Chikoo - Khush Zaida Or Raseela Phaal

چیکو ۔خوش ذائقہ اور رسیلا پھل

Chikoo - Khush Zaida Or Raseela Phaal

ایم۔شفیق احمد
چیکو ایک خوش ذائقہ پھل ہے۔اس کا درخت سدا بہار ہوتا ہے اور کافی عرصے تک پھل دیتا ہے۔اس کا آبائی وطن مشرقی میکسیکو ،وسطی امریکا اور جزائرغرب الہند ہے۔
چیکو بیج سے اُگتا ہے ،لیکن بیج سے اُگنے والے درخت بہت دیر میں پھل دیتے ہیں ۔چیکو کے وہ پودے جن کی قلمیں لگائی جاتی ہیں ،جلد پھل دینے لگتے ہیں۔ اس کے بیج سیاہ،چمک دار اور انتہائی سخت ہوتے ہیں ۔

ان بیجوں کو کھایا نہیں جاتا ،کیوں کہ ان کا ذائقہ چرپرا ہوتا ہے۔ریت میں چکنی مٹی ملا کر اگر اس میں پتوں کی کھاد ملادی جائے تو یہ اس کی پیداوار کے لیے بہت مناسب ہے۔
دنیا کے اہم ممالک جہاں چیکو کی پیداوار ہورہی ہے،ان میں ہندوستان ،افریقہ ،تھائی لینڈ،جزائرغرب الہند،انڈونیشیا،امریکا کے گرم علاقے ،بنگلہ دیش اور جنوبی فلوریڈاشامل ہیں۔

(جاری ہے)


پاکستان میں چیکو بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے ۔سندھ میں یہ کراچی ،ملیر ،ٹھٹھہ،حیدر آباد ،نواب شاہ اور ضلع میر پور خاص میں ہوتا ہے ۔ہمارے ہاں اس کی صرف دو اقسام ہوتی ہیں ،بیضوی اور گول ۔بیضوی چیکو کو گول پر فوقیت حاصل ہے۔یہ زیادہ میٹھا اور خوشبودار ہوتا ہے ۔
چیکو کے درخت پر سارا سال پھول لگتے ہیں اور یہ سال میں دوبار فصل دیتا ہے ۔

ایک فصل مئی تاستمبر اور دوسری دسمبر تامارچ ہوتی ہے۔
پھل جب پک جاتا ہے تو بھورا ہوجاتا ہے اور اس کا گودا نرم پڑجاتا ہے ۔چھلکا اتارنے کے بعد ہلکا سا دباؤ ڈالنے پر یہ ٹوٹ جاتا ہے اور گودے میں سے 3یا4بیج نکل آتے ہیں۔جب پھل پک جاتا ہے تو درخت میں موجود دودھ خشک ہونا شروع ہوجاتاہے۔
چیکو کو میٹھی ڈش کے طور پر مہمانوں کے سامنے رکھا جا سکتا ہے ۔

اس کا شربت اور ملک شیک بنا کر بھی پیا جا سکتا ہے۔بیکریوں میں اسے کیک،جام،جیلی اور آئس کریم میں بھی ڈالا جاتا ہے ،جس سے ذائقہ دوبالا ہوجاتا ہے۔صنعتی طور پر اس سے گلوکوس بھی بنایا جا سکتا ہے ۔اسے انناس کی طرح ٹکڑے کرکے ڈبوں میں بھی بند کیا جا سکتاہے۔
انڈونیشیا میں چیکو کی کونپلوں کو گرم چاول کے ساتھ کھایا جاتا ہے اوریہ وہاں کی پسندیدہ ڈش ہے۔

چیکو کے درخت کا دودھ لیس دار ہوتا ہے ۔اس سے چیونگم اور چاکلیٹ بنائی جاتی ہیں۔
چیکو میں بہت غذائیت ہوتی ہے۔اس میں حیاتین الف(وٹامن اے)ہوتی ہے ،جس سے آپ کی جلد صحت مندرہتی ہے۔چیکو آپ کے پھیپھڑوں کو سرطان سے بھی محفوظ رکھتا ہے ۔اس میں حیاتین ج(وٹامن سی)بھی ہوتی ہے ،جس سے بینائی بہتر ہو جاتی ہے۔
یہ ہڈیوں کے جوڑوں،دانت اور مسوڑوں کو تعدیے(انفیکشن)سے محفوظ رکھتا ہے ۔

چیکو سے لحمیات (پروٹینز)،ریشہ،فاسفورس،کیلسےئم،فولاد،سیلینےئم،پینٹوتھینک ایسڈ اور جست حاصل ہوتا ہے،جس سے ہماری صحت بہتر رہتی ہے۔اس کا دودھ پینے سے بڑی آنت کا سرطان دور ہو جاتاہے۔
چیکو بخار ختم کرتا ہے اور اگر نزلے کی وجہ سے ناک بند ہو گئی ہوتو اسے کھول دیتا ہے ۔یہ جسم کی سوزش دُور کرتا،کھانسی اور اسہال کو روکتا ہے ۔اس میں چوں کہ ریشہ ہوتاہے،اس لیے یہ ہاضمے کے نظام میں بہتری لاتاہے۔


چیکو میں”ٹینن“(TANNIN)نامی مادّہ ہوتا ہے،جو بواسیر کے مسّوں کا اچھا علاج ہے۔بواسیر کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کی کمی ہو جاتی ہے،چیکو اس کمی کو پورا کرتاہے۔
اس میں شامل فولک ایسڈ سے خون کے سرخ خلیے پیدا ہوتے ہیں ۔کوئی زہریلا کیڑا کاٹ لے یاڈنک ماردے تو چیکو کے بیجوں کو پیس کر لگانے سے آرام مل جاتاہے۔
چیکو کو ہندوستان ،پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک کے اہم اور مفید پھلوں میں شمار کیا جاتاہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-05-18

Your Thoughts and Comments