بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتدورانِ سفر کھانے پینے میں احتیاط

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دورانِ سفر کھانے پینے میں احتیاط
سفر میں اگر اسہال شروع ہوجائیں تو ان سے صرف تکلیف وپریشانی ہی نہیں ہوگی، بلکہ سفر کا اصل مقصد بھی فوت ہوجائے گا
پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم:
سفر میں کھانا بہت دیکھ بھال کر کھائیں۔ “ یہ وہ مشورہ ہے، جس سے ہر مسافر واقف ہے ، لیکن صرف چند ہی اس بات کو سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ سفر میں اگر اسہال شروع ہوجائیں تو ان سے صرف تکلیف وپریشانی ہی نہیں ہوگی، بلکہ سفر کا اصل مقصد بھی فوت ہوجائے گا۔ دوران ِ سفر اسہال کے علاوہ پیچش، یرقان، میعادی بخار، پولیو اور آنتوں میں طفیلی کیڑے ہونے کا سخت خطرہ ہوتا ہے۔ گرم ممالک میں بالعموم اور صفائی کے لحاظ سے خراب معیار والے ممالک میں بالخصوص تعدیوں (انفیکشنز)کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ خراب معیار والے ہوٹلوں سے مسافر بہ آسانی اور بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں اور وہاں ہر قسم کے روغنی وچٹ پٹے کھانے خوب ڈٹ کر کھاتے ہیں۔ ان ہوٹلوں میں بھی اس قدر ضرررساں ہوتی ہیں، جس قدر چھوٹے اور سستے ہوٹلوں میں نقصان پہنچاتی ہیں۔ غذا کا احتیاط سے انتخاب کرنا اور صحیح طرح اسے تیار کرنا تعدیے سے تحفظ کے لیے از بس ضروری ہے، مگر مشکل یہ ہے کہ غذا کی خرابی کا اس کی شکل دیکھ کر اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، بلکہ بعض اوقات آلودہ غذا بھی دیکھنے میں بڑی خوش نما اور اشتہا انگیز ہوسکتی ہے۔ دورانِ سفر کھانے میں احتیاط کا مطلب یہ ہے کہ مسافر جب، جہاں اورجو چاہیں ، وہ نہیں کھا سکتے، حال آنکہ اکثر اوقات جب سخت بھوک لگی ہو اور کھانا بازار سے خرید لیا گیا ہوتو پھروہی کھانا پڑتا ہے۔ بہر حال جو غذا تازہ پکی ہوئی ہو اور اچھی طرح پکائی گئی ہو، وہ بالعموم بے ضرروبے خطر ہوتی ہے۔ جب صفائی کا عمومی معیار اچھا نہ ہوتو ان غذاؤں کے کھانے میں خطرہ ہوتا ہے، مثلاََ خام یا ادھ کچی پکی ہوئی صدف ماہی(شیل فش)اور سمندری غذائیں، جنھیں بے ضرر بنانے کے لیے کم ازکم آٹھ منٹ تک خوب اُبالنا ضروری ہے، کچی سلاد اور اچھی طرح سے نہ دھوئے گئے پھل ییا جن کے چھلکوں کو خود اتار نہیں گیا ہو، جس غذا کی تیاری میں باربار ہاتھ لگے ہوں، جو غذائیں پکانے کے بعد ذخیرہ کر لی گئی ہوں، جو غذائیں باہر گرم درجہٴ حرارت میں چھوڑ دی گئی ہوں، ایسی غذاؤں میں بیکٹیریا بڑی جلدی بڑھتے ہیں اور جن غذاؤں پر مکھیاں بیٹھی ہوں۔ جہاں صاف ستھری غذا ملنے کا امکان کم ہو، وہاں ایک وقت کا کھانا ترک کرنا بہتر ہے۔ اگر یہ نہ ہوسکے تو صرف قلیل غذا پر ہی گزارا کرلیاجائے، کیوں کہ اس کو غالباََ معدے کا تیزاب پاک صا ف کرلے گا۔ غذا کا ترک کرنا اس لئے بھی مفید ہے کہ اگر کچھ وزن کم ہوجائے تو بری بات نہیں اور اس وقت کم ہوجائے تو زیادہ بہتر ہے، ورنہ یہ نہ ہوکہ بیمار ہونے کے بعد وزن میں کمی واقع ہو۔ جب صفائی کا معیار خراب ہوتو یہ غذائیں قابلِ قبول ہوسکتی ہیں، مثلاََ تازہ تیار کی ہوئی غذائیں ، جیسے تلا ہوا انڈایا آملیٹ ، تازہ اُبلی ہوئی غذائیں مثلاََ خشکہ (اُبلے ہوئے چاول)،کھچڑی، طہاری، تازہ پھل جن کا خود آسانی سے چھلکا اتارا جاسکے مثلاََ کیلا، لیمونی پھل، خربوزہ اور پستہ، تازہ اُبلی ہوئی ترکاریاں، ڈباّ بند غذائیں۔ جب صفائی کے لحاظ سے خراب معیار والے علاقوں میں سفر کیا جائے تو جب بھی موقع ملے، ہاتھوں کو صابن سے خوب اچھی طرح دھولیا جائے اور صرف انتہائی صاف ہاتھوں سے ہی غذاکو چھوا جائے۔ تشتریاں اور دیگر برتن میل کچیل صاف کرنے والے پاؤڈر سے صاف کرکے گرم پانی میں دھوئے جائیں اور پھر ان کو مکھیوں سے بچایا جائے۔ آلودہ تشریوں کے خطرے کو گرم پانی سے نتھار کر ختم کیا جاسکتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو اپنی ذاتی تشتری یا کاغذ کی رکابیاں استعمال کی جائیں۔ اسی طرح استعمال کرنے سے قبل پیالیوں اور گلاسوں کو گرم پانی سے نتھار لیا جائے۔ مکھیاں زیادہ تر پیالیوں کے کناروں پر بیٹھتی ہیں ، لہٰذا گرم پانی سے پیالیوں کے کناروں کو دھو کر پاک کیا جا سکتا ہے۔ پانی پینے کے لئے معیاری پلاسٹک کی بوتلیں استعمال کی جائیں ، ممکن ہوتو دورانِ سفر اپنی بوتل اور اپنا گلاس ساتھ رکھیں۔ ڈباّ بند غذائیں صرف معتبر ومستند کھانوں کے مراکز ہی تیار کردہ ہونی چاہییں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے