Calcium Ki Kami Ko Sehat Bakhsh Ghizaon Se Door Karain

کیلشیم کی کمی کوصحت بخش غذاؤں سے دور کریں

Calcium Ki Kami Ko Sehat Bakhsh Ghizaon Se Door Karain
کیلشیم کی کمی سے سب سے پہلے جسم میں ہڈیاں اور دانت متاثر ہوتے ہیں ‘ ہڈیوں کاچٹخنا‘ ہڈیوں وجوڑوں میں درد ہاتھوں پیروں کامڑجانا یہ سب کیلشیم کی کمی کی علامات ہیں آج کل جدید طرززندگی اور کیلوریز سے بھر پور غذاؤں (چاکلیٹ‘ کیک‘ کولڈڈرنک‘ جنک فوڈز) کے باعث کیلشیم کی کمی ایک عام مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ آج کل صرف بزرگ‘ ادھیڑ عمر افراد ہی نہیں نوجوان اور بچے بھی کیلشیم کی کمی کی پریشانی سے دوچار ہورہے ہیں۔

ڈاکٹر زحضرات جسم میں کیلشیم کی کمی کی نشاندہی کرنے کے بعد کیلشیم کی کمی کوپورا کرنے کے لیے ادویہ تجویز کرتے ہیں جوکچھ حدتک ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرنے میں مدد کرتی ہیں لیکن ان کا زیادہ استعمال گردوں پر اثرانداز ہوسکتاہے۔ قدرتی طریقے سے حاصل کردہ کیلشیم صحت کے لیے زیادہ مفید اور فائدہ مند ثابت ہوتاہے۔

(جاری ہے)

کیلشیم کی مناسب مقدار جسم کو فراہم کرنے کے لیے کون سی غذائیں کار آمدہیں اور کن قدرتی غذائی اشیاء میں کیلشیم کی مقدار بھرپور ہوتی ہے۔

آئیے جانتے ہیں۔
پتے دار سبزیاں نہایت فائدہ مند:
سبزیاں وپھل ہماری صحت وتندرستی کے ضامن ہوتے ہیں لیکن کیلشیم کمی کودور کرنے کے لیے پتے دار سبزیاں انتہائی مفید ہوتی ہیں مثلاََگوبھی‘ مشروم‘ ساگ‘ بروکلی وغیرہ۔ آپ ان سبزیوں کوباقاعدگی سے اپنے ڈائیٹ پلان میں شامل کرلیں یہ مقررہ کردہ DVکو پورا کرنے میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔


پھلیاں:
پھلیاں انسانی جسم کوکیلشیم کی بھرپور رسدفراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سیم کی پھلی‘ مٹر‘ گوار کی پھلی‘ فرنیچ بینس‘ لوبیہ کی پھلی وغیرہ میں کیلشیم کے ساتھ پروٹین بھی وافرمقدار میں پایا جاتا ہے۔ لہٰذا خواتین پھلیوں پر مشتمل غذائی روٹین کوزیادہ ترجیح دیں۔
ڈیری اشیاء:
دودھ کیلشیم کی کمی کوپورا کرنے کے لیے نہایت بہترین ٹانک ہے۔

اس میں کیلشیم بڑی مقدار میں پایاجاتا ہے۔ دودھ میں موجود کیلشیم کی خصوصیت ہڈیوں ‘ جوڑوں ‘ پٹھوں کومضبوط کرنے میں نہایت کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس کے علاوہ ڈیری اشیاء جیسے پنیردہی‘ مکھن‘ وغیرہ بھی جسم کومناسب مقدار میں کیلشیم فراہم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ بوڑھے‘ بچے‘ جوان ان غذاؤں کوکثرت سے استعمال کرکے صحت مند اور چاک وچوبندزندگی گزار سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2016-02-06

Your Thoughts and Comments