Achi Sehat Ke Liye Anar Khaiye - Article No. 2248

اچھی صحت کے لئے انار کھائیے - تحریر نمبر 2248

جمعرات 16 ستمبر 2021

Achi Sehat Ke Liye Anar Khaiye - Article No. 2248
شیخ عبدالحمید عابد
انار مشہور پھل ہے۔سب اسے مزے لے لے کر کھاتے ہیں،مگر انار صرف مزے دار پھل ہی نہیں ہے،بلکہ بہت سی بیماریوں کا علاج بھی ہے۔پھل اور دوا کے طور پر اس کا استعمال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بھی بہت پہلے سے ہو رہا ہے۔اگلے وقتوں میں لوگ اسے خوبصورتی کا نشان سمجھتے تھے۔ابھی کچھ عرصے پہلے تک انار کلی اور گلنار جیسے نام اکثر سننے میں آتے تھے۔

پرانے ادیبوں اور شاعروں کی کہانیوں اور نظموں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ہمارے ہاں اردو کے محاوروں میں ایک انار سو بیمار،چہرہ گلنار ہونا وغیرہ بھی استعمال ہوتے ہیں ۔
انار قدیم ترین پھلوں میں شمار ہوتا ہے۔مشرقی ملکوں میں اسے انجیر کے ساتھ بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔توریت کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس اناروں کے باغ تھے اور صحرا نوردی کے دوران بنی اسرائیل کو جن چیزوں کی یاد بار بار ستاتی تھی،ان میں انار بھی شامل تھا۔

(جاری ہے)

یہ پھل بحیرئہ روم کے خطے اور خلیج عرب کے علاقے میں بھی کاشت کیا جاتا ہے۔امریکی گرم علاقوں اور جنوبی امریکی ملک چلّی میں انار کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔ہندوستان میں پٹنہ (صوبہ بہار) کا انار شہرت رکھتا ہے،مگر پاکستان اور افغانستان جیسے شیریں اور لذیذ انار سے کم ذائقے دار ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں بھی اس پھل کا ذکر اکثر جگہوں پر آیا ہے سورئہ رحمن میں جنت میں پائی جانے والی نعمتوں کے باب میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”یہ وہ جگہ ہے،جہاں ہر قسم کے پھل جیسے کھجور اور انار موجود ہیں اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔


میٹھا انار حلق یا سینے کی سوزش اور پھیپھڑوں کے ورم و سوزش کے لئے اکسیر ہے۔پرانی کھانسی میں یہ بڑا کارآمد ہے۔انار کا رس پیٹ کو درست اور آنتوں کو نرم کرتا ہے۔یہ جسم کو مفید اضافی غذائیت اور توانائی مہیا کرتا ہے۔فوراً ہی جز و بدن ہو جاتا ہے۔اس کی عجیب تاثیر یہ ہے کہ اگر اسے غذا یا کھانے کے ساتھ کھایا جائے تو پیٹ میں کسی قسم کی خرابی اور گرانی پیدا ہونے نہیں دیتا۔

انار کھانے سے معمولی قبض ہو سکتا ہے۔معدے میں جلن ہو تو انار اُسے دور کر دیتا ہے۔یہ پیشاب آور بھی ہے۔صفرے کو تسکین دیتا،قے اور اسہال کو روکتا اور جگر کی بڑھی ہوئی حدت کو کم کر دیتا ہے۔انار کھانے سے اچھا خون بننے کی وجہ سے جسم کے تمام اعضا کو قوت ملتی ہے۔دل کی پرانی بیماریوں کو آرام دیتا اور معدے کے منہ (فم معدہ) کا درد دُور کرتا ہے۔


چھلکے سمیت انار کا پانی نکال کر اسے شہد کے ساتھ اُبال کر اس سے مسوڑوں کی مالش کی جائے تو پائیوریا کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔ صفراوی بخار میں پیاس بجھانے کے علاوہ بخار بھی کم کر دیتا ہے۔ترش انار کے فائدے بھی تقریباً میٹھے انار جیسے ہی ہوتے ہیں،بلکہ یہ صفرے کی شکایتوں سے نجات کے لئے زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔اس کے دانے بیج سمیت پیس کر اس میں شہد ملا کر ٹھیک نہ ہونے والے زخموں پر لگانے سے وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

جن لوگوں کا رنگ خون کی کمی کی وجہ سے پیلا پڑ گیا ہو،ان کے لئے انار کا کھانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔اس مقصد کے لئے میٹھے اور کھٹے انار کے دانے مساوی مقدار میں لے کر دونوں وقت کے کھانوں کے ساتھ کھانے چاہییں۔
انار اچھا مصفیِ خون بھی ہے۔اطبا انار مختلف امراض کے لئے مختلف انداز میں استعمال کراتے ہیں۔انار کی کلی اور چھلکا پیس کر منجن کے طور پر استعمال کرنے سے ہلتے ہوئے دانت جم جاتے ہیں۔

انار کی کلی کا سفوف نکسیر کے لئے بھی مفید ہوتا ہے۔شربت انار اور جوارشِ انارین اس کے موٴثر اور مفید مرکبات ہیں۔اس موسم میں انار شوق سے کھائیے۔ترش اور شیریں انار کے دانوں میں تھوڑا سا نمک اور سیاہ مرچ ملانے سے یہ بہت ذائقے دار اور ہاضم ثابت ہوتے ہیں۔دل اور گردوں کی کسی بھی بیماری میں انار بے کھٹکے کھلایا جا سکتا ہے۔چونکہ اس میں مٹھاس کم ہوتی ہے،اس لئے ذیابیطس کے مریض بھی اسے کھا سکتے ہیں۔انار میں چکنائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے،اس لئے انار کھانے سے نہ شریانوں کو نقصان ہو گا،نہ کولیسٹرول بڑھے گا اور موٹاپا بھی کم رہے گا۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-16

Your Thoughts and Comments