بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتبسیارخوری کے نقصانات

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بسیارخوری کے نقصانات
قداور عمر کے لحاظ سے ہمارا وزن کتنا ہونا چاہیے۔ ہمیں کیاکھانا اور کن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔۔۔
مارک بِٹ مین:
قداور عمر کے لحاظ سے ہمارا وزن کتنا ہونا چاہیے۔ ہمیں کیاکھانا اور کن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا، جس کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماراوزن روزبہ روز بڑھتا چلاجاتاہے اور ایک وقت ایسا آتاہے کہ ہم سخت ورزشیں کرکے بھی وزن نہیں گھٹاپاتے۔ الم غلّم غذاؤں (جنک فوڈز سے پیٹ بھرتے وقت ہم اپنے ساتھ یہ ظلم بھی کرتے ہیں کہ مقدار کا خیال نہیں کرتے۔ اگر کوئی چیز بہت مزے دار لگ رہی ہے توا س کے زیادہ کھانے کے نقصانات جانے بغیرہم بہت زیادہ کھابیٹھتے ہیں۔
دوبرس بیشتر جب مارک57سال کاتھا تو اس کاوزن حد سے زیادہ تھا۔جب اس نے یونی ورسٹی سے گریجویشن کیاتو اس کا وزن 75 کلوگرام تھا۔ پھر اس نے تمباکونوشی ترک کردی توبھوک کھل گئی اور اس نے آنکھیں بند کرکے کھانا شروع کر دیا، جس کانتیجہ یہ نکلا کہ پانچ سال بعد اس کاوزن 82کلو گرام ہوگیا۔ جب اس کے ہاں پہلی اولاد ہوئی اور اس نے اخبارات میں صحت پر مضامین لکھنے شروع کیے تو اس کے اثرات خودقبول نہیں کیے، مگر اپنے قارئین کوصحت کے اسرار و رموز سے آگاہ کرتا رہا۔س چنانچہ اس کاوزن 86کلوگرام تک پہنچ گیا۔ اگلے بیس برس گزارنے پر اس کاوزن 97کلوگرام ہوگیا۔
وہ پستہ قامت نہیں تھا، اس لیے وہ بھاری بھرکم نہیں لگتا تھا۔ بہرحال وہ وزن کی زیادتی کاشکار ہوچکاتھا اور اسے نت نئی بیماریاں لاحق ہورہی تھی۔ اس کا کولیسٹرول بڑھ چکاتھا۔ اس کے خاندان میں مٹاپاعام تھا اور بہت سے افراد ذیابیطس کے مریض تھے۔ پھر اسے ہرنیا (Hernia) ہوگیا اور گھٹنے جواب دینے لگے۔ بے خوابی نے اسے پریشان کرنا شروع کردیا۔
اس نے معالج سے مشورہ کیاتو اس نے ہدایت کی کہ وہ اپنا کولیسٹرول کم کرے اور اس کی آسان سی ترکیب یہ ہے کہ وہ کولیسٹرول کم کرنے والی دوائیں کھائے یاپھر گوشت کھانا کم کردے۔ خون میں شکر کی سطح کم کرنے کے لئے مٹھائیاں کھانے کے بجائے پھلوں کارس پیے۔ بے خوابی دور کرنے کے لیے 15فیصد وزن کم کرے۔
معالج کی ہرہدایت اس بات کی طرف اشارہ کررہی تھی کہ وہ سادہ غذا کھاے۔ بسیارخوری کی عادت نے اسے اس حال کوپہنچا دیا۔ چنانچہ اس نے گوشت کھاما تقریباََ ترک کردیا۔ اس کے علاوہ نشاستے والی غذاؤں سے بھی پرہیز کرنے لگا، جن میں الم غلّم غذائیں اور میٹھی اشیا شامل تھیں، البتہ رات کے کھانے میں اس نے کوئی تبدیلی نہیں کی اور تھوڑا ساگوشت، روٹی، کوئی ایک پھل، سلادیا پھر سوپ پیتا رہا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ہفتے میں تین دن لمبی، چہل قدمی شروع کردی۔ اب اس کی ٹانگیں اور گھٹنے ساتھ دینے لگے تھے۔
گوشت میں لحمیات (پروٹینز) ہوتی ہیں، جو صحت کے لیے ضروری ہیں، اس لیے اس نے سبزیاں پھل ثابت اناج اور ہلکے نشاستے والی چیزیں کھانی شروع کردیں۔ یہ سب چیزیں کھاتے ہوئے اس عجیب سالگتا تھا، مگر ان سے یہ فائدہ ہواکہ بے خوابی ختم ہوگئی اور گہری نیند آنی شروع ہوگئی، اس لیے ان غذاؤں کوترک کرنا مناسب معلوم نہیں ہوا۔ دل چسپ بات یہ کہ ایک ہفتے میں اس کاوزن 7کلو گرام کم ہوگیا۔دومہینے کے بعد کولیسٹرول کی سطح اور خون میں شامل شکر بھی کم ہوگئی۔ اس کا کولیسٹرول 240 سے گھٹ کر 180ہوگیاتھا۔
چارہ ماہ بعد اس کاوزن16کلوگرام کم ہوگیا۔ اب اس کا وزن اتنا تھا، جتنا کہ گزشتہ 30برسوں میں بھی نہیں تھا۔ گویا یہ بسیار خوری تھی، جس سے بیماریاں لاحق ہورہی تھیں۔ طرززندگی تبدیل ہواتو بیماریاں بھاگ گئیں اور وہ صحت مند ہوگیا۔
جب اس نے ساری بیماریوں سے نجات پالی تو گوشت کھانا بھی شروع کردیا۔ اس کی غذامیں سفید گوشت، یعنی مرغی اور مچھلی زیادہ شامل تھی۔ الم علّم غذائیں بتدریج ترک کردیں۔ اس کے کھانوں میں ہرے پتوں والی سبزیاں شامل ہوچکی تھیں۔ جسم کودرکار 50فیصد حراروں کے لیے اب حیوانی لحمیات کے بجائے ایسی سبزیاں کھا رہا تھا، جن میں لحمیات ہوتی ہیں۔
وزن گھٹانے کے لیے کھانا نہیں چھوڑنا چاہیے، بلکہ چند مخصوص چیزیں چھجوڑ کرمتبادل غذائیں کھانی چاہییں۔ صحت بخش غذائیں جوہماری صحت کے لیے مفید ہیں، کھانی ضروری ہیں۔

(4) ووٹ وصول ہوئے