Amrood Qeemtan Mehnga Nahi

امرود قیمتاً مہنگا نہیں

جمعہ جون

Amrood Qeemtan Mehnga Nahi
امرود کسی بھی رنگ کا ہو سرخ یا سفید یہ نہایت مفید اجزاء اور ذائقے پر مشتمل ہوتا ہے۔سال میں دو مرتبہ آنے والا یہ پھل ہر دو موسموں کے لئے عمدہ خواص رکھتا ہے۔سردیوں میں نزلہ کھانسی اور موسم بہار اور اوائل گرمیوں میں قوت ہاضمہ،پیٹ کے کیڑوں،منہ کے چھالوں اور کولیسٹرول کم کرنے کے لئے انتہائی مفید پھل ہے۔
امرود کے پتے بھی ادویات بنانے میں استعمال ہوتے ہیں اور حکماء یونانی ادویات میں انہیں استعمال کرتے ہیں۔

امرود کو دھو کر اس کی قاشیں بنائی جائیں اور سیاہ مرچ چٹکی بھر نمک کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بلغم سینے پر نہیں جمتا۔کچھ خواتین نے امرود کو توے پر ہلکا سا بھون کر مرچ اور نمک کے ساتھ استعمال کرکے دمے اور الرجی سے بچاؤ کی تدبیر کی۔
حکماء خالی پیٹ امرود کھانے سے روکتے ہیں اسی طرح کچا امرود بھی نہیں کھانا چاہئے اگر گھر میں آجائیں تو انہیں دھوکر خشک کرلیں اور آٹے کے کنسٹر میں وبا دیں یہ آم کی طرح پکنے میں بہت دن نہیں لگاتے ۔

(جاری ہے)

کچا امرود قبض کرتا ہے اور یاد رکھیں کہ قبض کو ام الامراض کہا گیا ہے۔یہ بڑی آنت کے افعال میں بد نظمی لانے کا باعث ہوتا ہے ۔پکے ہوئے پھل کو بہت دیر تک رکھا رہنا درست نہیں اس میں فوراً ہی بیکٹیریا پیدا ہو جاتے ہیں اگر کبھی یہ صورتحال پیش آجائے تو امرود کو چھری سے کاٹنے کے بجائے ہاتھ سے توڑیں کپڑا سفید رنگ کا سامنے ہی نظر آجائے گا اسے تلف کر دینا ہی بہتر ہے۔


ذیابیطس کے مریض بھی امرود اور اس کا رس استعمال کر سکتے ہیں ۔خاص کر خون میں بڑھ جانے والی شوگر کے لئے امرود مفید پھل ہے۔
یہ ہاضم پھل ہے ۔روزمرہ کی غذا لینے کے بعد اور اگر مرغن کھانے کھا لئے ہوں تو خاص اس وقت امرود کھا لینا بہت مفید ہے۔ہاضمے کو تقویت ملتی ہے۔آنتوں کا نظام درست رہتا ہے۔اپھارہ نہیں ہوتا بلکہ بھوک کھلتی ہے اور معدے کا بھاری پن زائل ہو جاتا ہے ۔

جگر کو بھی نئی توانائی ملتی ہے۔
100گرام امرود کے اہم غذائی خواص
پانی 76گرام
پروٹین1.6فیصد
کیلشیم0.1فیصد
چکنائی0.2فیصد
فاسفورس0.4فیصد
فولاد1ملی گرام
وٹامن C 100-300ملی گرام
پوٹاشیم0.5فیصد
امرود آپ کا بہترین بیوٹیشن بھی اس کے گودے کا پیسٹ بنا کر ماسک کے طور پر لگائیے یا پتوں سمیت کو بھاپ میں پکا کر ٹھنڈا کرکے چہرے پر لگائیں۔
10منٹ بعد دھولیں۔دیکھئے کیا اس سے پہلے چہرے پر ایسا نکھار اور جلد کی قدرتی لچک موجود تھی تو پھر موسم کی اس سوغات سے کیوں نہ فیض اٹھائیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-06-19

Your Thoughts and Comments