بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتبصارت کو بہتر بنانے والی غذائیں

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بصارت کو بہتر بنانے والی غذائیں
ہر آنکھ کے پیچھے پردئہ چشم کے مرکز میں خصوصی بافتوں کا ایک گُچھا ہوتاہے، جسے جوفِ چشم کہتے ہیں۔ جب پردئہ چشم کا جوف خراب ہونے لگتا ہے تو اس خرابی کی وجہ سے انسان بصارت سے محروم ہوجاتا ہے یا بصارت کم ہوجاتی ہے
حکیم راحت نسیم سوہدروی:
آنکھیں قدرت کا انمول عطیہ ہیں۔ زندگی کی تمام بہاریں آنکھوں سے ہی ہیں۔ آنکھوں کی قدروقیمت کسی نابینا سے پوچھیے۔ ہر آنکھ کے پیچھے پردئہ چشم کے مرکز میں خصوصی بافتوں کا ایک گُچھا ہوتاہے، جسے جوفِ چشم کہتے ہیں۔ جب پردئہ چشم کا جوف خراب ہونے لگتا ہے تو اس خرابی کی وجہ سے انسان بصارت سے محروم ہوجاتا ہے یا بصارت کم ہوجاتی ہے۔ یہ مرض عموماََ 60سال کی عمر کے بعد ہوتا ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ دنیا میں 2کروڑ 50لاکھ سے زیادہ افراد عمر بڑھنے کے باعث آنکھوں کے پٹھوں کی کمزوری اور سفید موتیے جیسے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بصارت کی امریکی ایسوسی ایشن کے جائزے کے مطابق یہ امراض بصارت کے خاتمے یا کمی کا باعث بن جاتے یں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ان امراض کا سبب ناقص غذا ہے۔ صحت بخش غذا میں لیوٹین اور زیکس تھن جیسے اہم غذائی اجزا ہوتے ہیں۔ جن کو باقاعدہ کھانے سے آنکھوں کے ان امراض سے محفوظ رہا جاسکتاہے۔ اس کے علاوہ حیاتین اور معدنیات پردئہ چشم کی کمزوری اور موتیے جیسے بیماریوں کا خطرہ کم کرسکتی ہیں۔ مزید یہ کہ ایسی غذائیں جن میں حیاتین ج (وٹامن سی)، حیاتین ھ (وٹامن ای) کیروٹین، زنک اور اومیگا۔3 فیٹی ایسڈ ہوتے ہیں ان کے کھانے سے نہ صرف عمر میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ یہ مذکورہ امراض کا راستہ روکنے میں بھی مددگار ہوتے ہیں۔ یہ اجزا سبز پتوں والی ترکاریوں، مکئی ، آم، آڑو اور بہت سے سبز اور سرخ ترکاریوں اور پھلوں میں پائے جاتے ہیں۔ جن افراد کی غذاؤں میں لیوٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ، ان میں آنکھوں کے امراض کی شرح بہت کم ہوتی ہے۔ تمباکونوشی کرنے والوں کو جوفِ چشم کے مرض کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ تمباکونوشی کرنے سے جسم میں موجود لیوٹین پر زیادہ منفی اثر پڑتا ہے۔ اس طرح لیوٹین حیاتین ج پر بھی مضر اثر ڈالتی ہے۔ ذیل میں ہم ان غذاؤں کا ذکر کررہے ہیں، جنہیں ہم کھا کر نہ صرف اپنی بصارت کو بہتر بناسکتے ہیں، بلکہ آنکھوں کے امراض سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔
انڈا:
ناشتے میں پروٹین سے بھرپور انڈا ضرور کھایا کریں ۔ انڈے میں اہم غذائی اجزا اور حیاتین پائے جاتے ہیں۔ انڈے کی زردی میں لیوٹین اور زیکس تھن سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ حیاتین ھ اور اومیگا۔۳ جیسے اہم اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ اگر دیسی انڈا میسر نہ ہوتو ہفتے میں چار دن فارم کے انڈے کھا لینا بھی مفید ہیں۔ آج کے دور میں پولیٹری فارم کے جو انڈے میسر ہیں ان میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس لیے یہ انڈے اعتدال میں کھانے چاہئیں۔ لیوٹین کی ضرورت پھل اور سبزیاں کھا کر پوری کریں۔
مالٹا:
یہ رس بھرا پھل حیاتین ج سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ آنکھوں کی بافتوں (ٹشوز ) کیلئے بہت اہم ہے۔ حیاتین ج آنکھوں کی بافتوں کو اس نیلی روشنی سے محفوظ رکھتی ہے، جو سورج کی روشنی میں پائی جاتی ہے۔ یہ حیاتین موتیے سے بچاؤ میں بھی مدد دیتا ہے۔ مالٹامانع تکسید اجزا (ANTIOXIDANTS)کی تشکیل میں بھی اہم کردار اکا کرتا ہے۔
پالک:
پالک کی ایک پیالی غذائیت، لیوٹین اور زیکس تھن سے بھرپور ہوتی ہے۔ پالک سینڈ وچز میں سلاد اور سبزی کے طور پر بھی کھائی جاسکتی ہے۔ اس میں یہ خصوصیت بھی ہے کہ اگر اسے پکا کر کھایا جائے تو اس میں موجود لیوٹین جسم میں بہ آسانی تحلیل ہوجاتی ہے۔
مکئی:
مکئی نہ صرف مزے دار ہوتی ہے، بلکہ اس میں لیوٹین اور زیکس تھن بھی ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطاق مکئی کو جس قدر پکایا جائے، اس میں اسی قدر لیوٹین اور مانع تکسید اجزا کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔ مکئی کو سوپ اورمختلف کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
گوبھی:
یہ سبزی حیاتین ج اور ریشے سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس میں بصارت بڑھانے والے اجزا لیوٹین اور زیکس تھن پائے جاتے ہیں۔ گوبھی کو آملیٹ، پذّا، میکرونی اور سلاد میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کرم کلّا:
کرم کلّا بند گوبھی کی ایک قسم ہے، جس میں حیاتین اور مانع تکسید اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں لیوٹین اور زیکس تھن جیسے اہم اجزا بھی پائے جاتے ہیں، جو بصار ت کیلئے مفید ہیں۔ ایک پیالی کرم کلّا کھانے سے ۸ء۲۳ گرام لیوٹین اور زیکس تھن حاصل ہوتے ہیں۔ اسے سلاد اور ترکاری کے طور پر کھایا جاتا ہے۔ یہ سرطان کو ختم کرنے میں بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ میٹھا کدو، لال انگور، ہرے مٹر، کھیرا، سنگترے کا رس، خربوزہ، آم، سیب، گاجر، شکر قند، خشک خوبانی اور ٹماٹر میں بھی لیوٹین اور زیکس تھن پائے جاتے ہیں، جو بصارت کی کمزوری کو دور کرنے میں مفید ہیں۔

(21) ووٹ وصول ہوئے