Fiber Hai Taveel Umri Ka Raz

فائبر ہے طویل عمر ی کا راز

Fiber Hai Taveel Umri Ka Raz
ذائقوں کے متوالے طویل بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن اگر درست غذا کا انتخاب کر لیا جائے تو عمر بھی طویل ہو سکتی ہے اور اچھی زندگی بھی گزاری جا سکتی ہے۔غذائی اشیاء میں شامل بھوسی،چھلکا اور ریشہ بھی فائبر ایسے اجزاء ہیں جو صحت کے لیے نا گزیر ہیں اور بے حد مفید بھی ہے لیکن اکثر وبیشتر انہیں نظر انداز ہی کیا جاتا ہے۔طب سے متعلقہ شخصیات جن میں جون کمنگلز،نمایاں تحقیق کار شامل ہیں۔

انہوں نے فائبر کو گیم چینجز قرار دیا۔اب تک ہم یہی جانتے تھے کہ فائبر والی غذاؤں سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے لیکن صحت پر اس کے فوائد اس سے بھی کہیں بڑھ کرہیں۔
فائبر کی یومیہ درکار مقدار کیا ہونی چاہئے
نیوزی لینڈ کی اوٹاگویونیورسٹی اور ڈنڈی یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو روزانہ کم از کم25 گرام فائبر کھانا چاہئے تاہم ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ مقدار صحت بہتر بنانے کے لئے کافی تصور نہیں کی جانی چاہئے بلکہ اس کی مقدار بتدریج بڑھا کر 30اور35گرام تک بڑھالینی درست ہو گی۔

(جاری ہے)


لوگوں کی اکثریت روزانہ 20گرام سے کم فائبر استعمال کرتی ہے۔اگر آپ کیلے کھا کر سمجھ رہے ہیں کہ فائبر لے لیا تو آپ غلطی پر ہیں کیلے کا وزن 120گرام ہو سکتا ہے لیکن یہ مکمل طور پر فائبر پر مشتمل پھل نہیں۔قدرتی مٹھاس اور پانی کے بعد کیلے میں صرف3گرام فائبر باقی رہتاہے۔
فائبر والی غذائیں
سبزیاں اور ناشتے میں کھائے جانے والے دلئے جومکئی،جو،گندم اور جوار وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں کوشش کریں کہ یہ تازہ حالت میں لے کر دلئے تیار کئے جائیں۔

جو کے آدھے پیالے پر مشتمل دلئے میں9گرام فائبر موجود ہوتاہے۔
گندم کے آٹے کی روٹی جو چوکر سمیت تیار کی جائیں۔ویٹابکس بسکٹ،بران بریڈ جسے ہم براؤن بریڈ بھی کہتے ہیں اس کے ایک سلائس میں 2گرام فائبر موجود ہوتا ہے۔پکی ہوئی دال کا ایک پیالہ جس میں ہمیں 4گرام فائبر مل سکتا ہے ۔چھلکے سمیت پکا ہوا آلو 2گرام فائبر پر مشتمل ہے جبکہ ہماری غلط اور مضر صحت عادات کے مطابق ہم آلو چھیل اور کاٹ کر پکاتے ہیں اس طرح فائبر ضائع ہوتاہے۔


گاجر کی ایک قسم چارڈ ہوتی ہے یہ بھاپ میں تیار کی جائے تو آدھے پیالے میں ایک گرام فائبر مل سکتا ہے جبکہ گاجر میں 3گرام تک موجود ہوتاہے۔چھلکے سمیت سیب میں 4 گرام فائبر پایا جاتاہے۔دن بھر میں پھلوں اور سبزیوں کے کم از کم پانچ پورشنز استعمال کئے جانے چاہئیں مثلاً دن کا آغاز جو ،جوار کا دلیہ لے کر کریں اور اسے مصنوعی شکر کے بجائے آدھی چائے کی چمچ کے برابر شہد ملا لیا کریں۔

میٹھا کچھ اور کھانے کو جی چاہے تو اس پر چاروں مغز،بادام یا اخروٹ کو پیس کر سفوف بنالیں اور اسے کھانوں پر
چھڑ ک کر کھائیں۔دوپہر کے کھانے میں کابلی چنا،پھلیاں یا دال کھائیں۔سفید چاولوں کے بجائے براؤن رائس کھانے کی عادت استوار کریں رفتہ رفتہ آپ کی حس ذائقہ اس مختلف ذائقے سے متاثر ہوتی جائے گی۔
اس طرح رات کے کھانے میں سبزیوں کے ساتھ گوشت کی ڈشز لطف بھی دوبالا کریں گی اور فائبر بھی دستیاب رہے گا۔


فائبر کے چند اہم فوائد
لانسٹ میڈیکل جرنل کی مطابق اگر ہم ایک ہزار افراد کو کم فائبر والی غذائیں دیں تو بہت جلد ان میں بیماریاں ابھرنا شروع ہوں گی لیکن اگر انہیں قائل کرکے 15گرام سے 29گرام تک فائبر دی جانے لگے تو بہت جلد مہلک امراض سے بچالیں گے بلکہ انہیں بہت جلد موت سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
فائبر کے کام کیا ہیں؟
اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ فائبر کو جسم ہضم نہیں کرپاتا اور یہ فائدہ پہنچائے بغیر جسم سے خارج ہوتا ہے تو آپ غلطی پر ہیں یہ ہمیں شکم پری کا احساس دلاتا ہے اور ہمیں ہر وقت کھاتے رہنے کی عادت سے بچنے کی تحریک دیتا ہے ۔

علاوہ ازیں چھوٹی آنت میں چکنائی کے انجذاب میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔بڑی آنت میں جاتے ہی وہاں موجود اربوں کی تعداد میں مفید جرثوموں کی خوراک بنتا ہے ۔فائبر پر ان بیکٹیریازکے تخمیری عمل سے جو کیمیائی مادے تیار ہوتے ہیں ان میں مختصر المیعاد فیٹی ایسڈ ز بھی شامل ہیں جو بڑی آنت میں جذب ہوتے ہیں اور پورے جسم پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-24

Your Thoughts and Comments