Dawaon Ka Istemaal Aur Ahteyati Tadabeer

د واؤں کا استعمال اور احتیاطی تدابیر

Dawaon Ka Istemaal Aur Ahteyati Tadabeer

ڈاکٹر کو اپنا دوست سمجھ کر اپنی تمام ترتکالیف اور میڈیکل ہسٹری سے آگاہ کیجئے تاکہ وہ آپ کی بیماری کو بہتر طور پر سمجھ سکے
دوا کی خوراک میں اپنی مرضی سے کمی بیشی آپ کے لیے خطر ناک ثابت ہو سکتی ہے ایسی دوا ہر گزنہ
خرید ئیے جن کے استعمال کی تاریخ گزرچکی ہو
عالیہ پر جب مرگی کا پہلا دورہ پڑا تو اس نے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔ڈاکٹر نے معمول کے معائنے اور تفتیش کے بعد اسے کچھ گولیاں لکھ دیں اور عالیہ سے کہا کہ وہ اس سے ایک ماہ کے بعد دوبارہ ملاقات کرے۔

جوبات ڈاکٹر نے عالیہ کو نہیں بتائی‘وہ یہ تھی کہ عالیہ کو یہ علاج کئی سال تک کروانا ہو گا۔اس کے بغیر اسے مکمل آرام نہیں مل سکے گا۔عالیہ نے گولیاں استعمال کیں اور وہ اپنے آپ کو بہتر محسوس کرنے لگی ۔

(جاری ہے)

تو پھر غلطی کہاں ہوئی؟
عالیہ اس بات سے مطمئن اور خوش ہو گئی کہ اس کی بیماری غائب ہو چکی ہے اور وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے ۔
ڈاکٹر کے پاس سے آنے کے بعد ایک ماہ تک وہ پابندی سے دوا کا استعمال کرتی رہی اور پھر اس نے دوابند کر دی اور وہ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں گئی ۔

اس کا نتیجہ کیا نکلا؟اس پر دوبارہ دورہ پڑ گیا۔یہ تو محض ایک مثال ہے ۔ہو سکتا ہے کہ آپ ایک مریض کو حیثیت سے ‘پہلے کبھی اس قسم کے تجربے سے گزرے ہوں اور آپ کو اس بات پر تعجب ہوا ہو کہ دوانے اثر کیوں نہیں دکھایا۔
اس وقت کیا ہوتا ہے جب علاج سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے؟اس کے نتیجے میں بہت سے اثرات مابعد‘یعنی ری ایکشنز نمودار ہوتے ہیں ۔

مایوسی‘غصہ اور ناامیدی ۔اس کے بعد مریض بار بار ڈاکٹر تبدیل کرتا ہے یا اپنے ڈاکٹر کو نااہل قرار دیتا ہے اور ان سب چیزوں کے باوجود جب پھر بھی کوئی افاقہ نہیں ہوتا تو پھر وہ اپنی اس تکلیف کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتا ہے ۔
ہندوستان جیسے بہت بڑے ملک میں جہاں کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے ہر ساڑھے تین ہزار افراد کے لئے ایک ڈاکٹر موجود ہے ۔

ظاہر ہے یہ تناسب بہت کم ہے ۔اس کے باعث ڈاکٹروں پر کام کا بہت زیادہ بوجھ ہے اور وقت کی کمی ہے ۔اس لئے ڈاکٹروں کے لئے یہ ناممکن ہے کہ و ہ اپنے مریضوں کو ان کی بیماری کے سلسلے میں پوری تفصیل کے ساتھ بتاسکے اور اس بارے میں ان کو تعلیم دے سکے ۔پاکستان میں بھی صورت حال کچھ اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔یہاں بھی ڈاکٹر وں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایک مریض کو پوری تفصیل کے ساتھ اس کی بیماری اور علاج کی تفصیلات وغیرہ کے بارے میں آگاہ کر سکیں۔


دواؤں کو ‘خواہ وہ قدرتی ذرائع سے حاصل کردہ ہوں یا مصنوعی طریقے سے تیار کردہ ‘ہمیشہ نہایت احتیاط کیساتھ استعمال کیا جانا چاہئے۔چونکہ دواسے متاثر ہونے والا مریض ہی ہوتا ہے ۔اس لئے مریض کے لئے ضروری ہے کہ وہ جو دوااستعمال کررہا ہے یا کرنے والا ہے اس کے بارے میں وہ جانے ‘اس کے خواص کے بارے میں آگاہی حاصل کرے اور اپنی بیماری کے بارے میں بھی اچھی طرح جانے۔


تو پھر‘اس کام کا آغاز کس طرح اور کہاں سے کیا جانا چاہئے؟
آپ ڈاکٹر کے پاس جانے سے اس کا آغاز کیجئے ڈاکٹر آپ کا دوست ہے ‘اس پر اعتماد کیجئے۔اس سے کوئی بھی بات چھپا نا‘خواہ وہ بظاہر کتنی ہی غیر اہم کیوں نہ معلوم ہوتی ہو‘آپ کے لئے سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے ۔ڈاکٹر کو اپنی تکالیف کے بارے میں کھل کر بتائیے۔
ڈاکٹر کو اپنی گزشتہ اور موجودہ بیماریوں کے بارے میں تاریخ وار بالکل صحیح صحیح معلومات فراہم کیجئے۔

ڈاکٹر کو پورے طور سے یہ بتائیے کہ آپ کون کون سی دوائیں استعمال کرتی رہی ہیں۔وہ دوائیں کتنی موثر ثابت ہوئیں‘آپ نے ان دواؤں کا استعمال کب ترک کیا اور ان کی متبادل کون سی دوسری دواؤں کااستعمال کب سے شروع کیا۔
ڈاکٹر کو یہ بتائیے کہ آپ اس وقت کون سی دوائیں استعمال کررہی ہیں۔ اگر آپ کسی الرجی کا شکار ہیں تو اس کے بارے میں بتائیے۔

ڈاکٹر کو ہمیشہ اپنی بالکل صحیح عمر بتائیے‘چونکہ دواؤں کی خوراک کا عمر سے گہرا تعلق ہوتا ہے ۔نوزائیدہ بچوں‘بالغوں اور بڑی عمر کے لوگوں کے لئے دوا کی خوراکیں الگ الگ ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر کو یہ بتانا ہر گزنہ بھولئے کہ آیا آپ کوئی وٹامنز استعمال کررہی ہیں یا کوئی ہومیو پیتھک یا یونانی دوالے رہی ہیں ۔جڑی بوٹی سے تیار ہونے والی بعض دواؤں کے بارے میں ‘جوکہ بظاہر بالکل بے ضرر سمجھی جاتی ہیں ‘یہ معلوم ہوا ہے کہ ان کی وجہ سے بلڈ پریشر میں اور دل کی دھڑکن یعنی ہارٹ بیٹ میں تبدیلیاں پیداہوئیں ۔


متبادل دوا
بعض مریض ڈاکٹر سے یہ تک نہیں پوچھتے کہ ان کا اصل مسئلہ کیا ہے ۔یہ روش غلط ہے ۔اپنی بیماری کے بارے میں تفصیلات معلوم کیجئے۔ڈاکٹر سے پوچھئے کہ آپ کو کتنے عرصے تک علاج کروانا پڑے گا۔یہ عرصہ طویل ہوگا یا مختصر ہو گا۔ڈاکٹر سے پوچھئے کہ آیا آپ کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی یا یہ شفا محض عارضی ہو گی ‘اور یہ کہ آیا سرجری کی ضرورت ہوگی۔


ڈاکٹر نسخے پر جو دوالکھ کر دے‘اس کی بالکل صحیح صحیح اسپیلنگ ‘یعنی املا معلوم کیجئے۔اگر آپ خود ٹھیک سے نہ پڑھ سکیں کہ ڈاکٹر نے کیا لکھا ہے تو ڈاکٹر سے پوچھنے میں ہچکچاہٹ سے کام مت لیجئے۔یہ مت سمجھئے کہ اس سے آپ کی پڑھنے کی صلاحیت پر حرف آتا ہے ۔بلکہ اس کے بجائے آپ خطرے سے محفوط ہو جائیں گی کہ کیمسٹ آپ کو کوئی غلط دو ادے دے۔


دواکس شکل میں تجویز کی گئی ہے ؟یہ ٹکیہ یا گولی ہے ‘کیپسول ہے ‘پاؤڈر ہے ‘مرہم ہے ‘شربت ہے یا انجکشن ہے ۔اگر یہ انجکشن ہے تو اس امر کو یقینی بنائیے کہ صرف ایک بالکل نئی ڈسپوز یبل سرنج ہی استعمال کی جائے ۔بعض دوائیں صرف بیرونی استعمال کے لئے ہوتی ہیں اور انہیں کھایا نہیں جاتا۔عام طور سے دواؤں کے ساتھ ان کا لٹریچر موجود ہوتا ہے جس میں ان کے بارے میں تفصیلات درج ہوتی ہیں ۔


دواؤں کو استعمال کرنے سے پہلے ان کے لٹر یچر کا بغور مطالعہ کیجئے۔
کیا لینا چاہئے؟
دوا کی صحیح خوراک اور اس کو لینے کا صحیح وقت کیا ہے ؟صبح’دوپہر اور رات کو سوتے وقت کتنی گولیاں استعمال کرنی ہیں؟
آپ کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ آپ کو دواخالی پیٹ لینی ہے ‘کھانے سے پہلے لینی ہے یا کھانے کے بعد لینی ہے ۔یہ بھی جاننا چاہئے کہ گولی کو پورا نگل لینا ہے یا اسے آہستہ آہستہ چوسنا ہے‘یہ کہ اگر آپ گولی کومنہ میں توڑ دیں تو کیا اس سے دوا کے اثر میں کوئی کمی بیشی واقعی ہوگی۔


فرض کیجئے کہ آپ بہتر محسوس کرنے لگتی ہیں تو اس صورت میں آپ کیا کریں گی ؟کیا آپ کو دوا کا استعمال ترک کر دینا چاہئے یا آپ کو ڈاکٹر کا تجویز کردہ کورس پورا کرنا چاہئے۔
دوائیں انسانی جسم پر بہت سارے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اچھے اثرات مرض کے علاج کے لئے ضروری ہوتے ہیں ۔تاہم خراب اثرات مابعد بعض اوقات تکلیف دہ بن جاتے ہیں۔ وہ ازخود ختم نہیں ہوتے اور مریض کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں ۔

اب معلوم کیجئے کہ یہ مضر اثرات کیا ہیں اور اگر وہ پیدا ہوتے ہیں تو ان کو دور کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے۔
اگر آپ دویادو سے زائد دوائیں ایک ساتھ لے رہی ہیں تو اس بات کا امکان ہو سکتا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے پر اثر ڈالیں ‘ان کے انفرادی خواص میں کمی واقعی ہو جائے یا وہ مضر اثرات پیدا کریں ۔اس چیز کو”دوا کاتفاعل“(ڈرنگ انٹر ایکشن)کہتے ہیں ۔

اس سے بچنے کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ آپ اپنی دواؤں میں وقفہ رکھیں۔
اپنے ڈاکٹر سے غذا کے بارے میں ہدایات حاصل کیجئے۔مثال کے طور پر جو مریض ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوں ‘انہیں اپنے کھانوں میں نمک کی مقدار کم رکھنی چاہئے۔اگر آپ کو خدانخواستہ کسی نشے کی عادت ہے تو اس کے بارے میں اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیے۔
کیا دواؤں کے استعمال کا اثر آپ کے کام پر بھی پڑ سکتا ہے ؟کیا دواؤں کے نتیجے میں اضمحلالی کیفیت اور نیند کا غلبہ پیدا ہو گا؟کیا گاڑی چلانا اور تیرا کی کرنا صحیح ہو گا یا اس قسم کی سرگرمیوں کو روک دیا جانا چاہئے؟یہ ایک بہت اہم سوال ہے ۔


بعض دوائیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں حمل کے دوران یا بچے کو ماں کا دودھ پلانے کے دوران استعمال نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ بچے کو متاثر کر سکتی ہیں ۔نیز بعض دواؤں کو گلا کو ما‘یعنی کا لا پانی ‘دمہ اور پیپٹک السر کے مریضوں کو بھی استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔چنانچہ آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے ڈاکٹر کو اپنی بالکل صحیح میڈیکل ہسٹری سے آگاہ کریں ۔


اس امر کو یقینی بنائے کہ کیمسٹ آپ کو بالکل صحیح دوا دے رہا ہے ۔خریدی ہوئی دوا کو ڈاکٹر کے لکھے ہوئے نسخے سے ملا کر دیکھئے ۔اگر ڈاکٹر کی لکھی ہوئی دوابازار میں دستیاب نہیں ہے‘ تو اس کے متبادل کے لئے ڈاکٹر سے پوچھئے‘ کیمسٹ سے نہیں ۔
دواخریدتے وقت اس کی ایکسپائری (ختم ہونے )کی تاریخ لازمی طور پر دیکھئے اور ایسی دوا ہر گزنہ خریدئیے جس کے استعمال کی تاریخ گزرچکی ہو‘خواہ وہ آپ کو کم قیمت پر ہی کیوں نہ دستیاب ہو۔


گھر پر دواؤں کو احتیاط کے ساتھ رکھنا بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے ۔دواؤں کو گرمی اور روشنی سے بچا کر رکھئے ۔بچوں کوگولیوں اور کیپسولوں کے تیز اورروشن رنگ بہت اچھے لگتے ہیں اور وہ انہیں مٹھائی کی گولیاں سمجھ کر کھا جاتے ہیں۔
چنانچہ الماری میں دواؤں کے خانے کو ہمیشہ مقفل رکھئے تاکہ بچوں کی وہاں تک رسائی نہ ہوسکے۔رکھی ہوئی دواؤں کا برابر جائزہ لیتی رہئے اور ایسی دوائیں فوراً ضائع کردیجئے جن کے رنگ میں فرق پیدا ہو چکا ہو یا جن کی ایکسپائری کی تاریخ گز ر چکی ہو۔


دوا کی خوراک میں اپنی مرضی سے کوئی تبدیلی مت کیجئے اورنہ ہی اپنا بیماری کی شدت کے لحاظ سے اس میں از خود کوئی کمی بیشی کیجئے ۔یہ کام آپ کا نہیں ڈاکٹر کا ہے ۔
جو دوائیں آپ خود استعمال کررہی ہیں ان کو استعمال کرنے کا مشورہ دوسروں کو مت دیجئے اور نہ ہی دوسروں کی بتائی ہوئی دواؤں کو اس بنا پر خود استعمال کیجئے کہ وہ لوگ بھی ایسی ہی تکالیف کا شکار تھے اور انہیں ان دواؤں سے فائدہ پہنچا ہر شخص ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور جو چیز کسی ایک شخص کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔

وہ ضروری نہیں کہ دوسروں کیلئے بھی فائدہ مند ہو۔ایک اور اہم مسئلہ جس کا آپ کو اکثر وبیشتر سامنا کرنا پڑتا ہے ‘ویہ ہے کہ آپ یہ بھول جاتی ہیں کہ آپ نے دوا کی خوراک کھالی ہے یا نہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے بہتر ہو گاکہ آپ لکھ لیا کریں کہ آپ نے کون سی دوا لے لی ہے ۔یا پھر یوں کیجئے کہ آپ کو جو دوائیں روزانہ لینی ہوں ان کی مطلوبہ خوراک کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بنالیجئے اوریہ پیکٹ شفاف پلاسٹک کی چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کے ہونے چاہئیں ۔اس طرح آپ کو علم رہے گا کہ اپ نے کون سی دوا اور کتنی مقدار میں استعمال کرلی ہے آپ کو ایک ذمہ دار اور باخبر مریض ہونا چاہئے۔یہ جسم آپ کا اپنا ہی تو ہے جس کا آپ کو خیال رکھنا ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-04-19

Your Thoughts and Comments