواتین کو بھی باقاعدگی سے موسچرائزر اور جلد پر قدرتی اجزاء کا استعمال کرنا چاہیے۔

بعض خواتین کا رنگ بھی کالا پڑجاتا ہے اس لیے سرد ہوائیں چلنے لگیں تو چہرے پر صابن کا استعمال ممکنہ حد تک کم کردینا چاہیے اس سے جلد خشک ہوتی ہے۔ جلد کو تروتازہ رکھنے کے لیے دن میں کم از کم آٹھ گلاس پانی پیئں ۔جب بھی چہرہ اور ہاتھ پاؤں دھوئیں تو کولڈ کریم یا لوشن استعمال کریں اس طرح خشکی سے حفاظت رہے گی۔ چہرے پر موئسچرائزر کی مقدار ذرا کم رکھیں۔

فالتو چکنائی کو روئی یا ٹشو رول کی مدد سے صاف کریں کیونکہ زائد چکنائی سے چہرے پر دانے نکلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ گیلے تولیے کو چہرے پر رکھ کر ہلکا سا دبائیں یا چہرے پر پانی کے چھینٹیں ماریں پھر تولیے سے چہرے کو تھپتھپائیں پھرفوراًموئسچرائزر لگالیں۔ خشک جلد نہایت باریک مسامات پر مشتمل ہوتی ہے۔ نوعمریا نوجوانی میں خشک جلد اچھی لگتی ہے‘ لیکن بڑھتی عمرکے ساتھ ساتھ اگر اس کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تواس پر قبل ازوقت گہری لکیریں بننے لگتی ہیں اور جلد کھردری ہوکر پھٹنے بھی لگتی ہے۔

تھوڑی سی توجہ سے خشک جلد بھی نارمل جلد کی طرح ہی ہوسکتی ہے۔ وقتی طور پر ہی سہی لیکن خشک جلد سے نجات ممکن ہے۔ایسی جلد کی حامل افراد کیلئے سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہوتی ہے کہ جب وہ 20یا 25سال کی عمر کوپہنچتے ہیں توان کے چہرے پر جھریاں نمودار ہونے لگتی ہیں، خصوصاََ خواتین کے ساتھ یہ مسئلہ عام دیکھنے میں آیا ہے۔ زیادہ دیر تک گرم پانی سے نہانا بھی جلدخشکی کا باعث بنتا ہے اس لئے سرد موسم میں غسل کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھئیے کہ پانی نیم گرم ہو اور غسل کا دورانیہ بھی دس منٹ سے زیادہ نہ ہو۔

اس کے علاوہ جلد کی حفاظت کے لئے نہانے سے پہلے پانی میں بے بی آئل یا کوئی اور تیل لے کر اس کے چند قطرے پانی میں ڈال لیں ۔ سرسوں یا کھوپرے کے تیل سے جسم پر مالش کریں۔ یہ طریقہ جلد کو شاداب رکھنے میں انتہائی معاون ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نہانے کے بعد بدن اچھی طرح خشک کرلیں اور کسی اچھے سے باڈی لوشن سے مساج کریں۔ روزانہ رات سونے سے قبل منہ دھو کر اچھی سی کولڈ کریم لگانا بھی فائدہ مند ہے۔

سردیوں میں جلد کو خشکی سے بچانے کے لیے رات کو سونے سے قبل ہلکے صابن اور پانی سے منہ دھوئیں، ’ ڈیپ پور کلینزر‘ سے جلد کی صفائی کریں۔ ہاتھوں اور پاؤں پر پیٹرولیم جیلی رات سوتے وقت لازمی لگائیں۔سرد موسم میں میک اپ کرتے وقت بھی خاص خیال رکھنا چاہیے ۔ میک اپ سے پہلے کسی معیاری موسچرائزر کا استعمال کریں تاکہ جلد نرم و ملائم رہے اور میک اپ خشک اور پھٹا پھٹا محسوس نہ ہو ۔

موسم سرما میں پانی کا استعمال زیادہکرنا چاہئے ۔ چائے اور کافی کااستعمال کم کردینا چاہئے کیونکہ ان چیزوں کااستعمال جسم سے پانی کے اخراج کو بڑھا دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ متوازن غذااستعمال بھی ضروری ہے۔ خشک جلد کی حفاظت کیلئے مرہم کی شکل میں دستیاب موئسچرائزر بہتر نتائج دیتے ہیں۔ خواتین اپنی خشک جلد کو روزانہ بہت زیادہ پانی پی کربھی صحت مند اور تروتازہ رکھ سکتی ہیں۔

ایسی غذاکھائیں جن میں معدینات اور حیاتین (وٹامنز) کی زیادہ مقدار ہو۔ صبح کے وقت زیادہ سے زیادہ آکسیجن اپنے اندر جذب کریں۔سردیوں میں مالٹے، سنگترے، گاجر، مولی اور دیگر موسمی پھلوں سے بھی جسم میں پانی کی کمی پوری کی جاسکتی ہے۔چکنی جلد پر کولڈ کریم کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے افراد اپنی جلد پر ناریل کا تیل لگا سکتے ہیں۔ سردیوں میں جلد کو تروتازہ اور شاداب رکھنے کے لیے رات کو سوتے وقت معیاری کولڈ کریم اور موسچرائزر کا استعمال کرنے سے جلد میں ضروری نمی برقرار رہتی ہے اور یہ طریقہ جلد کو سرد موسم کے اثرات سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

سردیوں میں ایک بڑا مسئلہ ایڑیاں پھٹنا ہے جو ناصرف تکلیف کا باعث ہوتی ہیں بلکہ بدنما بھی معلوم ہوتی ہیں ۔ چار چمچ گلیسرین میں ایک لیموں کا رس‘ دو چٹکی پسی ہوئی پھٹکڑی ملائیں اور دن میں دو تین بار پھٹی ایڑیوں پرلگائیں۔ رات کو گرم پانی میں نمک اور ایک چمچ سرسوں کا تیل ملالیںاور دس منٹ کے لیے دونوں پیروں کو اس میں رکھیں پھر جھانوے یا نرم برش سے صاف کریں۔ موزے پہن کر سوجائیں۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-11

Your Thoughts and Comments