Carbohydrates - Hararat O Tawanai Ka Mazhar Hain

کاربوہائیڈریٹس․․․حرارت وتوانائی کا مظہر ہیں

منگل نومبر

Carbohydrates - Hararat O Tawanai Ka Mazhar Hain
ہماری خوراک کے بنیادی لوازمات میں روٹی،سالن،چاول(ابلے ہوئے یا بریانیوں اور پلاؤ کی شکل میں)شامل ہیں۔اس کے بعد مزیدار کھانوں کے تصور پر ان اجزاء ہی سے ترتیب دیئے جانے والے کھانے شامل ہیں۔غذائیں کاربوہائیڈریٹس ہمارے جسم کے لئے توانائی فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ تین شکلوں میں موجود کار بوہائیڈریٹس میں چینی،نشاستہ(Starch)اور غذائی فائبر شامل ہیں۔


نشاستے دار خوراک میں روٹی،نان ،ڈبل روٹی اور چاول وغیرہ شامل ہیں۔اس کے بعد غذائی فائبرز ہمارے معدے اور آنتوں کی صحت کو بر قراررکھنے میں مدد دیتے ہیں اول الذکر چینی بھی جسم کو فوری طاقت وتوانائی پہنچاتی ہے تاہم تینوں اجزاء مثلاً چینی،نشاستہ اور غذائی فائبر توازن کے ساتھ جزو خوراک ہونے چاہئیں۔

(جاری ہے)

غذائیں فائبرز کی بڑی تعداد پھلوں ،سبزیوں اور دالوں سے مہیا ہو پاتی ہے۔

یہ خون میں کولیسٹرول کم کرنے میں مدد دینے والی غذائیں ہیں۔
کاربوہائیڈریٹس صحت کے لئے ضروری کیوں؟
انسانی جسم میں مختلف اعضاء مشین کی طرح نصب ہیں کچھ اعضاء بیرونی سطح پر اپنا کام سر انجام دے رہے ہیں جنہیں فعال اور متحرک رہنے کے لئے طاقت یعنی حرارت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ حرارت خوراک مہیا کرتی ہے۔کاربوہائیڈریٹس کا دوسرا نام سیکرائڈز ہے جس میں مونوسیکرائڈز،ڈائی سیکرائڈز اور پولی سیکرائڈز شامل ہیں بعد ازاں گلوکوز،فرکٹوز،Galactoseہمیں شہد،سبزیوں ،دودھ،دہی ،لسی وغیرہ میں دستیاب ہو جاتا ہے۔

ڈائی سیکرائڈز کی اہم مثالوں میںSucroseاور Fructoseشامل ہیں جو ہمیں پھلوں،گنا ،شکر قندی ،آلو،مولی اورگاجر میں ملتا ہے۔ایک گرام کاربوہائیڈریٹس کھانے سے جسم کو4کیلوریز حاصل ہوتی ہیں۔
یہ یاد رہے کہ انسانی نظام ہضم میں غذائی فائبرز اور سیکرائڈز کی موجودگی بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ آنتوں میں پائے جانے والے بیکٹیریا کے لئے موثر ہوتے ہیں۔

یہ قبض کشا ہیں اور آنتوں کی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور جسم کو چند اہم بیماریوں مثلاً قبض،اپنڈکس ،موٹاپا ،شوگر کے مرض اور آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتے ہیں۔
کاربوہائیڈریٹس کیسے حاصل ہوں گے؟آلو یا ملٹی گرین ڈبل روٹی سے؟
ماہرین غذائیت کی رائے کے مطابق آلو اور ملٹی گرین ڈبل روٹی کار بوہائیڈریٹ حاصل کرنے کے اچھے ذرائع ہیں،تاہم ہر ایک میں موجود کاربوہائیڈریٹ ایک جیسا نہیں ہوتا،ویسے تو دونوں کی وجہ سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

لیکن آلو نسبتاً زیادہ بہتر ذریعہ ہے کیونکہ اس میں Glutenنہیں ہوتا۔
ملٹی گرین ڈبل روٹی (گندم،جوٴ وغیرہ پر مشتمل )میںGlutenزیادہ ہوتاہے اس لئے بہت سے لوگوں کو یہ بریڈ استعمال کرنے کی وجہ سے الرجی ہو جاتی ہے۔اگرکسی کو اس کے استعمال سے مسئلہ نہ ہو تب بھی ماہرین غذائیت اپنے تجربے کی بنیاد پر اس کے استعمال کا مشورہ نہیں دیتے۔خاص طور پر ان دنوں جب لوگ کاربوہائیڈریٹس کی کمی محسوس کر رہے ہوں۔

اس ڈبل روٹی میں موجودGlutenکی زائد مقدار آنتوں میں سوزش پیدا کر سکتی ہے۔مدافعتی نظام جسم میں قدرتی طور پر موجود خلیات کے خلاف مزاحمت کر سکتا ہے۔اس حالت کوAutoimmunityکہا جاتاہے۔
ملٹی گرین بریڈ کے استعمال سے بیشتر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا ایک ٹیسٹ تجویز کیا جاتاہے جسے Human Leukocyte Antigenکہا جاتاہے۔یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں،بچوں کا یہ ٹیسٹ کروانا اس لئے بھی ضروری ہوتاہے کہ کم عمر بچے اپنی جسمانی اور بدلتی ہوئی طبی حالت کو نہ تو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی بڑوں کو بتا سکتے ہیں اندازہ کرنے کے لئے کہ انہیں الرجی ہو سکتی ہے یا نہیں اس لئے مجوزہ ٹیسٹ کروایا جاتاہے۔

ڈاکٹرز اس کے علاوہ بھی Glutenسے الرجی کا پتہ چلانے کے لئے ایک ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں جسےThe Antinuclear Antibodyکہا جاتاہے۔یہ دونوں ٹیسٹ کروانے کے بعد اندازہ ہوتاہے کہ کوئی شخص یا بچہ ملٹی گرین بریڈ ہضم کر پائے گا یا نہیں۔
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ کثیر اناج پر مشتمل یہ ڈبل روٹی ایک مکمل غذا ہے اور صحت کے لئے ناگزیر ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہے اسے کھانے سے جسم میں تیزابیت بڑھ سکتی ہے۔

وزن میں اضافہ ہوتاہے۔چہرے اور جسم کے دوسرے اعضاء پر Acneہو سکتی ہے۔ساتھ ہی ہاضمے کے مسائل بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔اگر آپ آلو کھائیں تو انہیں نیم پختہ حالت میں نہ کھائیں۔پکا کر قدرے ٹھنڈا کرکے کھائیں(کمرے کے درجہ حرارت کے مطابق)گرما گرم آلو سےStarchنہیں بنتا اور ٹھنڈا کرکے کھانے سے آنتوں میں موجود اچھے بیکٹیریا بہتر حالت میں فعال ہوتے ہیں اور آنتیں صحت مند رہتی ہیں۔جب بھی آلو کوFryکیا جائے تو اس کے لئے گھی یا مکھن کا استعمال کرنا مفید ہوتاہے یہ ویجی ٹیبل آئل کی نسبت زیادہ صحت بخش انتخاب ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-26

Your Thoughts and Comments