Dahi Ya Abbe Hayat

دہی یا آب حیات

Dahi Ya Abbe Hayat
دیوان سنگھ مفتون
1940ء میں ضلع فیروز پور میں انگریز کرنل ایڈی سول سرجن تھے۔یہ اُس زمانے میں اپنے سول سرجن کے فرائض ادا کرنے کے علاوہ پرائیویٹ طور پر جراثیم کے متعلق بھی تحقیقات کرتے رہتے تھے ،حالانکہ اُس زمانے میں نہ تو جراثیم کے متعلق تحقیقات کا کسی ڈاکٹر کو شوق تھا اور نہ جراثیم کش ادویہ ایجاد ہوئی تھیں۔

چنانچہ کرنل ایڈی جراثیم کے متعلق تحقیقات کے شوق کے باعث ہی بعد میں تمام ہندوستان کے چیف ملیریا میڈیکل آفیسر مقرر کیے گئے،تاکہ وہ ہندوستان سے مچھروں کے ذریعے پیدا ہونے والے ملیریاکے جراثیم کو کم یا ان کو بالکل ختم کر سکیں ،لہٰذا کرنل ایڈی نے ہندوستان سے ملیریا کو ختم کرنے کی کوشش تمام صوبوں میں سرکاری طور پر جاری کیں۔

(جاری ہے)


کرنل ایڈی جب فیروز پورمیں سول سرجن تھے تو انھیں معلوم ہوا کہ حکیم اور وید پیچش کا علاج دہی اور چاول سے کرتے ہیں اور جنھیں کھاکر مریض اچھے ہوجاتے تھے۔

وہی اور چاولوں سے پیچش کے مریضوں کا اچھا ہونا ان کے لیے تعجب کا باعث تھا،کیوں کہ دہی کھانے کا یورپ اور امریکا میں رواج نہیں تھا اور ایلوپیتھی کی کتابوں میں دہی کا کہیں نام بھی نظر نہیں آتا تھا۔چنانچہ دہی اور چاولوں سے علاج کے بارے میں وہ کئی روز تک سوچتے رہے۔کرنل ایڈی نے اس طریق علاج کی خود تحقیقات کرنے کے لیے اپنی معائنہ گاہ میں پیچش کے جراثیم کو شیشے کی پلیٹ پر پھیلا کر خرد بین کے نیچے رکھا اور ان جراثیم پر تھوڑی سی دہی کی لسی ڈال دی،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیچش کے سارے جراثیم فوراً ہلاک ہو گئے۔


چاولوں کے متعلق کرنل اس نتیجے پر پہنچے کہ چاولوں میں چونکہ نشاستہ(اسٹارچ)ہوتا ہے اور یہ انتڑیوں کے زخموں(جو پیچش کے باعث انتڑیوں میں پیدا ہو جاتے ہیں)کومندمل کرنے کا باعث ہوتا ہے،اسی لیے دہی اور چاولوں کا مرکب پیچش کے لیے مفید ہے۔چنانچہ کرنل ایڈی نے اس سے متعلق طبی رسالے میں ایک مضمون لکھا ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیچش کے مریضوں کو دہی اور چاول کھانے سے فائدہ ہونے لگا
۔


ایک اخبار نویس نے ترکی کے ایک بہت بوڑھے شخص (جس کی عمرایک سوپچیس برس تھی)سے انٹرویو کیا اور اس انٹرویو میں اس سے پوچھاکہ اس کی عمر کی طوالت کا کیا راز ہے؟اس بوڑھے نے جواب دیا کہ وہ ہر روز صبح وشام دونوں وقت پنیر اور دہی کھاتا ہے ۔اس کے علاوہ وہ اپنی تمام زندگی دہی کی لسی پیتا رہا ہے۔اس انٹرویو میں اس بوڑھے شخص نے یہ بھی بتایا کہ اس کے بیٹے بیٹیوں،پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی اور اُن کی اولاد کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔


ایک دفعہ میری والدہ کو رات میں چکر آنے کی شکایت شروع ہوئی۔وہ ایسا محسوس کرتیں،جیسے کوئی ان کو چارپائی سے گرارہا ہے۔میں نے اپنے ایک دوست ڈاکٹر محمد عمر کو بلوایا۔انھوں نے والدہ کو چیک کیا تو دل کی کمزوری اور دماغ ضعف بتایا اور انھیں مقوی دل ودماغ دوادی،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چکروں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا،کیوں کہ اُن کی تشخیص غلط تھی اور دوا بھی غلط دی گئی تھی۔


میں بہت پریشان تھا کہ ایک روز ملنے کے لیے ڈاکٹر نارنگ سنگھار آگئے۔یہ ڈاکٹراس زمانے میں دھرم کوٹ (ضلع فیروز پور)میں پلیگ ڈیوٹی پر متعین تھے۔اُس زمانے میں ،میں وہاں کے ہسپتال میں کمپاؤنڈر تھا۔یہ ڈاکٹر صاحب کئی اضلاع میں تبدیل ہونے کے بعد دہلی کے ایک ہسپتال میں آگئے تھے اور کبھی کبھی مجھ سے ملنے تشریف لایا کرتے تھے۔
میں نے ڈاکٹر صاحب سے والدہ کی بیماری کا ذکر کیا ۔

انھوں نے والدہ کو دیکھا تو بتایا کہ یورک ایسڈ کی خون میں زیادتی ہے ،جس کے باعث چکر آتے ہیں ۔انھوں نے مجھ سے کہا کہ والدہ صاحبہ کو دہی کھلایا جائے یا روزانہ لسی پلائی جائے ،اس لیے کہ لسی یورک ایسڈ کو جسم سے خارج کرنے کے لیے بے حد مفید ہے۔لسی پینے سے کون سے یورک ایسڈ خارج ہونے لگتا ہے،اس لیے چکر نہیں آتے،اصل میں یورک ایسڈ جسم سے خارج نہیں ہوتا،جس کی وجہ سے انھیں چکر آتے تھے۔

یورک ایسڈ کو جسم سے خارج کرنے کے لیے دہی کی لسی انتہائی موثر ہے۔
یوری ایسڈ ماش کی دال،آلو اور گوشت وغیرہ کھانے سے بنتا ہے۔گائے کے گوشت سے تو یہ بہت زیادہ بڑھ جاتاہے۔سبزیاں کھانے سے یا تو بالکل نہیں بنتا یا بہت کم بنتاہے،البتہ دودھ،مکھن اور گھی سے بالکل نہیں بنتا۔یورک ایسڈ کے خون میں شامل ہونے کے باعث انسان چستی اور مستعدی سے محروم ہو جاتا ہے ۔

اگر یہ زیادہ عرصے تک خون میں شامل رہے تو یہ پہلے چھوٹے جوڑوں میں اور بعد میں بڑے جوڑوں میں داخل ہو کر درد وورم پیدا کرتاہے۔پنجاب کے رہنے والے لوگوں کے چست ،محنتی اور مستعد ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ روزانہ لسی پیتے ہیں۔چونکہ دہی خون سے یورک ایسڈ خارج کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،اس لیے پنجاب کے لوگ غیر فعال نہیں ہوتے۔دوسرے صوبوں کے لوگوں کے غیر فعال ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ نہ تو وہ روزانہ دہی کھاتے ہیں اور نہ لسی پیتے ہیں۔


یورک ایسڈ کے متعلق ایک بات اور یاد رکھنے کی ہے اور وہ یہ کہ اگر کھٹا دہی کھایا جائے یا لسی پی لی جائے تو وہ یورک ایسڈ کو تو خون سے نکال دے گا،مگر دہی کے کھٹا ہونے کے باعث اس میں لیکٹک ایسڈ (LACTIC ACID)پیدا ہوجاتا ہے ،جوجوڑوں میں درد وورم پیدا کرتا ہے،اس لیے دہی صرف پتلا اور قدرتی میٹھا کھانا چاہئے۔ایران اور افغانستان میں گودہی اور لسی پینے کا رواج نہیں ،مگر وہاں کا ہر شخص ہر روزہی پنیر کھاتا ہے اور چونکہ پنیر بھی دہی ہی سے تیار ہوتاہے،اس لیے ان ممالک کے لوگوں کی صحت قابل رشک ہوتی ہے۔


راقم الحروف کی صحت ہمیشہ اچھی رہی اور اب بھی میرے ہم عمر دوست میری صحت کو قابل رشک قرار دیتے ہیں ،جس کی وجہ یہ ہے کہ میں کھانا بہت کم کھاتا ہوں۔زیادہ کھانے کو صحت کے اعتبار سے میں گناہ سمجھتا ہوں۔میں دوپہرکو تو صرف دویا تین انڈے اور دو توس کھاتا ہوں،البتہ رات کو کھانے کے ساتھ لازمی طور پر دہی کھاتا یا اس کی لسی پیتا ہوں،جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میں چوبیس گھنٹوں میں سے اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہوئے کبھی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔


میری رائے میں جو لوگ صحت کے ساتھ طویل عمر چاہتے ہوں ،وہ لازمی طور پر ہر روز دہی کھائیں یا لسی پییں۔دہی اورلسی ہر موسم میں مفید ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دہی اور لسی کا برسات کے موسم میں پینا نقصان دہ ہوتا ہے ،جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ برسات میں زیادہ جاگ لگانے کے باعث ،یعنی دودھ میں کھٹے دہی کی زیادہ مقدار شامل کرنے سے جمنے والا دہی بہت زیادہ کھٹا ہو جاتا ہے اور دہی کی یہ کھٹائی ،یعنی لیکٹک ایسڈ درد وورم پیدا کردیتاہے۔دہی ہمیشہ پتلا اور قدرتی میٹھا کھائیے،یہ صحت کے لیے بے حد مفید ہے ،اسی لیے میں صحت کے لیے اسے آب حیات قرار دیتا ہوں۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-24

Your Thoughts and Comments