بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتآم پھلوں کا سردار بہت مزیدار

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آم پھلوں کا سردار بہت مزیدار
لیجیے آم کا موسم پھر آگیا۔ آم کو پھلوں کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان آم کا گھر کہلاتے ہیں۔ یہ موسم گرما کا مشہور اور لذید ترین پھل ہے۔
لیجیے آم کا موسم پھر آگیا۔ آم کو پھلوں کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان آم کا گھر کہلاتے ہیں۔ یہ موسم گرما کا مشہور اور لذید ترین پھل ہے۔ آم کو مشرقِ وسطی اور افریقہ میں ایرانی تاجروں نے متعارف کروایا۔ پاکستان کے آم ذائقے ،خوشبو اور اپنے رنگ و روپ کی وجہ سے دنیا کے بہترین آموں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اس کا اصل وطن برما اور مشرقی ہندوستان سمجھے جاتے ہیں۔ آم صحت بخش پھل ہے اس میں نمکیات ،بیٹا کیروٹین اور پوٹاشئیم ہوتے ہیں، جو صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں حیاتین الف اور ج (وٹامنز اے اور سی)زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ آم میں حرارے (کیلوریز)کم ہوتے ہیں ۔ آم قلب کو تسکین بخشتا ہے۔ خون صاف کرتا ہے۔ آنتوں اور معدے کو طاقت دیتا ہے۔ اس کے کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔ آم سے مثانے کی پتھری بھی خارج ہوسکتی ہے۔ آم کے رس میں دودھ ملا کر پینے سے رنگ نکھر جاتا ہے ۔ آموں میں بہترین آم اسے سمجھا جاتا ہے، جو بہت میٹھا اور بے ریشہ ہوتا ہے۔ روزانہ ایک آم کھانے سے ہضم کا نظام درست رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ قبض اور بواسیر کی شکایت بھی دور ہوجاتی ہے۔ آم کو بعض قسم کے سرطانوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔ آم کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی سطح بھی کم ہو جاتی ہے۔ کچا آم (کیری)کھانے سے گرمی ،متلی،قے اور پیاس دور ہوجاتی ہے۔ اسے کھانے سے لُو نہیں لگتی۔ آم کے اچار میں کیریاں شامل کی جاتی ہیں۔ یہ اچار بہت مزے دار اور ہاضم ہوتا ہے۔ اچار ڈالنے کا طریقہ یہ ہے:کیریوں کی گھٹلیاں نکال کر انھیں دھو کر خشک کرلیا جاتا ہے۔ ان کی قاشیں کاٹ کر ان میں نمک لگا کر چوبیس گھنٹوں کے لئے رکھ دیتے ہیں۔ لہسن کچل کر اور اس میں سرکہ،مرچ،ادرک،کشمش اور دیسی شکر ملا کر گرم کر لیا جاتا ہے۔ جب شکر گھل جاتی ہے تو کیریوں کی قاشیں شیرے میں ڈال کر دھیمی آنچ پر گلا لیتے ہیں۔ دال چاول یا سبزیوں کے ساتھ یہ اچار بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اچار کھانے سے بھوک خوب لگتی ہے، لیکن اسے زیادہ مقدار میں نہیں کھانا چاہیے۔ آم کے درخت کی لکڑی مختلف کاموں میں استعمال کی جاتی ہے۔ آم کے پتے، چھال اور بیج ادویہ بنانے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسہال کے خاتمے اور ذیا بیطس پر قابو پانے کے لیے مریض کو آم کے پتوں کا سفوف کھلایا جاتا ہے۔ آم کی چھال قبض سے نجات دلاتی ہے ۔ آم کے پتوں اور نرم شاخوں کے ٹکڑوں کو پیس کر ان کا لیب بنا کر بالوں میں لگانے سے بال لمبے اور سیاہ ہوجاتے ہیں۔ آم سے متعلق بعض شعرا کے لطیفے بھی مشہور ہیں۔ مرزا غالب کو آم بہت پسند تھے۔ ایک دن وہ چند دوستوں کے ساتھ گلی میں بچھی چار پائی پر بیٹھے آم کھاتے اور چھلکے پھینکتے جارہے تھے۔ ایک گدھا جو قریب ہی بندھا ہوا تھا، جب چھلے اس کے قریب گرے تو اس نے سونگھ کر چھوڑ دیے، لیکن انہیں کھایا نہیں۔ مرزا کے ایک دوست کو شرارت سُوجھی تو انہوں نے کہا: ”دیکھیے مرزا صاحب! آم تو گدھے بھی نہیں کھاتے۔“ مرزا غالب نے فوراََ جواب دیا: ”جی صاحب ! گدھے آم نہیں کھاتے۔ “علامہ اقبال کو بھی آم بہت پسند تھے۔ بیماری کے دنوں میں جب حکیم نابینا نے علامہ کو آم کھانے سے منع کیا تو علامہ اقبال نے بہت اصرار کرکے صرف دن علامہ صاحب کی میز پر ایک آم رکھا ہوا تھا، جو کسی طرح بھی ایک کلو سے کم نہ تھا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے