بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتدل کے بڑھتے ہوئے امراض

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دل کے بڑھتے ہوئے امراض
فاسٹ فوڈ ‘ مرغن غذائیں اور کولڈڈرنکس اس کے اسباب ہیں۔
ڈاکٹر راحیل سجاد:
پاکستان میں دل کے بڑھتے ہوئے امراض مستقل تشویش کا باعث بن رہے ہیں ۔ تیس سے چالیس فیصد اموات دل کی بیماری کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق کو رونری ہارٹ ڈیزیز میں دو لاکھ افراد کی اموات ہر سال وقوع پذیر ہوتی ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو انسان کا دل ایک کرشماتی تخلیق ہے ۔ دل کی نسیں ‘ شریانیں ‘ رگیں ‘ نالیاں ساٹھ ہزار میلوں جتنی ہوئی ہیں ۔ اتنی طویل ہیں کہ اگر سفر پر نکلیں تو 2باردنیا گھوم کر آجائیں ۔ ہمارا دل دن میں تقریباََ ایک لاکھ بار دھڑکتا ہے اور اگر ستر سال کے ہوچکے ہیں تو آپ کا دل تقریباََ دو سو پانچ ملین بار دھڑک چکا ہے ۔ دل کے امراض سے پوری دنیا کی آبادی متاثر ہے ۔ برطانیہ میں تقریباََ ہر سال تین لاکھ لوگ دل کے دورے سے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے ملک پاکستان میں دل کے امراض کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے شوگر ، کولیسٹرول کا بڑھ جانا موٹاپا اور سگریٹ نوشی کا کثرت سے استعمال ہے ۔ اس کے علاوہ اگر دل کا مرض والدین میں کسی کو پچاس سال کی عمر سے پہلے ہوچکا ہے توباقی افراد کے متاثر ہونے کے پچاس فیصد امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ جدید دور میں کھانے پینے کی عادات اور اوقات تبدیل ہوچکے ہیں ۔ سادہ غذا کی جگہ فاسٹ فوڈ غذاؤں اور کولڈڈرنکس نے لے لی ہے اس کے علاوہ الکوحل کا استعمال بھی دل کے امراض کا باعث ہے ۔ کولیسٹرول کا بڑھ جانا بھی دل کے امراض جا پیش خیمہ بنتا ہے ۔ کولیسٹرول ایک چکنا مادہ ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں موجود ہوتا ہے ویسے تو کولیسٹرول جسم میں معمول کے مطابق بنتا ہے مگر مرغن غذا سے اس کی مقدار میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے ۔ کولیسٹرول جگر میں بنتا ہے جس کی وجہ سے جسم معمول کے مطابق کام کرتا ہے ۔کولیسٹرول کی مدد سے جسم کے معمولات میں ہار مونز ‘ بائل ایسڈ اور وٹامن ڈی کا بنانا شامل ہے جو خون میں شامل ہوکر جسم کے مختلف حصوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔کولیسٹرول ڈیری مصنوعات ‘ گوشت ‘ انڈے کی زردی ‘ کلیجی مغز اوت میٹھی ڈبل روٹی میں بہت زیادہ شریانوں میں خون کے لوتھڑے جمنے کی وجہ سے فالج اور دل کے دورے کا امکان بہت زیادہ ہوجاتا ہے ۔ ایسی صورت میں مناسب غذا کے استعمال سے بہت زیادہ فائد ہوسکتا ہے اس کے علاوہ لہسن کی تھوڑی مقدار ‘ ادرک کے استعمال سے کولیسٹرول کوکم کیا جاسکتا ہے ۔ ولئے کا استعمال بھی کولیسٹرول کو کم کرنے کا باعث ہوتا ہے اس کے علاوہ اگر مثبت انداز کو اپنا لیا جائے تو دل کے عارضے سے بچا جاسکتا ہے ۔ دل کے عارضے کی کئی اور بھی وجوہات ہیں ‘ ان میں مسوڑھوں کی بیماری ‘ نمک کا زیادہ استعمال ‘ ناشتہ نہ کرنا ‘ رات کو دیر سے کھانا زیادہ دیر ایک جگہ بیٹھے رہنے سے دل کا عارضہ لاحق ہوسکتا ہے ‘ اگر ہم روزانہ 30سے 35منٹ تیز واک کریں یااس کے علاوہ سائیسکلنگ ‘ کھیل کود سے دل کے عارضے سے بچا جاسکتا ہے ۔
دل کے امراض کے بعد جگر کے امراض بھی ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔ جگر ( Liver) کے امراض میں اہم مرض (Fatty Liver) ہے ‘ اس بیماری میں جگر کے اوپر جمنے والی چربی اس کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے ۔ یہ چربی (Fa+) خلیوں کے درمیان پھنس جاتی ہے اور جگر کو متاثر کرتی ہے ہیپاٹائٹس ‘ شوگر ‘ بلڈپریشر جیسی بیماریوں کے علاوہ موٹاپا ‘ جسم میں وٹامن اور غذا کی کمی ‘ دواؤں کا کثرت سے استعمال اس کے علاوہ پیٹ کے مختلف امراض فیٹی لیور کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ یہ بیماری دنیا میں کم لیکن پاکستان میں بہت زیادہ ہے ۔ ماہر ڈاکٹرز کے مطابق اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے ‘ عام طور پر اس کی پہلی علامت جسمانی کمزوری کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جو مستقل نہیں ہوتی ‘ اس صورت میں زیادہ تر افراد ڈاکٹر سے مشورہ نہیں کرتے اور اسی طرح ہی معمولات زندگی انجام دیتے رہتے ہیں ‘ اس کی دوسری علامت پیٹ کے دائیں جانب درد ہوتا ہے ‘ اس بیماری کے شکار لوگ جب ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں تو علامات جاننے کے بعد ڈاکٹر خون کے مختلف ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ کروانے کا مشورہ دیتے ہیں ، جس کے بعد فیٹی لیور کی تشخیص ہوتی ہیں ۔ جگر کی بعض بیماریاں اسے آہستہ آہستہ ناکارہ بنا دیتی ہیں اور انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے.

(2) ووٹ وصول ہوئے