Coffee Pinay Walay Shaid Lambi Umar Patay Hai - Article No. 1308

کافی پینے والے شاید لمبی عمر پاتے ہیں - تحریر نمبر 1308

ہفتہ 19 مئی 2018

Coffee Pinay Walay Shaid Lambi Umar Patay Hai - Article No. 1308

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دن بھر میں کافی کے تین کپ پینے سے آپ کی عمر شاید طویل ہو سکتی ہے ۔ یہ تحقیق 10 یورپی ملکوں کے پانچ لاکھ افراد پر کی گئی۔یہ تحقیق جسے دی اینالز آف انٹرنل میڈیسن میں شائع کیا گیا کے مطابق اگر آپ کافی سے کیفین کو نکال کر استعمال کریں تب بھی اس کا ایک اضافی کپ کسی شخص کی زندگی کو بڑھا سکتا ہے۔کافی ہم تک کیسے پہنچی؟۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ یقینی طور پر کہنا ناممکن ہے کہ صحت مند طرز زندگی سے زیادہ یہ کافی ہے جسے پینے والوں کی زندگی پر محفوظ اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف اس لیے کافی کا ایک فالتو کپ پینے کی ضرورت نہیں ہے۔کینسر پر بین الاقوامی سطح پر تحقیق کرنے والے ادارے اور امپیرئیل کالج لندن کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ زیادہ کافی پینا موت کے خطرے کی کمی سے تعلق رکھتا ہے خاص طور پر دل کے امراض اور آنتوں کے امراض سے۔

(جاری ہے)

محققین نے 10 یورپی ممالک کے 35 سال سے زیادہ عمر کے افراد سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے۔

انھوں نے ان افراد سے پوچھا کہ وہ کافی کے کتنے کپ پیتے ہیں اور پھر انھوں نے اوسطً 16 سال تک ان میں شرح اموات کو دیکھا۔ پروفیسر ڈیوڈ سپائیجل ہالٹر جن کا تعلق یورسٹی آف کیمبرج سے ہے کہتے ہیں ہیں کہ اگر واقعی کافی کے استعمال سے اموات میں کمی ہوئی تو ہر روز کافی کا ایک کپ زیادہ پینے کے نتیجے میں مردوں کی عمر تین ماہ اور عورتوں کی عمر میں تقریباً ایک ماہ اضافہ ہوا۔

اس تحقیق میں ہر پہلو کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر یہ معلوم نہیں کیا گیا کہ کافی پینے والوں کی آمدن نہ پینے والوں کی نسبت کتنی تھی؟۔ہو سکتا ہے کہ جو تین کپ کافی پیتے ہوں وہ سماجی رابطوں میں کافی نہ پینے والوں کی نسبت زیادہ فعال ہوں۔ماہرین نے تحقیق کی ابتدا میں ہی دل کے مریضوں، شوگر کے مریضوں کو نکال دیا تھا اس لیے اس سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان بیماریوں کا شکار افراد کے لیے کافی کتنی مددگار ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی کافی کے بارے میں سامنے آنے والی تحقیق میں متضاد رائے سامنے آتی رہی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کیفین کے حامل مشروبات کے استعمال سے آپ عارضی طور پر چوکنے ہو جاتے ہیں۔نیشنل ہیلتھ سروس کی تجویز کے مطابق حاملہ خواتین کو بھی 200 گرام سے زیادہ کافی نہیں استعمال کرنی چاہیے۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجائے اس کے کہ آپ اسی پر توجہ رکھیں کہ کافی ہی آپ کے لیے اچھی ہے اپنی زندگی کو بڑھانے میں بہتری کے لیے آپ ایک کافی شاپ تک پہنچنے کے لیے 20 منٹ تک تیز چہل قدمی ضرور کریں پھر چاہے کافی کے لیے آڈر دیں یا نہ دیں۔


روزانہ تین سے چار کپ کافی پینے کے طبی فوائد:
طبی جریدے بی ایم جے میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق روزانہ تین سے چار کپ کافی پینے سے طبی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ کافی پینے والوں میں جگر کی بیمایوں اور کچھ قسم کے سرطان پیدا ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے، جبکہ دماغ کی رگ پھٹنے سے موت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے لیکن محققین یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ایسا کافی کی ہی وجہ سے ہوتا ہے۔

اس تحقیقی جائزے کے مطابق حمل کے دوران زیادہ کافی پینا نقصان دہ ہو سکتا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو طبی فوائد حاصل کرنے کے لیے کافی پینا شروع نہیں کرنا چاہیے۔یونیورسٹی آف ساوتھ ایمپٹن کے محققین نے کافی کے انسانی جسم پر پیدا ہونے والے اثرات کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا، جس میں 200 تحقیقات شامل تھیں اور ان میں بیشتر مشاہداتی تھیں۔

ایسے افراد کی نسبت جو کافی نہیں پیتے، وہ افراد جو تقریباً تین کپ روزانہ کافی پیتے ہیں ان میں دل کی بیماریاں لاحق ہونے یا ان سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔کافی استعمال کرنے کا سب سے بڑا فائدہ جگر کی بیماری اور سرطان کے خطرے کو کم کرنے میں دیکھا گیا۔تاہم اس تحقیق کے شریک منصف اور یونیورسٹی آف ساوتھ ایمپٹن میں شعبہ میڈیسن سے منسلک پروفیسر پال روڈرک کہتے ہیں کہ اس بنیاد پر وہ نہیں کہہ سکتے کہ کافی پینے سے ایسا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ افراد کی عمر، تمباکو نوشی اور وہ لوگ کتنی ورزش کرتے ہیں یہ تمام عوامل بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2018-05-19

Your Thoughts and Comments