Dairy Ki Masnoaat Chiknai Aur Mutabadil Ghazain

ڈیری کی مصنوعات چکنائی اور متبادل غذائیں

Dairy Ki Masnoaat Chiknai Aur Mutabadil Ghazain

صحت اور تندرستی بر قرار رکھنے کے لیے چکنائی کے استعمال میں کمی ضروری ہے
ہم جتنی بھی چکنائی کھاتے ہیں اس کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ گوشت اور ایک تہائی ڈیری کی پروڈکٹس سے حاصل کیا جاتا ہے ۔باہمی طور پر یہ ہماری سیر شدہ کھائی گئی خوراک کا تقریباً 40فیصد بن جاتا ہے ۔لہٰذا بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان پروڈکٹس کے استعمال میں کمی کی جائے یا ایسی متبادل غذائیں استعمال کی جائیں جن میں چکنائی کم ہوتی ہے ۔


اگر چہ ڈیری پروڈکٹس میں پروٹین ‘وٹامن اور معدنیات کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے لیکن ہمیں چاہئے کہ ہم مکھن ‘کریم اور پنیر کم سے کم استعمال کریں کیونکہ یہ تمام غذائیت ہمیں دیگر ذرائع سے بھی مل سکتی ہے ڈیری کی پروڈکٹس کے استعمال کو گھٹانے کی صرف یہ وجہ نہیں کہ ان میں چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

اس کی دیگر وجوہات بھی ہیں ۔دودھ سے متعلق بیشمار شکایات ہیں اور دودھ سے الرجی کی شکایت توعام ہے دودھ سے الرجی کی دو قسمیں ہیں ۔


بعض لوگ ملک پروٹین سے الر جک ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں سانس لینے میں دشواری ‘نزلہ زکام یا ایگزیما ہو جاتا ہے ۔دیگر میں انزائم کی کمی ہو جاتی ہے جو کہ لیکٹوز انٹولیر نس کہلاتی ہے اور جس سے جسم میں ملک شوگر ز کی ٹوٹ پھوٹ میں مزاحمت ہوتی ہے ۔لیکٹوز‘ملک شوگرز میں سے ایک شوگر ہے اور یہ لیکٹیز نامی انزائم سے ٹوٹ جاتی ہے ۔اگر لیکٹیز موجود نہ ہوتو پھر لیکٹوز آنتوں میں اکٹھا ہوجاتا ہے اور خمیر بن کر مروڑ اور ڈائر یا کا سبب بن جاتا ہے ۔


دردِ شقیقہ (مائیگرین)کے انتہائی ممکنہ اسباب میں چاکلیٹ کے بعد پنیر اور دیگر ڈیری پروڈکٹس کا نمبر آتا ہے یہ بلغم کی تشکیل کا سبب بھی بنتے ہیں اور سائنس کے مختلف پرابلمز اور برانکائٹس میں مددگار ہوسکتے ہیں ۔
ڈیری کی پروڈکٹس کے متبادل
ایسے بہت سے طریقے ہیں کہ جن سے آپ اپنی ڈیری پروڈکٹس کے استعمال میں کمی کر سکتے ہیں اس کا آغاز بالائی اتارے ہوئے دودھ سے کریں اگر آپ گائے کا دودھ نہیں پی سکتے تو پھر بکری کے دودھ یا سویا ملک کو آزمائیں ۔


اسکمڈ ملک :جس دودھ میں بالائی شامل ہوتی ہے اور جسے فل فیٹ ملک کہا جاتا ہے وہ لگ بھگ 3.8 فیصد چکنائی ہوتا ہے جبکہ بالائی اتارا ہوا دودھ صرف 0.1فیصد چکنائی ہوتا ہے جسے ہم اسکمڈ ملک کہتے ہیں ۔سیمی اسکمڈ ملک میں فل فیٹ ملک کی تقریباً نصف مقدار چکنائی ہوتی ہے ۔اسکمڈ ملک کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں سے فیٹ (چکنائی )اور چکنائی میں حل پذیر وٹامنز (فیٹ سو لیوبل )نکل جاتے ہیں ۔


اسکمڈ ملک کا ذائقہ مختلف ہوتاہے اور اس کی عادت بنانے میں وقت لگتا ہے لیکن جب آپ اس کے عادی ہوجاتے ہیں تو پھر خالص دودھ (Whole Milk)آپ کو بہت زیادہ مرغن لگنے لگتا ہے ۔
بکری کا دودھ اور سویا ملک
جن لوگوں کو گائے کے دودھ سے الرجی ہوجاتی ہے وہ اس کے بجائے بکری کا دودھ یا سویا ملک استعمال کر سکتے ہیں ۔بکری کے دوھ میں گائے کے دودھ کے مقابلے میں فاسفیٹ ‘کاپر اور میگنیشیم کے زیادہ اجزاء شامل ہوتے ہیں لیکن یہ دھیان رہے کہ اس میں ساتھ ہی چکنائی کے اجزا ء بھی زیادہ ہوتے ہیں ‘اس لئے کم چکنائی والے بکری کے دودھ کا حصول نہایت مشکل ہوتا ہے ۔

سویا ملک میں بھی اسکمڈ ملک کے مقابلے میں چکنائی کا جز زیادہ ہوتا ہے ۔بکری کا دودھ اور سویا ملک دونوں ہی پاؤڈر کی شکل میں بھی دستیاب ہیں ۔
لوفیٹ (Low Fat)ملک پروڈکٹس
چکنائی والی ڈیری کی پروڈکٹس کے استعمال میں کمی کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ذیل میں لوفیٹ والی چند پنیروں کی فہرست دی جارہی ہے بعض پرودکٹس میں ہائی فیٹ ورژن ہے یا پانی اور نمک کے ورژن ہیں لہٰذا یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ لیبل کو احتیاط اور غور کے ساتھ چیک کیا جائے۔


کاٹیج چیز‘کرڈچیز کی مانند ہے لیکن اسکمڈ ملک سے بنایا جاتا ہے لہٰذا اس میں چکنائی کم ہوتی ہے ۔فی25گرام لگ بھگ30کیلوریز حاصل ہوتی ہیں ۔بعض ورائٹیز میں نمک اور پریزرویٹیوز بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے لیبل کو احتیاط کے ساتھ چیک کرلینا چاہئے۔
کہ ڈچیز ‘ہول کا ؤیا گوٹ مک (گائے یا بکری کے خالص دودھ )سے علیحدہ کردہ دہی سے تیار کیا جاتا ہے سو یہ لگ بھگ 11فیصد چکنائی ہوتا ہے اور اس کی فی 25گرام مقدار 40-45کیلوریز فراہم کرتی ہے ۔


Quarkبھی ایک نرم اور سفید پنیر ہے لیکن یہ سیمی اسکمڈ ملک سے تیار ہوتا ہے اور اس میں نمک موجود نہیں ہوتا ۔اس میں چکنائی کا جز عام طور پر کم ہوتا ہے لیکن زیادہ سے زیادہ 40فیصد تک ہو سکتا ہے اس لیے دانش مندی یہی ہے کہ لیبل کو چیک کر لیں ۔
دہی اسکمڈ ملک یا خالص دودھ سے بنایا جاسکتا ہے لیکن یہ اتنا تیزابی ہوتا ہے کہ دودھ کے پروٹین کو باآسانی ہضم ہوجانے والی شکل میں توڑ دیتا ہے ۔


ہائی فیٹ ڈیری پروڈکٹس کے استعمال کو کس طرح کم کیا جائے
خالص دودھ کے بجائے بالائی اترا ہوا دودھ (اسکمڈ ملک)استعمال کریں ۔
دہی کو بطور پڈنگ سروکریں ۔
جب آپ کریم والی ڈشیں پکارہی ہوں تو کریم (بالائی )کی بجائے دہی استعمال کریں ۔
سلاد کے لئے دہی پر مبنی ڈریسنگ بنائیں۔
دودھ کے مشروبات کے بجائے ہر بل چائے پینے کی کوشش کریں ۔


پکی ہوئی سبزیوں پر مکھن چھڑ کنے کے بجائے جڑی بوٹیاں چھڑکیں جیسے کہ پارسلے۔
مکھن کے بجائے پولی ان سیچور یٹڈفیٹس سے بنایا ہوا اچھی کوالٹی کا مارجرین استعمال کریں ۔
سینڈ وچز میں مکھن لگانے سے گریز کریں ۔
بریڈپر تاہینی(گاڑھا چکنائی پیسٹ جو سروں کے بیجوں کو کچل کر بنایا جاتا ہے )‘خمیر کا ست یا اسی قسم کا کوئی بھی خوش ذائقہ اور مزیدار اسپریڈ لگائیں ۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-07

Your Thoughts and Comments