بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتدُبلا ہونے کے 4 طریقے

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دُبلا ہونے کے 4 طریقے
وزن کم کرنے کے طریقوں پر مسلسل عمل کرتا رہا۔ پھر اس نے 50 پونڈ وزن اور کم کرلیا۔ پہلے اس کا وزن 276 پونڈ تھا جو گھٹ کر 176 پونڈ رہ گیا ہے۔
شکیل صدیقی:
کیری کپلان فربہ تھا۔ وہ گزرے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میری ماں کچھ بھی پکاتیں ، اس میں مکھن ضرور ڈالتی تھی۔ کپلان نے اب اپنا وزن 50 پونڈ کم کرلیا ہے۔ یہ اس نے پانچ برس میں کیا۔ اتنا وزن کم کرنے کے بعد وہ اطمینان سے نہیں بیٹھ گیا۔ وہ وزن کم کرنے کے طریقوں پر مسلسل عمل کرتا رہا۔ پھر اس نے 50 پونڈ وزن اور کم کرلیا۔ پہلے اس کا وزن 276 پونڈ تھا جو گھٹ کر 176 پونڈ رہ گیا ہے۔ وہ اس پر بھی مطمئن نہیں ہے اور اور دبلا ہونے کی کوشش اب بھی کررہا ہے۔ کپلان اس معاملے میں تنہا نہیں ہے۔ تحقیق سے معلوم ہواہے کہ وزن گھٹانے کے لئے خواتین اور مرد ڈائٹنگ کرنے لگتے ہیں۔ انھیں اس وقت پریشانی اٹھانا پڑتی ہے ، جب وہ ڈائیٹنگ چھوڑ دیتے ہیں اور اُن کا وزن پھر سے بڑھ جاتا ہے۔ معالجین کا مشورہ ہے کہ انھیں ورزش کے ساتھ ساتھ ادویہ کا سہارا بھی لینا چاہیے۔ ذیل میں ہم دبلا ہونے کے چار طریقے بتا رہے ہیں۔ ان طریقوں پر عمل کرنے سے آپ کا وزن دوبارہ نہیں بڑھے گا۔
کم چکنائی والی غذائیں کھایئے: سولہ برس قبل ایک خاتون کلاڈیا نے اپنا وزن کم کرنے کی کوششیں شروع کردیں اور اپنا وزن 162پونڈ سے 142 پونڈ کرلیا ۔ پھر حیرت انگیز طور پر اس وزن کو پانچ سال تک برقرار رکھا۔ اس کے بعداس نے مزید 15 پونڈ وزن کم کرلیا۔ اس نے چکنی غذاؤں سے گریز کیا۔ سرخ گوشت کھانا کم کردیا۔ اس نے بتایا کہ میرے شوہر بھی جب کم چکنائی والی غذائیں کھانے لگے تو میرے لیے کوئی دشواری نہیں رہی اور مجھے ان کے لیے علیحدہ سے کھانا تیار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ پھر میں اس فن سے بھی واقف ہوگئی کہ کم چکنائی والی غذائیں کیسے تیار کی جاتی ہیں۔ جن افراد کو یہ مشغلہ زیادہ عرصہ کے لیے جاری رکھنا ہو، انھیں ایسی غذاؤں سے لطف اندوز ہونا پڑتا ہے۔ انھیں کم چکنائی کا گوشت ، مچھلی، مرغی،سبزی ، بغیر چھنا آٹا اور پھلوں پر گزار کرنا پڑتا ہے۔ وہ خود پر یہ پابندی نہیں لگاتے کہ وہ مزے دار غذائیں نہ کھائیں۔ وہ کم چکنائی استعمال کرے غذاؤں کو لذیذ بنا لیتے ہیں۔
حرکت کرتے رہیں: شیلی بھاری بھرکم خاتون تھی۔ اس کا قد پانچ فیٹ ایک انچ تھا اور وزن145 پونڈ ۔ چناں چہ وہ بدوضع لگتی تھی۔ اس نے اپنا وزن کم کرنے کے لیے ساری ترکیبیں آزمالیں ۔ مختلف دوائیں پی لیں، ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیا، وزن کم کرنے والے اداروں میں جا کر لیکچر لیا، لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پھر ایک روز اسے معلوم ہو اکہ اس کا کولیسٹرول بڑھا ہوا ہے۔ وہ ڈائٹنگ کی تربیت دینے کے لئے انسٹی ٹیوٹ کھولنا چاہتی تھی، لیکن اس خیال سے باز رہی کہ اس کا جسم بدوضع ہے، لہٰذا لڑکیاں اس کا مذاق اڑائیں گی۔ اس نے کوشش کی اور تین سال میں اپنا وزن105 پونڈ کم کرلیا ۔ پھر ایک سال تک یہ وزن برقرار رکھا۔ اس ایک سال کے دوران اس نے متوازن غذاکھائی، کھانے کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا اور معتدل ورزش کی۔ اب وہ آدھے گھنٹے تک چلتی ہے، سائیکل چلاتی ہے اور اسکیٹنگ (تختے پر کھڑے ہوکر موجوں پر پھسلنا)بھی کرتی ہے۔ ماہرین اس پر متفق ہیں کہ ورزش سے بڑھا ہوا جسم کم ہوجاتا ہے ۔ ورزش کو ہمیں اپنی عادت بنا لینا چاہیے، بالکل جیسے کہ ہم روزانہ دانتوں میں برش کرتے ہیں۔ وزن کو مستقل طور پر کم رکھنے کے لیے ورزش کرنا ضروری ہے، ورنہ وزن گھٹتا بڑھتا رہے گا۔ کچھ افراد خوب کھاتے ہیں اور ورزش بھی کرتے ہیں۔ پھر ورزش کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور اچھی غذائیں کا کر اپنا وزن بڑھا لیتے ہیں، حالآنکہ ہفتے میں تین دن ورزش لازمی کرنی چاہیے۔
اپنے مسائل حل کیجئے ، سکون سے رہیے: اسٹرن نامی ایک خاتون کہتی ہیں کہ جب میں ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہوں تو نفسیاتی طور پر زیادہ کھانے لگتی ہوں، مگر جب میں مسائل حل کرلیتی ہوں تو خوش کرارکی سے باز رہتی ہوں۔ ایسے افراد جو اپنے مسائل خود حل کرلیتے ہیں، اپنا وزن قائم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں جو جھگڑالو ہوتے ہیں، نفسیاتی طور پر کھانے پر غصہ اتارتے ہیں اورکھاتے چلے جاتے ہیں۔
مزے دار غذاؤں کو ذہن پرسوار نہ کریں: اگر آپ کو اپنا وزن کم کرنا ہے تو مزے دار غذاؤں کو ذہن پر سوار نہ ہونے دیں۔ مضبوطی سے فیصلہ کیجئے کہ آپ اپنا وزن کم کرنا ہے ۔ چناں چہ اب آپ کو اپنی زندگی کا انداز تبدیل کرنا ہوگا۔ غذا کے بارے میں یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ آپ کیا کھارہے ہیں اورکتنا کھارہے ہیں۔ ایسی غذائیں کھایئے ، جو وزن کم کرنے میں مفید ہوں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے