Andha Khayeen Magar Kabhi Kabhi

انڈہ کھائیں مگر کبھی کبھی

جمعرات مارچ

Andha Khayeen Magar Kabhi Kabhi
صحت مند طرز زندگی گزارنے کے لئے صحت بخش اور معیاری غذا کا انتخاب خاص اہمیت رکھتاہے ہم میں سے اکثریت صرف اس نقطہ نظر پر عمل کرنا شروع کر دیتی ہے کہ صحت بخش غذا کا انتخاب یقینی بنایا ہے جو کہ کسی حد تک درست بھی ہے تاہم غذا کا ،خواہ وہ صحت بخش ہی کیوں ناہو،اعتدال کے ساتھ استعمال بھی لازم ہے ۔اگر انڈوں کی بات کی جائے تو اس میں کوئی دورائے نہیں کہ انڈہ ایک صحت بخش اور مفید غذا ہے تاہم بے اعتدالی کے ساتھ انڈوں کا استعمال بھی انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتاہے ۔

ایک نئی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ضرورت سے زائد یعنی دن میں دوبار انڈوں کا استعمال امراض قلب کے امکانات میں اضافے کا سبب بن سکتاہے۔
امریکہ میں ہونے والے مطالعے میں 30000سے زائد افراد نے حصہ لیا جس میں ان افراد نے عام لوگوں کے مقابلے میں روزانہ خوراک میں ایک سے زائد انڈے کا استعمال کیا ۔

(جاری ہے)

نتیجتاً یہ بات سامنے آئی کہ ان افراد میں امراض قلب کے امکانات عام لوگوں کے حساب سے قدرے زیادہ ہیں۔


illinoisکیNorthwestern Universityکے محققین نے بتایا کہ”ہمیں ایسے کولیسٹرول کی مقدار کم سے کم کرنا چاہئے جو کہ انڈوں اور پروسیسڈ فوڈیا گائے کے گوشت میں پایا جاتاہے ۔اس کولیسٹرول کا ضرورت سے زائد ذخیرہ ہماری صحت کے لئے انتہائی مضر صحت ہے۔“
JAMAنامی جنرل میں شائع کئے گئے مطالعے میں بتایا گیا ہفتے میں سے 4انڈے کھانے والے افراد میں امراض قلب ظاہر ہونے کے امکانات6فیصد بڑھ جاتے ہیں جبکہ ایسے افراد میں اموات کی شرح8فیصد زیادہ دیکھنے میں آتی ہے ۔

جبکہ300ملی گرام ڈائٹری فائبر کا روزانہ استعمال بھی امراض قلب اور اموات کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ ہے ۔
Northwestern Universityسے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر Norrina Allenنے گفتگو کے دوران بتایا”صحت مند طرز زندگی گزارنے کے لئے لازم ہے کہ خراب کولیسٹرول پر قابو پایا جائے ۔ایک جائزے کے مطابق کولیسٹرول انڈے خصوصاً اس کی زردی میں پایا جاتاہے ۔چنانچہ ایسی غذائیں جن میں کولیسٹرول کی مقدار زائد ہو ان کا استعمال ترک کرنا ضروری ہے جبکہ محتاط استعمال کرنے والے افراد امراض قلب کے خطرے سے محفوظ رہتے ہیں“۔


انڈوں اور امراض قلب کے درمیان تعلق اب تک کئی سائنسی تحقیقات کا موضوع رہ چکا ہے ۔ماضی میں ایسے کئی مطالعے کئے گئے ہیں جن کے مطابق انڈوں کی مقدار کا امراض قلب سے کوئی تعلق نہیں ثابت ہوا۔تاہم British Heart Foundation3کی سینئر ماہر غذائیت Victoria Taylorکی رائے میں اس تعلق کو واضح طور پر سمجھنے کے لئے اس پر مزید تحقیق کی جانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ”محض صحت مند غذا کا استعمال ہی کافی نہیں ہوتا۔

بلکہ اس کے استعمال میں توازن قائم کرنا بھی نہایت ضروری ہے ۔اگر کسی ایک غذا کا استعمال باکثرت کیا جاتاہے تو ہماری ڈائٹ میں دیگر مفید غذاؤں کے لئے گنجائش باقی نہیں رہ پاتی۔“
”انڈے غذائیت سے بھر پور غذا ہیں ان مطالعوں میں جہاں ان کی مناسب مقدار پر زور دیا جارہا ہے وہیں اس بات پر روشنی ڈالنا بھی نہایت ضروری ہے کہ ان کی تیاری کس اندازسے کی جارہی ہے ۔

مثال کے طور پر اناج سے تیار کردہ ٹوسٹ کے ساتھ ہاف بوائل انڈے کا استعمال روایتی تلے ہوئے انڈے کے مقابلے میں زیادہ غذائیت سے بھر پور اور مناسب انتخاب ہے۔“
انہوں نے مزید بتایا کہ”لوگوں کے کھانے کے انداز میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ایونٹ کی بنیاد پر حتمی رائے قائم کرنا درست نہیں ۔انڈے اور کولیسٹرول کے اس تعلق پر مزید تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔


King's College Londonکے پروفیسرTam Sandersنے بتایاکہ”امریکہ میں رہنے والے افراد کے کولیسٹرو ل کے اوسطاً استعمال کی بات کی جائے تو یہ روزانہ کے حساب سے 600ملی گرام ہے جو کہ برطانیہ کے رہائشیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جو روزانہ تقریباً 225ملی گرام تک کولیسٹرول کا استعمال کرتے ہیں ۔ہفتے میں 3سے 4انڈوں کا استعمال مناسب ہے جو کہ برطانیہ کی حالیہ ڈائٹری گائیڈ لائن ہے ۔اس موضوع پر تقریباً 17.5سال کم وبیش 6مطالعے کئے گئے ہیں جس میں 29,615امریکی باشندوں نے حصہ لیا۔
تاریخ اشاعت: 2020-03-26

Your Thoughts and Comments