Bhook Par Mausam Ke Asraat

بھوک پر موسم کے اثرات

فریحہ فضل
”امّی مجھے بھوک نہیں ہے۔“پانچ سالہ فہمیدہ نے کہا۔کھانے سے اسے خاص رغبت نہیں تھی ۔کوئی بھی چیز کھانے کو کہو،اس کے منھ سے”نہیں“نکلتا تھا۔
وہ سردیوں میں خوب ڈٹ کر کھاتی تھی ،مگر نہ جانے کیوں گرمیوں میں اس کی بھوک اُڑجاتی تھی۔اس کی ماں اس صورت حال سے پریشان تھی۔عموماً چھٹی کے دن بچے منٹ منٹ پر کچھ نہ کچھ کھانے کو مانگتے رہتے ہیں ،لیکن فہمیدہ کا معاملہ مختلف تھا۔

اس کی ماں نگہت نے بتایا:”میں اسے ایک معالج کے پاس لے گئی تھی،کیوں کہ وہ روزبہ روز کم زور ہوتی جارہی تھی ۔اس کے چہرے کی رنگت پھیکی پڑ چکی تھی۔“
ڈاکٹر فرزانہ نواز نے بتایا کہ گرمی میں بچوں کو پسینا زیادہ آتا ہے اور ان کا جسم چپچپا ہو جاتا ہے ،اس لیے وہ کچھ کھا نہیں پاتے۔

(جاری ہے)

دو سے چھے برس کے بچے گرمیوں میں عموماً صحیح غذا نہیں کھا پاتے۔

بچوں سے متعلق امریکی اکیڈمی کا بیان ہے کہ گرمی میں بچے صحت بخش غذا نہیں کھا پاتے۔
لاہور کے ایک معالج شاہ حسن نے بتایا کہ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ کا پیٹ بھوک کو قابو میں کرتا ہے تو یہ خیال غلط ہے ۔اصل میں آپ کو دماغ بھوک کو قابو میں کرتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ آپ کھانا کھا کر شکم سیر ہوچکے ہیں یا ابھی کچھ بھوک باقی ہے ۔انھوں نے مزید وضاحت کی کہ انسانی جسم بہت دانا وبینا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ کب کیا کرنا چاہیے۔


دماغ کا ایک حصہ پیٹ کے ہارمونوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور بھوک میں طمانیت کے لیے ایک نظم اور ضابطہ پیدا کرتا ہے ۔دماغ کا ایک دوسرا حصہ جسم کے درجہ حرارت کو بھی توازن میں رکھتا ہے ۔گرمیوں میں جب پانی پسینے کی شکل میں باہر نکلتا ہے تو دماغ کا پہلا حصہ درجہ حرارت کو نظم وضبط میں رکھنے لگتا ہے تو بھوک پر توجہ نہیں دے پاتا۔
ڈاکٹرفرز انہ کہتی ہیں کہ گرمیوں میں ہضم کا نظام چوں کہ سست پڑ جاتا ہے ،لہٰذا بھوک کم لگتی ہے ۔

جب گرمی پڑتی ہے تو جسم کا درجہ حرارت بھی تقریباً اتنا ہی ہو جاتا ہے ۔جسم کے درجہ حرارت کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں اتنے حرارے(کیلوریز)جلانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔جب باہر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے تو جسم خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔خود کو ٹھنڈا رکھنے میں جسم کو اتنی محنت کرنی پڑتی ہے کہ بھوک دب جاتی ہے ۔
گرمیوں میں یہ شکایت عام ہے کہ بچوں کو بھوک کم لگتی ہے۔

والدین اس صورتِ حال سے پریشان ہوتے اور یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ صحت کا کوئی گھمبیر معاملہ ہے ۔حال آنکہ بھوک کا بڑھنا یا گھٹنا موسم ،عمر اور حالات پر منحصر ہے ۔یہ معاملہ پریشان کن نہیں ہے ،جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے ،لیکن بچوں کا وزن گھٹنا شروع ہو جائے تو والدین کو تشویش ہو نی چاہیے،اس لیے کہ جیسے جیسے بچے پروان چڑھتے ہیں ،ان کی بھوک میں اضافہ ہونا چاہیے۔


پیدایش کے پہلے برس میں بچہ تیزی سے پروان چڑھتا ہے ۔اس کے بعد شرح پروان سست ہو جاتی ہے ۔اس دوران اگر اس کی بھوک میں قدرے کمی آجائے تو یہ تشویش ناک بات نہیں ہے ،اس لیے کہ پیٹ کے کیڑوں ،نزلے بخار،پیٹ کی خرابی اور سر کے درد سے بھی بچوں کی بھوک کم ہو جاتی ہے ۔ذہنی دباؤ کی بنا پر بچوں کی بھوک پر منفی اثر مرتب ہوتا ہے ۔
ڈاکٹر فرزانہ کامشورہ ہے کہ جو غذا بچوں کو کھلائی جائے ،وہ نہ صرف یہ کہ ذائقے دار ہو،بلکہ دیکھنے میں بھی خوش نما ہو ۔

بھنی ہوئی اشیاء توانائی بخش اور مزے دار ہوتی ہیں ۔بچے کو بھوک نہ لگ رہی ہو تو زبردستی کھانا نہ کھلائیں ،بلکہ اس کی بھوک کے مطابق کھانا دیں ۔کھانے کے دوران اسے پانی زیادہ نہ پلائیں ،
ورنہ پانی سے اس کا پیٹ بھر جائے گا ۔بھوک نہ لگنے پر بچوں کو معالج کے مشورے سے کثیر الحیاتین
(MULTIVITAMINS)گولیاں کھلائی جا سکتی ہیں یا پھر بھوک لگانے والی کوئی دوا بھی دی جا سکتی ہے ۔


دودھ اور پھلوں کے رس میں حرارے زیادہ ہوتے ہیں ،لہٰذا یہ بھوک کو کم کر سکتے ہیں ۔چناں چہ بچوں کو ہلکی پھلکی غذائیں کھلائیے اور اس کی منتظر رہیے کہ وہ کھانے کو کب مانگتے ہیں ۔جب ہ تھکے ہوئے ہوں تو انھیں کچھ نہ کچھ کھلائیں ۔قدرتی غذا،یعنی پھلوں پر خاص توجہ دیجیے۔ڈبا بند غذائیں کھلانا نا مناسب ہے ،
البتہ ناریل کے پانی کو ترجیح دیجیے۔

انناس جسم میں پانی کی کمی دور کرتا ہے اور اس میں قدرتی شکر ہوتی ہے ۔ملک شیک ،بادام اور دودھ وغیرہ اچھی غذائیں ہیں ،ان سے آپ کا بچہ خود کو توانامحسوس کرے گا
۔
بچوں کو زودہضم غذائیں ،مثلاً کھچڑی ،اُبلے چاول ،دہی اور دلیا وغیرہ بھی دیا جا سکتا ہے ۔کھانے اور ہلکی پھلکی غذا میں وقفہ ہونا چاہیے۔ماحول کو خوش گوار رکھیے ،تاکہ بچہ رغبت سے کھا سکے۔اسے کھانے کو من پسند غذائیں دیں ۔اگر وہ رغبت سے نہیں کھا رہا ہے اور اس کا وزن بھی کم نہیں ہورہا ہے تو تشویش کی کوئی بات نہیں ہے ۔وہ اچھی نیند لے رہا ہے ،خوش وخرم ہے ،کھیل کُود میں دلچسپی لے رہا ہے تو یہ آپ کے لیے بہت اطمینان بخش بات ہے ،لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اسے معالج کو دکھادیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-04-01

Your Thoughts and Comments