بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحت6امراض کا علاج کافی سے

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
6امراض کا علاج کافی سے
کافی پوری دنیا میں کثرت سے استعمال کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کافی میں کس حد تک صحت بخش اجزا موجود ہیں؟ اور یہ آپ کے دماغ ، جگر اور جسمانی کارکردگی پرکس طرح اثرانداز ہوتی ہے۔
کافی پوری دنیا میں کثرت سے استعمال کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کافی میں کس حد تک صحت بخش اجزا موجود ہیں؟ اور یہ آپ کے دماغ ، جگر اور جسمانی کارکردگی پرکس طرح اثرانداز ہوتی ہے۔ تحقیق کاروں کاکہنا ہے کہ کافی میں ایسا کچھ نہیں ہے جس کو بنیاد بناکر اس سے دور رہا جاسکے ۔ ان کے نزدیک کافی کے بارے میں مفید باتیں ملاحظہ فرمائیں ۔
ٹائپ ٹوذیابیطس کے مریض :
کافی کسی نہ کسی طرح ٹائپ ٹوذیابیطس میں فائدہ مندہے ۔ کافی کی ایک معقول مقدار پینے سے شوگر کو فائدہ تو ہوتا ہے مگر انھیں بھی فائدہ ہوتا ہے جنھیں شوگر نہیں ہوتی۔ یعنی کافی شوگر کے لیے قوت مدافعت پیش کرتی ہے۔ کافی میں کیفین کے علاوہ دوسرے ایسے اجزا بھی شامل ہیں جو صحت کے لیے مفید ہیں ۔
سرطان :
کافی میں ایسے اجزا دریافت کیے گئے ہیں جو بڑی آنت ، جگر اور لبلبہ کو سرطان سے محفوظ رکھتے ہیں۔ تحقیق کاروں کاکہنا ہے کہ غذا کوآنتوں میں تیزی سے بڑھانے (آگے کرنے ) کے علاوہ کافی کولیسٹرول کی سطح کو بھی کم کرتی ہے ۔ کافی اور ورزش دونوں انسان کو جلد کے سرطان سے بچاتے ہیں ۔
دل کے امراض :
عمر دراز خواتین جو روزانہ ایک سے تین کپ کافی پیتی ہیں وہ گویا خود کو دل کے امراض سے 24فیصد بچا لیتی ہیں۔ مطلب جوخواتین کافی نہیں پیتی ان میں دل کے امراض کے امکانات 24فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 65یااس سے زیادہ کی عمر کے افراد جوروزانہ چاریااس سے زائد کپ کافی کے پیتے ہیں دل کے امراض کا بہت کم نشانہ بنتے ہیں ۔
جوڑوں کا درد :
کافی میں جو اجزا ہیں ، کیفین کو چھوڑ کر․․․․ یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ جوڑوں کے درد میں مفید ہے ۔ یہ درد جسم میں یورک ایسڈ کی سطح میں گڑبڑہوجانے کی وجہ سے ہوتا ہے اور بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
دماغ کوفائدہ :
جو شخص روزانہ صبح بیدار ہونے کے بعد کافی پیتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اس عمل سے اس کی سوچ اور واضح اور فعال ہوجاتی ہے مگر کافی دیگر طریقوں سے بھی دماغ کو فائدہ پہنچات ہے۔ ایک طبی تحقیق کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمر دراز خواتین جنھوں نے روزانہ تین کپ کافی ان کی یادداشت میں صرف 18فیصد کمی آئی اور جن خواتین نے ایسا نہیں کیا ان میں 33فیصد کی کمی آئی ۔
کافی اور کیلوریز :
شہروں میں کافی کااستعمال عام ہوگیاہے۔ اس میں کریم اور شوگر ملائی جاتی ہے جس سے کیلورز میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ کافی کی مختلف اقسام ہوتی ہیں اور ہر قسم میں کیلوریز کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ اگر آپ روزانہ کافی استعمال کرنے والوں میں سے ہیں توآپ کوکافی کے انتخاب میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ کافی میں اور بھی کئی حیرت انگیز معدنیات اور غذائی اجزا ہوتے ہیں مثلاََ کرومیم، میگنیشم اور نیاسن ․․․․ ایک کپ کافی میں اس قدر پوٹوشیم ہوتا ہے جتنا کہ ایک چھوٹے کیلے میں ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے