Aloo Bukhara Khush Rang O Mazedar - Article No. 2232

آلو بخارا ۔ خوش رنگ و مزیدار - تحریر نمبر 2232

بدھ 25 اگست 2021

Aloo Bukhara Khush Rang O Mazedar - Article No. 2232
گرمیوں کے موسم میں جہاں پھلوں کے بادشاہ کی حکمرانی گھروں اور بازار کی زینت ہوتی ہے وہیں دوسرے پھل مثلاً خوبانی،آڑو،کیلا، چیری،تربوز،گرما،لیچی اور آلو بخارا بھی براجمان نظر آتے ہیں۔ان سب کی افادیت اور اہمیت کو مدنظر رکھ کر موسم کا ہر پھل بقدر ضرورت استعمال کرنا چاہئے۔
آلو بخارا خوش رنگ و خوش ذائقہ پھل ہے یہ قدرے ترش اور مٹھاس کا امتزاج ہوتا ہے۔

پہلے کسی دور میں یہ پھل افغانستان سے آیا کرتا تھا مگر اب ہمارے وطن کے شمالی علاقہ جات اور کوئٹہ بلوچستان کے سبزہ زاروں میں اس پھل کے باغات لدے نظر آتے ہیں۔پنجاب کے وسطی علاقے میں بھی اس کے وسیع باغات موجود ہیں۔
قدیم طب کے مطابق آلو بخارے کا مزاج دوسرے درجے میں سرد تر ہے۔اس کا گودا اگر سیاہی مائل چھلکا اتار کر کھایا جائے تو خوش ذائقہ ہونے کے علاوہ ہاضم بھی ہے۔

(جاری ہے)

پیٹ میں گرانی پیدا نہیں کرتا۔بھوک لگاتا ہے۔غیر طبعی پیاس بجھاتا ہے نیز سینے کی جلن اور جکڑن کو فوری ختم کرتا ہے۔موسم گرما کے بخار میں جسے ملیریا بھی کہا جاتا ہے اس وقت مریض کے منہ کا ذائقہ خراب ہوتا ہے۔شدید پیاس بھی لگتی ہے۔حلق خشک ہوتا ہے۔اس ساری کیفیت میں آلو بخارا ایک نعمت خداوندی ہے۔آلو بخارے کی چٹنی عام طور پر خشک آلو بخارے سے تیار کی جاتی ہے۔

اس کی افادیت بھی مسلمہ ہے۔یہ خوش ذائقہ اور لذیذ چٹنی صفراء مزاج میں بہترین غذا اور دوا ثابت ہوتی ہے۔بھوک بڑھاتی ہے اور غذا کو ہضم کرتی ہے۔
تازہ آلو بخارا دائمی قبض کو دور کرتا ہے۔آم کھانے کے بعد کچی لسی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے اور آم کی حدت دور کرنے کے لئے آلو بخارے سے بہتر کوئی غذا نہیں۔قدرت کی حکمت دیکھئے کہ آم اور آلو بخارا ایک ہی موسم کے پھل ہیں۔

آم اگر خون بڑھاتا ہے اور حدت بھی پیدا کرتا ہے تو آلو بخارا اس حدت کو معتدل کرکے جسم میں شکر کی مقدار کو بھی بڑھنے نہیں دیتا۔
منہ میں چھالے بننے کے عارضے میں آلو بخارا کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ہم ان چھالوں پر ملم لگاتے ہیں اور فولک ایسڈ کھاتے ہیں یہ بھی درست ہے اور اگر آلو بخارا کھا لیا جائے تو بھی آرام آجاتا ہے۔املی اور آلو بخارے کے شربت کی افادیت بھی تسلیم کی جاتی ہے۔

آپ نے گرمی کے موسم میں اس کا شربت بکتے دیکھا ہو گا یہ دونوں اجزاء پیاس کا فطری توڑ کرتے ہیں۔
اس پھل میں Ferulic Acid وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو معدے اور آنتوں کے کینسر کے خلاف جسم کی حفاظت کرتے ہیں اسی طرح آلو بخارے میں Tannine بھی پائی جاتی ہے جو مثانے میں پائے جانے والے بیکٹیریا کو ختم کرنے کی طاقت رکھتی ہے علاوہ اس پھل میں وٹامن C،E آئرن اور پوٹاشیم بکثرت پائے جاتے ہیں۔100 گرام آلو بخارے میں 197 ملی گرام پوٹاشیم اور 3 گرام غذائی فائبرز بھی پائے جاتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-08-25

Your Thoughts and Comments