Aloo Bukhara - Article No. 1950

آلو بخارا - تحریر نمبر 1950

بدھ ستمبر

Aloo Bukhara - Article No. 1950
ثمرہ اقبال
آلو بخارا یا آلوچہ ایک خوش ذائقہ پھل ہے جو حیاتین (وٹامن) کا خزانہ ہے اور ان دنوں یہ پھل بازار میں عام دستیاب ہے۔اس پھل کی ایک بڑی خوبی اس کا قبض کشا اور زود ہضم ہونا ہے اور حکیم اسے عمدہ غذا اور بہترین دوا بتاتے ہیں۔قدرت نے اس قرمزی رنگت والے پھل کو خوب نما بنایا ہے۔یہ دیکھنے میں اکثر آتشیں سرخ بھی نظر آتا ہے۔

اس کا چھلکا نرم اور اندر گودا ہوتاہے۔یہ پھل نشاستہ دار اجزاء کے علاوہ کیلشیم،پوٹاشیم، فلورین،فاسفورس،امینو ایسڈ،گلوکوز کی وجہ سے صحت بخش اور جسم کے لئے مفید ہے۔آلو بخارے میں وٹامن اے،بی بھی پائے جاتے ہیں،لیکن یہ پھل وٹامن سی کا خزانہ ہے جو ہمیں کئی طبی مسائل اور پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے۔

(جاری ہے)

پھلوں کی تاثیر اور افادیت سے متعلق کتب میں لکھا ہے کہ آلو بخارے کا مزاج سرد تر ہوتا ہے اور یہ معدہ کی تیزابیت دور کرنے کے لئے انتہائی مفید پھل ہے۔


یہ پھل دو سے تین گھنٹوں میں ہضم ہو کر جذو بدن بن جاتا ہے گرم مزاج،جن لوگوں کے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ انھیں زیادہ سوچنا اور غور کرنا پڑتا ہے،ان کے لئے یہ پھل نہایت مفید ہے جب کہ بیماری کے بعد اور حاملہ عورتوں کے لئے بہترین غذا ہے۔آلو بخارا معدہ کی سختی،جلن اور اُدھارہ دور کرتا ہے،بھوک لگاتا ہے۔صدیوں سے اس پھل کو پیاس اور صفرا کا زور توڑنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

اسے جگر کی گرمی،ہاتھ پاؤں کی جلن ختم کرنے کے ساتھ ساتھ طبیب اور حکیم چڑچڑاپن دور کرنے میں بھی مددگار بتاتے ہیں ۔آلو بخارا پاک وہند میں عام ہے اور اسے خشک کرکے بھی کھایا جاتا ہے۔خشک آلو بخارے کو برصغیر میں مختلف پکوان میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
شیخ الرئیس بو علی سینا‘علامہ برہان الدین نفیس اور ملاسدیدی نے اپنی اپنی تصانیف میں آلو بخارا کے استعمالات لکھے ہیں۔

سرد تر تاثیر کا حامل یہ پھل حقیقی طور پر خوش طور پر ترش ہے مگر پختہ ہو کر جب اس کا رنگ سیاہی مائل ہو جائے تو شیریں ہو جاتا ہے۔اس کے پودے کشمیر‘ہمالیہ‘ پاکستان‘افغانستان اور ایران میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔جبکہ اس کا اصلی مسکن دمشق ہے۔آلو بخارا پاکستان میں موسم گرما کے عوارضات اور حدت صفرا کے لئے بکثرت کھایا جانے والا پھل ہے۔

وادی کشمیر میں دلکش باغات کثرت سے پائے جاتے ہیں جن میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہوتے ہیں۔آلو بخارا کشمیر کے مخصوص پھلوں میں سے ایک ہے۔اس میں دوائی اور غذائی دونوں قسم کی خصوصیات نمایاں ہیں۔
آلو بخارا ملٹی وٹامن پھل ہے۔اس میں کئی قسم کے وٹامن پائے جاتے ہیں۔آلو بخارا وٹامن الف،ب،ج اور ز(پی) سے بھر پور ہوتا ہے۔ وٹامن (پی) کی کمی سے خون پتلا ہو جاتا ہے۔

اور بدن کے مختلف حصوں میں سے پھوٹ نکلتا ہے۔آلو بخارا میں وٹامن پی خون کے اس عارضے کا علاج ہے۔اس پھل میں چکنائی،پروٹین،وٹامن اے،بی،سی،کے اور ای پائے جاتے ہیں علاوہ ازیں کیلشیم،آئرن،پوٹاشیم، سوڈیم اور میگنیشم بکثرت پائے جاتے ہیں۔
آلو بخارا اینٹی آکسیڈنٹ کا حامل ہے یہ کینسر کے امکان کو ختم کرتا ہے۔یہ جسمانی اور دماغی صحت کے لئے بھی بہتر ہے۔

یہ کولیسٹرول کی شرح کو کم کرتا ہے اور جگر کی صحت کے لئے اکسیر مانا جاتا ہے۔اس میں پوٹاشیم کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔اس لئے بی پی کو کنٹرول بھی کرتا ہے۔ دل کے لئے مفید غذا ہے۔دل کے تمام امراض خفقان،اختلاج وغیرہ میں فائدہ مند ہے۔ایسے مریضوں کو جو قبض میں مبتلا ہوں آلو بخارا بالخصوص مفید ہے۔یہ قبض کشا بھی ہے۔اس کا مزاج سرد تر ہے اور اس طرح جسم کی گرمی اور خشکی دور کرتا ہے ،پیاس کو بجھاتا ہے اور بدن کی حدت میں نافع ہے۔

گرمی کی وجہ سے بعض حضرات کے سر میں درد ہو جاتا ہے اس صورت میں آلو بخارا کھائیں۔موسم گرما میں قے اور متلی کا موثر علاج ہے۔اس موسم میں خون میں جوش ہوتا ہے جس سے پھوڑے پھنسیاں اور خارش جیسے عوارض لاحق ہو جاتے ہیں۔
آلو بخارا ان عوارض کا علاج ہے۔صفرا میں بھی مفید ہے۔پھل کے طور پر آلو بخارا پانچ سے دس دانے کھائیں۔دس دانے کھانے سے آسانی سے اجابت ہوتی ہے۔

آلو بخارا معدہ کی تیزابیت اور جلن کے لئے فائدہ مند ہے۔جن لوگوں کو پیشاب میں یورک ایسڈ یا تیزابی مادوں کی زیادہ مقدار خارج ہوتی ہو انہیں آلو بخارا استعمال کرنا چاہیے۔بخار میں آلو بخارا بڑا موثر ہوتا ہے۔خشک ہونے سے اس کے غذائی اجزاء اور وٹامن ضائع نہیں ہوتے۔طب یونانی میں خشک آلو بخارا دوا کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔نکسیر کی صورت میں آلو بخارا خشک آٹھ عدد مٹی کے برتن میں ایک سیر پانی میں بھگو دیں پھر اس برتن سے پانی پئیں جس قدر اس برتن سے پانی پئیں اسی قدر پانی اس برتن میں دوبارہ ڈال دیں۔

دوسرے دن نیا آلو بخارا ڈالیں چند روز میں نکسیر رک جائے گی۔
خشک آلو بخارا چھ عدد،املی دس گرام ایک کپ پانی میں بھگو دیں،دو تین گھنٹے بعد چھان کر نمک ملا کر پئیں اس سے قبض دور ہو گی۔ املی اور آلو بخارے کا پانی موسم گرما کے لئے بہترین مشروب ہے۔ جسم کی حدت کو دور کرتا ہے اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہے۔املی اور آلو بخارے کے پانی میں برف اور نمک کا اضافہ کریں تو لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔

رگوں اور ہڈیوں کے امراض میں مفید مانا گیا ہے۔ بدہضمی کی شکایت میں آلو بخارے کا استعمال کرایا جاتا ہے جس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں اس کا شربت،گرمی کے دانوں میں توانائی فراہم کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آلو بخارے کے استعمال سے خون کی کمی کی شکایت کا فور ہو جاتی ہے اور یہ چھاتی کے کینسر سے بچاؤ میں معاون ہے۔شوگر کے مریض بھی اسے ہچکچاہٹ کے بغیر کھا سکتے ہیں۔آلو بخارے کا استعمال بالوں،جلد اور بینائی کے لئے بھی مفید ہے۔گرمیوں میں آلو بخارے کا شربت نہ صرف تازہ دم کرتا ہے بلکہ توانائی بھی پہنچاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-09

Your Thoughts and Comments