Bhook Jagane Ayeen Sardiyaan

بھوک جگانے آئیں سردیاں

منگل فروری

Bhook Jagane Ayeen Sardiyaan
ساگ صدیوں سے ہماری ثقافت سے جڑے کھانوں میں شمار ہوتاہے ۔یہ موسم سرما کی خاص سوغاتوں میں سے ایک ہے ۔اہل پنجاب تو گویا سرسوں کے ساگ کا انتظار خنک ہوا کے پہلے جھونکے کے ساتھ ہی شروع کر دیتے ہیں یعنی جہاں موسم نے انگڑائی لی جاڑوں کا موسم شروع ہوا کھیتوں میں لہلہاتے سبزے کو دیکھ کر منہ میں پانی بھر آتاہے۔
تو موسم سرما کی رات کے لطف اٹھانے کے لئے گندلوں کا ساگ ہر دوسرے گھر میں پکایا جاتاہے اور شوق کا عالم نہ پوچھئے جب خالص مکھن یا ڈالڈاVTFبناسپتی کا تڑکا لگتاہے تو سارا گھر مہک اٹھتا ہے ۔

اسی لئے بڑی بوڑھیاں اور نوجوان پکانے والیاں بھی عین کھانے پیش کرنے کے وقت تڑکا لگاتی ہیں۔
دیہی گھرانوں میں جو خواتین اور مرد کھیتوں میں کام کرتے ہیں انہیں فولادی قوت درکار ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

اس مقوی غذا کو ہضم کرنے کے لئے چہل قدمی لازمی ہے تاکہ معدے پر بوجھل پن کا احساس نہ ہو۔لسی ،دیسی گھی،مکھن اور چھاچھ بھی اس لئے مشہور ہوئے۔
ساگ کی افادیت
نباتاتی پروٹین سے بھر پور یہ غذا گلوٹن سے پاک ہے ۔

آئرن(فولاد)کے علاوہ کلوروفل کی وسیع تر مقدار موجود ہے ۔اسے پکانے سے پہلے تین چار بار پانی میں دھویا جاتاہے ۔اس کے ساتھ بتھوئے کا ساگ اور تھوڑی سی مقدار میں پالک بھی شامل کرلی جاتی ہے ۔ساگ کو سرخ مرچوں کے بجائے ہری مرچ،زائد مقدار میں لہسن اور ادرک ڈال کے پکایا جاتاہے اور کم پانی میں پکا کر حلیم کی طرح گھوٹ لیا جائے یا گرائنڈر ،بلینڈر میں موٹا موٹا پیس لیا جائے ۔

اس کے بعد مکئی کا آٹا ملا کر بھگاڑ یعنی تڑکا لگایا جاتا ہے اس طرح وٹامن A،Cاور Lutein بکثرت پائے جاتے ہیں ۔علاوہ ازیں فولک ایسڈ،غذائی فائبرز اور پوٹاشیئم کے علاوہ آئرن کی وسیع تر مقدار موجود ہے غرضیکہ ساگ ہر لحاظ سے بہترین غذا ہے۔
بتھوا کی غذائی افادیت
پنجاب اور سندھ میں کھیتوں کے قریب منڈیروں کے نزدیک ندیوں کے قریب بتھوا اگا ہوا نظر آتاہے ۔

اس کی بھجیا بھی بنائی جاتی ہے۔ بتھوئے کے ساگ کو پکانے سے پہلے ابال کر اس کا پانی پھینک دیا جاتاہے پھر اسے گھی یا کوکنگ آئل میں بھون لیتے ہیں جس سے اس کے تمام قیمتی اجزاء ضائع ہو سکتے ہیں اگر پانی نہ پھینکا جائے اور اسے صرف 25منٹ تک پکاکے تڑکا لگا لیا جائے تو یہ بواسیر،پیٹ کے کیڑوں، بینائی اور بڑھی ہوئی تلی میں مفید ہے ۔یہ جگر کو طاقت دینے والی سبزی ہے۔


بتھوا میں ایسے معدنی ذخیرے اور نمکیات موجود ہیں جن کی موجودگی میں جراثیم زندہ نہیں رہ سکتے ۔جسم میں نیا خون پیدا کرتاہے ۔تپ دق ،ملیریا ،کالا آزاد ،کوڑھ ،نالیوں کے زخم کے جراثیم کا بھی قلع قمع کرتاہے۔نئی ماؤں کو ولادت سے قبل اور بعد میں ہونے والی تکالیف کے لئے بہت مفید سبزی ہے۔کیا آپ یقین کریں گے کہ ایلو پیتھک طریقہ علاج میں ایک مخصوص دوا پیٹ کے کیڑوں یعنیHookwormsکے لئے استعمال ہوتی ہے اس کا نامChenopodiumہے۔یہ دراصل ایک خوشبو دار تیل ہے جو بتھوئے کے تخموں سے نکالا جاتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-25

Your Thoughts and Comments