Badam - Maghziyat Ka Badshah - Article No. 2080

بادام مغزیات کا بادشاہ - تحریر نمبر 2080

جمعرات فروری

Badam - Maghziyat Ka Badshah - Article No. 2080
بادام ایک نہایت مفید روغنی بیج ہے۔اسے کھانے والے کی صحت پر بہار آجاتی ہے۔جسم طاقت و توانائی سے بھر جاتا ہے اور عزم و حوصلے کے غنچے چٹکنے لگتے ہیں۔یہ مشہور خشک میوہ جسے بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے،بہت قدیم ہے۔عراق میں ہونے والی کھدائیوں سے جو ثبوت ملے ہیں،ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس دور میں بھی کھایا جاتا تھا۔یہودیوں کے ہاں بھی بادام اور اس کے درخت کی لکڑی کی بڑی مذہبی اہمیت تھی اور آج بھی مختلف مذہبی رسوم میں اس کی لکڑی استعمال کی جاتی ہے۔

ہندو بھی اسے اپنے اوتاروں کی غذا سمجھتے تھے۔چنانچہ ان کی مذہبی رسوم میں بادام دیوتاؤں کے چڑھاوے میں شامل کیے جاتے ہیں۔
مسلمان اطبا نے اس کی افادیت پر بڑی تحقیق کی اور اسے ایک نہایت مفید غذا قرار دیا۔

(جاری ہے)

چنانچہ عوام کے علاوہ شاہی درباروں میں بھی اس کی عظمت کا سکہ چلتا تھا۔خلیفہ معتصم باللہ نے اسپین کے عیسائی حکمراں فرڈی نینڈ کو تحفے میں بادام کی گریوں سے بنی ہوئی ایک شطرنج بھیجی تھی ۔

مغل بادشاہ اکبر گو پڑھا لکھا نہیں تھا،لیکن کاروبار حکومت میں اس کا دماغ خوب چلتا تھا۔اس کی وجہ اکبر نے خود بتائی کہ وہ پابندی سے بادام کھایا کرتا تھا۔
عظیم مفکر اسلام،حضرت شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ روزانہ 21 بادام نہار منہ کھاتے تھے۔اسی طرح شاہ اسماعیل شہید رحمة اللہ علیہ،مولانا اسحاق رحمة اللہ علیہ اور شاہ عبدالعزیز رحمة اللہ علیہ بھی بادام کھانے کے عادی تھے۔

تقویت دماغ کے لئے یہ بزرگ قرآن و حدیث حفظ کرنے والوں کو بھی اس کے کھانے کا مشورہ دیتے تھے۔مرزا غالب کے بارے میں بھی مشہور ہے کہ وہ بڑی رغبت سے بادام کھاتے تھے۔مسلمانوں میں بادام کا کھانا اس حد تک عام ہوا کہ اس نے اُن کے باورچی خانوں میں اہم مقام حاصل کر لیا اور اسے مٹھائیوں،حلووں کے علاوہ قورموں،کباب،بریانی اور دیگر پکوانوں میں استعمال کیا جانے لگا۔

آج بھی یہ بڑے اہتمام سے کھایا جاتا ہے۔کسرت اور ورزش کے شوقین افراد اسے بڑے اہتمام سے کھاتے ہیں۔اطبا تقویت دماغ اور قوت مردمی میں اضافے کے لئے مختلف انداز میں اسے کھلاتے ہیں۔
ماہرین کے تجزیے کے مطابق بادام میں حسب ذیل اہم و مفید اجزاء پائے جاتے ہیں:
روغن ثقیل(فکسڈ آئل) 53 فیصد
لحمیات(پروٹینز) 20 فیصد
شکر اور گوند 10 فیصد
معدنی نمک 5 فیصد
نشاستہ(کاربوہائیڈریٹ) 4 فیصد
حیاتین(وٹامنز) 4 فیصد
بادام پاکستان،ایران،افغانستان،ترکی،مراکش،اُردن،یورپ و امریکہ کے علاوہ دنیا کے کئی ملکوں میں پیدا ہوتا ہے۔

اس کی یوں تو کئی قسمیں ہیں،لیکن اس کی دو قسمیں اہم ہیں،یعنی بادام شیریں اور بادام تلخ۔شیریں بادام ہی بطور غذا و دوا استعمال ہوتے ہیں،جب کہ کڑوے یا تلخ بادام صرف بطور دوا استعمال کیے جاتے ہیں۔کڑوے بادام یا اس کا تیل کھایا نہیں جاتا۔اطبا نے اسے زہر قرار دیا ہے۔ دراصل اس میں موجود ایک تیزاب زہر قاتل ہوتا ہے۔کڑوے بادام سے تیل حاصل کیا جاتا ہے،جسے بیرونی طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اب اس تیل سے یہ زہریلا جزو بھی الگ کر لیا جاتا ہے۔ہماری بڑی بوڑھیاں کڑوے بادام کو پیس کر تنہا یا کسی ابٹن میں ملا کر منہ پر لیپ کرنے کا مشورہ دیتی ہیں ۔اس سے رنگ نکھرتا اور جھائیاں دور ہو جاتی ہیں۔
میٹھا بادام طاقت پیدا کرتا ہے۔اسے کھانے سے دماغ کی خشکی دور ہو جاتی ہے۔یہ آنتوں کی خشکی دو کرکے قبض کی شکایت ختم کرتا ہے اور خشک کھانسی سے بھی نجات دلاتا ہے۔

اسے تنہا یا مختلف دواؤں کے ساتھ باقاعدہ کھانے سے بینائی میں اضافہ ہوتا ہے اور دماغ و عصب بصری کو تقویت ملتی ہے۔
تازہ میٹھے بادام ملطف ہوتے ہیں،یعنی ان کے کھانے سے گاڑھی اخلاط پتلی اور نرم ہو کر دور ہو جاتی ہیں۔بادام میں غذائیت بہت ہوتی ہیں ،اس لئے اسے تنہا بھی کھایا جاتا ہے اور مختلف غذاؤں اور مقوی دواؤں وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

بادام ویسے تو چھلکے سمیت بھی کھایا جاتا ہے،چونکہ اس کا چھلکا ہضم نہیں ہوتا،اس لئے اسے دور کرکے کھانا زیادہ بہتر ہوتا ہے،اسی لئے اطبا بادام کو بھگو کر چھلکا دور کرکے کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
بادام میں 20 فیصد لحمی،یعنی گوشت بنانے والا مواد ہوتا ہے۔اس کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں نشاستہ بہت کم ہوتا ہے،اسی لئے یہ خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔

بادام کا تیل بشرطے کہ وہ خالص ہو،قبض دور کرتا ہے۔اسے سوتے وقت نیم گرم دودھ میں ملا کر پیتے ہیں۔اسے اس طرح متواتر پینے سے آنتوں کی خشکی دور ہو جاتی ہے اور دماغ کو بھی تقویت پہنچتی ہے۔اس کے علاوہ اس سے معدے کی تیزابیت ختم ہو جاتی ہے۔خشک کھانسی کو آرام ملتا ہے۔گلے کی خشکی دور ہوتی ہے اور گردے کے درد سے بھی چھٹکارا مل جاتا ہے۔بھگو کر چھلکا دور کیے ہوئے بادام کو خوب باریک پیس کر پانی اور چینی ملا کر چھان لیں۔

یوں ایک بہت مفید شربت تیار ہو جائے گا،جو زود ہضم بھی ہو گا اور تقویت کے علاوہ فرحت بھی بخشے گا۔اس سے پیاس بجھتی ہے اور خشکی و گرمی کی شکایت بھی دور ہو جاتی ہے۔اطبا اس میں حسب ضرورت الائچی،سونف اور سیاہ مرچ وغیرہ شامل کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔اس طرح اس کی افادیت اور بڑھ جاتی ہے۔صرف بھگوئے ہوئے بادام کو پانی میں پیس کر چھان کر تازہ چائے میں دودھ کے بجائے شامل کرکے شہد سے میٹھا کرکے پینا پرانے نزلے اور خشک کھانسی ختم کرنے کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔


خشک کھانسی کے لئے سات بادام بالائی کے ساتھ خوب چبا کر کھانا بھی ایک بہت مفید تدبیر ہے۔اس میں تھوڑی سی چینی بھی شامل کر لینی چاہیے۔تقویت دماغ کے لئے بھگوئے ہوئے بادام چھیل کر،خوب پیس کر ایک پاؤ نیم گرم دودھ میں ملا کر شہد یا مصری سے میٹھا کرکے پینا چاہیے۔ اسی کے ساتھ طب کا مشہور خمیرہ ہمدرد 6 گرام کھانے سے دماغ اور آنکھوں کو بڑی تقویت ملتی ہے۔

بادام پیس کر بطور حریرہ پکا کر بھی کھاتے ہیں۔اس کے ساتھ خشخاش،مغز کدو شیریں اور تربوز کے بیجوں کے مغز کو پیس کر اس میں نشاستہ 6 گرام اور چینی شامل کرکے حریرہ تیار کرتے ہیں۔اس سے دماغ کی طاقت کے علاوہ وزن میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ایک اور بہتر اور آزمادہ ترکیب یہ بھی ہے کہ 12 بادام اور 12 گرام کشمش رات کو پانی میں بھگو کر صبح خوب چبا کر کھائیں،اس سے تازہ خون بنے گا،دماغ، اعصاب اور قلب کو تقویت پہنچے گی اور وزن میں بھی اضافہ ہو گا۔

بھگوئے ہوئے بادام کو پیس کر آب جو (بارلی واٹر) میں شامل کرکے پینے سے گردے اور مثانے کی پتھری نکل سکتی ہے۔بعض اطبا کی رائے میں اس سے پتے کی پتھری بھی خارج ہو جاتی ہے۔
اکثر لوگ سینہ جلنے کی شکایت کرتے ہیں۔مرچ اور مسالے والی غذائیں زیادہ کھانے سے یہ شکایت ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں 7-6 بادام چھیل کر خوب چبا کر کھانے سے فوری طور پر آرام آجاتا ہے۔

یہ ترکیب دیگر دافع تیزابیت دواؤں سے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے۔ان میں شامل روغن معدے اور آنتوں کی سطح پر استر کر دیتا ہے۔یوں صفرے کی تیزی اور جلن کم ہو جاتی ہے۔نمک لگے ہوئے بادام بھی خشک کھانسی اور گلے کی خشکی و خراش کا مفید علاج ہیں۔یہ بادام بالخصوص ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بھی ایک اچھی غذا ثابت ہوتے ہیں۔
بلاشبہ بادام اب بہت گراں ہو گئے ہیں،لیکن تجربہ شاہد ہے کہ یہ مصنوعی حیاتین اور مقوی اشیاء سے بنے ہوئے ٹانکوں (Tonics) اور کیپسولوں کے مقابلے میں نہ صرف سستے ہیں،بلکہ ان سے بہت زیادہ مفید اور مقوی ہوتے ہیں۔

قدرت نے دیگر بے شمار مقوی و مفید اشیائے خوردنی کی طرح ان میں بھی مقوی اور صحت بخش اجزاء عمدہ تناسب سے یکجا کر دیے ہیں۔اپنے مخصوص ذائقے اور دل فریب مہک کی وجہ سے بھی بادام کو مغزیات میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-02-11

Your Thoughts and Comments