بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتایک نئی سُپر فوڈ پاکستان میں

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایک نئی سُپر فوڈ پاکستان میں
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں 7-8سال قبل میں نے متبادل فصلوں پر کام کرنا شروع کیا جس کا مقصد ایسی فصلوں کو متعارف کروانا تھا جو غذائی اور طبعی لحاظ سے بہت اعلی ہوں اور مقامی آبادی کے لئے بہتر خوراک مہیا کرنے میں معاون ثابت ہوسکیں
ڈاکٹر شہزاد بسراء۔ پروفیسر شعبہ اگرانومی، زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد:
دنیا میں دس لاکھ سے زیادہ پھول دار پودے ہیں جن میں سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ پودوں پر سائنسدانوں نے تحقیق کی ہے ان میں سے کم از کم 50ہزار ایسے پودے ہیں جن سے انسانوں اور جانوروں کے لئے خوراک حاصل کی جاسکتی ہے۔ انسانی تاریخ میں جو شواہد ملتے ہیں اُس کے مطابق 3000 پودوں کو انسانی خوراک کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دنیا کی 75فی صد خوراک صرف 11پودوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ جن میں گندم، چاول ، مکئی، جَو، باجرہ، جوار، آلو، شکر قندی، یام، کماد اور سویابین شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر دنیا کی کل آبادی اپنے 60% سے زیادہ حرارے صرف 3 فصلوں یعنی گندم، چاول اور مکئی سے حاصل کرتی ہے۔ دنیا کی 7ارب سے بھی زائد آبادی کا بوجھ صرف چند فصلوں کے اوپر ہے جس کی وجہ سے اس بے پناہ آبادی کو خوراک مہیا کرنا ایک مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ اب دنیا میں بے پناہ سائنسی ترقی کے باوجود سب سے بڑا چیلنج بڑھتی آبادی کو خوراک مہیا کرنا ہے ۔ مثل مشہور ہے "خدائی بانٹ"غذائیت میں بھی اللہ تعالی نے دنیا میں ورائٹی اور تفریق رکھی ہے نہ انسان ایک جیسے نہ حیوان ایک جیسے ۔ کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، کوئی طاقت ور کوئی کمزور۔ زمین کا ہر خطہ مختلف آب و ہوا، نباتات، جانور اور انسان رکھتاہے ۔ یہی تفریق حسن کا باعث ہے ۔ انسان نت نئی جگہیں دیکھنے کے لئے سیاح بن جاتا ہے ۔ ہر علاقے کی تعمیرات الگ، لباس الگ ، خوراک الگ۔ ایک ہی طرح کی خوراک اورمصالحوں سے ہر علاقے کے لوگ مختلف پکوان تیار کر تے ہیں۔ اللہ تعالی نے تو ہر علاقے کے لئے الگ الگ زمین اور موسم دیئے تاکہ خوراک بھی ہر علاقے کے لحاظ سے مختلف پیدا ہو مگر بتدریج پوری دنیا نے صرف چند فصلوں پر ہی انحصار کر لیا نتیجتاً پوری دنیا میں ان فصلوں کو کاشت کرنے اور ان سے اس قدر زیادہ آبادی کے لئے خوراک حاصل کرنا مشکل اور پیچیدہ ترین ہوتاگیا۔ ہر علاقے میں مخصوص بیماریاں اور کیڑے بھی ہوتے ہیں جن سے مقامی نباتات بشمول فصلیں قدرے مدافعت بھی رکھتی ہیں۔ ایسے میں چند فصلوں کو دنیا میں ہر جگہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ تو ان میں کیڑے مکوڑوں کے حملے اور بیماریوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔پسماندہ اور ترقی پزیر ممالک میں چند مخصوص اجناس، دالوں، سبزیوں اور پھلوں کو ذائقے کی پسندیدگی اور معاشی حالات کی وجہ سے انحصار کیا جاتا ہے ، جیسے پاکستان میں گندم کی روٹی۔ جس کا نتیجہ کسی اہم غذائی عنصر کی کمی ، کمزوری اور بیماریوں کی شکل میں نکلتا ہے۔ ایک ہی طرح کی خوراک مسلسل کھانے سے کئی اہم غذائی اجزاء کی کمی واقع ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں انسانی صحت کمزور اور بیماریوں کا حملہ زیادہ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں کھانوں کی بیشمار اقسام استعمال کی جاتی ہیں اور ذائقے سے زیادہ غذائی اہمیت کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔ زیادہ اقسام کی خوراک کی وجہ سے عموماً کسی اہم غذائی عنصر کی کمی واقع نہیں ہوتی۔جِس کا نتیجہ لمبی عمر اور بہتر صحت ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے سائنسدانوں نے ایسی فصلوں کو بھی متعارف کرانا شروع کر دیا جو کہ اسی علاقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مگر ذائقہ، پسندگی یا کسی اور وجہ سے زیادہ ہر دل عزیزی حاصل نہ کر سکیں۔ اور سائنسدانوں نے ایسی فصلوں کو بھی نئی جگہوں میں متعارف کرایا جو صرف ایک مخصوص علاقے میں پسند کی جاتی تھیں۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ پچھلے کچھ عرصے سے اب ایسی بھی کچھ فصلیں کاشت کی جانے لگی ہیں اور عام آدمی کی پہنچ میں آرہی ہیں جو پہلے صرف در آمد کی جاتیں ہیں جیسے کہ سٹرابیری، چیکو ،لوکی، گول ٹماٹر، براکلی اور پپیتا وغیرہ۔ان میں زیادہ تر فروٹ اور سبزیاں ہیں۔ جبکہ بنیادی اجناس میں گندم اور چاول پر ہی ہماری قوم اپنی زیادہ تر خوراک کا انحصار کرتی ہے، جن میں کئی امائنو ایسڈ اور اہم نمکیات کم مقدر میں پائے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں عام آدمی غذائی قلت کا شکار ہوتا جا رہاہے ۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں 7-8سال قبل میں نے متبادل فصلوں پر کام کرنا شروع کیا جس کا مقصد ایسی فصلوں کو متعارف کروانا تھا جو غذائی اور طبعی لحاظ سے بہت اعلی ہوں اور مقامی آبادی کے لئے بہتر خوراک مہیا کرنے میں معاون ثابت ہوسکیں۔ اس ضمن میں ایک مقامی پودا مورنگا ( سوہانجنا) پہلے ہی ہر دل عزیزی اختیار کر چکا ہے ۔اب ایک نئی فصل بنیادی جنس کے طور پر متعارف کر وا دی گئی ہے یہ فصل ربیع میں اگائی جاتی ہے کم پانی ، کمزور زمینوں (کلر اٹھی) ،بے پناہ موسمی سختیوں اور کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے حملوں کے خلاف مدافعت رکھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کررہی ہے۔ اس فصل کے بیج کو چاول کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اس جنس میں انسانی ضرورت کی تقریباً تمام اہم غذائی اجزاء گندم چاول اور مکئی سے کہیں زیادہ بہتر پائے جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ نمکیات جن میں زنک، کیلشیم ، آئرن اور میگنشیم شامل ہیں، بہت اچھی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ جبکہ پروٹین کی کوالٹی بہت اچھی اور چاول سے تین گنا اور گندم سے ڈیڑھ دوگنا زیادہ پائی جاتی ہے۔ جبکہ کئی بیماریوں کے خلاف یہ قدرتی علاج ہے ۔دنیا کی ایک بڑی آبادی بلڈ پریشر میں مبتلا ہے ۔ اس کی وجہ سوڈیم ہے ۔یہ جنس سوڈیم سے تقریباً پاک ہے جِس کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کے لئے آئیڈیل خوراک ہے۔ دنیا کے 10سے 15فیصد لوگ پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہیں جو ایک پروٹین گلوٹن کی وجہ سے ہوتی ہے جو گندم اور جو میں پائی جاتی ہے جبکہ دنیاکی بڑی پڑھی لکھی آبادی (IBS)(Ioritable Bowll Syndrome)میں مبتلا ہے جس میں پیٹ اکثر خراب رہتا ہے یہ بھی اسکا قدرتی علاج ہے کیونکہ یہ گلوٹن سے پاک ہے ۔ اسکے بیجوں کے اندر کولیسٹرول کم کرنے والا تیل بھی موجود ہے ۔ ان خوبیوں کی وجہ سے اسکو دنیا میں سپر فوڈ کا رجہ حاصل ہے اور NASAنے آئندہ سے خلا میں جانے والے سائنسدانوں کی خوراک قرار دے دیا ہے ۔
اتنی خوبیوں کی وجہ سے اس کی ڈیمانڈ دنیا میں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اس کا نام قینوا (Quinoa), ہے۔ اس کو Keen-Wah بولا جاتا ہے۔ اس کا مسکن لاطینی امریکہ ہے۔ لاطینی امریکہ میں یہ فصل 50سے60من فی ایکڑ پیداوار دے سکتی ہے ۔ جبکہ دنیا میں اس کی اوسط پیداوار 15من فی ایکڑ ہے ۔ جبکہ ہم نے اس کی ایسی قسمیں دریافت کر لیں ہیں جو کہ پاکستان میں 32من فی ایکڑ تکپیداوار دے رہی ہیں جو دنیا کی اوسط سے تقریباََ دُگنی ہے۔ کلراٹھی زمینوں میں بھی اِس کی پیداوار میں خاص کمی نہیں دیکھی گئی۔ جبکہ اس کی غذائی اور طبعی صلاحیت لاطینی امریکہ والے قینوا کے برابر ہے ۔ اِس وقت ترقی یا فتہ ممالک میں اِس کی ڈیمانڈ پوری نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یہ بیج 3500روپے فی کلو بک رہا ہے جو غالباََ دنیا کی مہنگی ترین جنس ہے ۔ مقامی کامیابی کے بعد اس کی ایکسپورٹ بھی شروع ہو چکی ہے
ہم نے اس بیج میں سے انتہائی لذیزمقامی پکوان بھی بڑی کامیابی سے تیار کئے ہیں جن میں دلیہ، پلاؤ، بریانی، کھیر، کیک، سلاد وغیرہ شامل ہیں۔ اِس کے آٹے سے روٹی بھی بن سکتی ہے۔ لاطینی امریکہ میں ڈبل روٹی، بیکری کا دیگر سامان، جوس، پاسٹا سمیت نے شمار ڈشیں بنائی جاتی ہیں۔قینوا کے بیج کے اوپر ایک صابن نما کیمیکلز کی تہہ ہوتی ہے جو کیڑوں کے حملے سے محفوظ رکھتی ہے لیکن انسانی معدہ ہضم نہیں کر سکتا اس لئے پکانے سے پہلے قینوا کو پانی کی تیز دھار کے نیچے اچھی طرح مل کر دھونا ضروری ہے ۔جبکہ پکاتے ہوئے اُبال کاپہلا پانی بھی ضائع کردیں۔ اس ابلے ہوئے قینوا کو ہر قسم کی خوراک مثلاً سلاد اور سبزیوں میں شامل کیا جاسکتا ہے یا چاول کی طرح پکایا جا سکتا ہے ۔
مزید معلومات کے لئے
041-2619675
shehzadbasra@gmail.com
بیج کے لئے: آصف ریاض 03336032767

(19) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     شہزاد بسرا

شہزاد بسرا کے مزید مضامین پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-