بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتچقندر بھی صحت کیلئے اچھا

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چقندر بھی صحت کیلئے اچھا
چقندر پاکستان ،ہندوستان ،شمالی امریکا اور یوپ میں کثرت سے سبزی کے طور پر کاشت کیا جاتا ہے۔اگرچہ اس کی جنگلی قسم بھی ہوتی ہے،مگر۔۔۔
حکیم راحت نسیم سوہدروی:
چقندر پاکستان ،ہندوستان ،شمالی امریکا اور یوپ میں کثرت سے سبزی کے طور پر کاشت کیا جاتا ہے۔اگرچہ اس کی جنگلی قسم بھی ہوتی ہے،مگر اس کوغذا اور علاج دونوں کے لیے بے کارسمجھا جاتا ہے۔ یورپ میں اس کاپودا1548ء میں افریقہ سے لایا گیا اور اب یہ وہاں کی غذا اور صنعت میں آلو کے بعد سب سے مقبول سبزی ہے۔چقندر کاتعلق پالک کے خاندان سے ہے، البتہ اس کاغذا کے طورپر کھایا جانے والاپسندیدہ حصہ جڑ ہے۔عام طورپر چقندر کارنگ اندرسے بھورا اور قرمزی ہوتا ہے،جسے لال کہا جاتا ہے۔اس کی ایک سفید قسم بھی ہوتی ہے۔چقندر کی جڑ اور پتے غذا کے طورپر کھائے جاتے ہیں۔یہ سلاد کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے۔اسے اُبال کرکھاتے ہیں۔گوشت کے ساتھ بھی پکایاجاتا ہے۔اس کا اچارڈالتے ہیں۔اس سے یورپ میں شکر بنتی ہے۔کیوں کہ اس میں 24 فیصد شکر پائی جاتی ہے۔ چقندر سے حاصل ہونے والی چینی زیادہ سفید،چھوٹے دانوں والی اور مٹھاس میں گنے سے پھیکی ہوتی ہے۔ آئرلینڈ کے ساحلی علاقوں میں اسے زیادہ رسیلاہونے اور لذیدپتوں کی وجہ سے کاشت کیا جاتا ہے۔ پالک زیادہ کھانے سے گردے میں پتھری اور پیشاپ میں جلن پیدا ہوجاتی ہے۔کیوں کہ پالک میں نمک ترشک (آگزیلیٹ) زیادہ ہوتا ہے،مگر چقندر کے پتوں میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی۔
چقندر کے نقصانات
چقندر میں غذائیت کم ہوتی ہے۔اسے کھانے سے پیٹ بھاری ہوجاتا ہے ۔یہ بادی ہوتا ہے۔ خون کو جلاتا ہے،اس لیے خون کی کمی(فقرالدّم) پیدا کرتا ہے۔سرکے یاالسی کے ساتھ کھانا مفید ہے۔ چقندر کی اکثر اقسام قبض پیدا کرتی ہیں، دیر ہضم ہوتی ہیں،اس لیے پیٹ میں ریاح پیدا کرتی ہیں۔
مفید کیمیائی اجزا
چقندر میں ایک کیمیائی جزو”بیٹن“ (Betin) پایا جاتا ہے۔یہ خون بڑھاتا ہے۔پیشاپ آور ہے۔معدے اور آنتوں میں اگرجلن ہوتو یہ اس کو رفع کرتا ہے۔سفید چقندر سے حاصل ہونے والا جزوقبض دُور کرتا ہے،جب کہ سرخ قسم حیض آور ہوتی ہے۔بیماری کے بعد کم زوری دور کرنے کے لیے لوگوں کو گلوکوس کی شکل میں چقندر کی شکردی جاتی ہے۔اس کی جگہ اگر چقندر کھلایا جائے تو وہ بھی گلوکوس کاہی کام کرے گا۔جسم میں شکر کی موجودگی کم زوری کو ختم کرتی ہے۔
چقندر کاپانی مفید ہے
ہر قسم کی سبزی اور پھل کے اندر کثیر مقدار میں ایسا مادّہ ہوتا ہے ،جوقبض دور کرتا ہے۔سفید چقندر تسکین بخشتا ہے۔سیاہ قسم قابض ہوتی ہے۔اس کا عرق نکال کر لگانے سے خارش ،خاص کردادختم ہوجاتا ہے۔جلد کی یہ بیماری پھپوندی کی وجہ سے ہوتی ہے۔چقندر کاعرق پھپوندی کوختم کرتا ہے۔چقندر کے عرق کواگر شہد کے ساتھ پیا جائے تو بڑھی تلّی کوکم کیاجاسکتا ہے۔جگر میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں بھی چقندر اور شہد کے ذریعے سے کم ہوسکتی ہیں۔شہد یرقان ختم کرنے کابہترین علاج ہے۔طب جدید میں چوں کہ یرقان کے علاج میں گلوکوس دیاجاتا ہے ،اس لیے نئے نقطہ نظر سے شہد اور چقندر کاپانی یرقان میں مفید ہے۔چقندر اور شہد کاپانی صفرے کی نالیوں میں پتھری یادوسرے اسباب سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا علاج بھی ہے۔چقندر کاپانی اگران جگہوں پر لگایا جائے،جہاں سے بال اڑگئے ہیں،تو مفید ہے۔اس کے پانی سے سردھونے سے خشکی دور ہوجاتی ہے۔چہرے کے دانوں اور داغ دھبوں کوختم کرنے میں مفید ہے،ورم والے مقام پر اس کاپانی لگانے سے ورم ختم ہوجاتا ہے۔آگ سے جھلسی ہوئی جلد پر اس کا پانی لگانے سے آرام ملتاہے۔چقندر کے پانی میں اگر شہد ملاکر کان میں ڈالا جائے تو ورم اور درد سے آرام ملتا ہے۔چقندر کے پتوں کاپانی نکال کر اس سے کلّی کرنا یااسے مسوڑوں پر ملنے سے دانت کادرد جاتا رہتا ہے۔بعض اطباّ کاکہنا ہے کہ ایسا کرنے کے بعد آیندہ درد نہیں ہوتا۔چقندر کے اجزا دست آور ہیں،جب کہ اس کاپانی دستوں کوروکتا ہے۔
چقندر کی جڑوں کارس نکال کر اگرناک میں ٹپکایا جائے تو سردرد اور دانت کادرد دور ہوجاتا ہے۔ اگر سر کے اطراف میں لگایا جائے تو آنکھوں کی جلن اور سوزش دور کرنے میں مفید ہے۔سفید چقندر کاپانی جگر کی بیماریوں پر اچھے اثرات ڈالتا ہے۔چقندر کے قتلوں کواُبال کر اس کی ایک پیالی اگر صبح ناشتے سے ایک گھنٹہ پہلے پی لیں تو پرنا قبض جاتا رہتا ہے اور بواسیر کی شدت میں کمی آتی ہے۔چقندر ایک مفید،مقوی غذا اور خارش کی متعدد قسموں کےٹٹ لیے قابل اعتماد دوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے“میں نے دنیا میں کوئی چیز بے کار نہیں بنائی ہے۔ہر ایک میں حکمت موجود ہے اگر تم غور کرو تو تمھارے لیے کھلی کھلی نشانیاں ہیں۔
چقندر کے فوائد
چقندر جسم کے سدّے کھالتا ہے ۔اس کی سیاہ قسم قابض ہے۔چقندر کوکاٹ کر اگر سر پر ملاجائے توبال گرنا رک جاتے ہیں۔اسے پکاکر اور پانی میں گھوٹ کرلگانے سے سرکی جوئیں مرجاتی ہیں۔ چقندر کھانے سے جگر کاکام بہتر انداز میں جاری رہتا ہے۔چقندر کوکالے مسورکی دال کے ساتھ پکانا پیٹ کے لیے ثقیل ہے،لیکن سفید قسم کی مونگ کی دال کے ساتھ پکانا یاکھانا قولنج سے پیدا ہونے والی کمزوری کودور کرتا ہے۔سفید چقندر اسہال کودور کرتا ہے۔

(2) ووٹ وصول ہوئے