Gaajar Ki Masehaie

گاجر کی مسیحائی

Gaajar Ki Masehaie

ایک عورت کو اپنی زندگی کی کوئی آس باقی نہیں رہی تھی۔ڈاکٹر بھی مایوس تھے۔وہ اسپتال میں داخل تھی۔
اسپتال والوں نے اسے گھر بھیج دیا تھا اس یقین کے ساتھ کہ یہ چند دن کی مہمان ہے۔
اسپتال کی رپورٹ اس کے بالکل نا موافق تھی۔سرجن نے مرض کے قطعی تعین کے لیے اس کی آنتوں کا آپریشن کیا تو پتا چلا کہ سرطان ہے ،جو بہت بڑھ کر بالکل لا علان ہو گیا ہے ۔

شربت اور دُودھ پلانے سے اس کی حالت بدتر ہوتی جارہی تھی۔عزیزوں کا خیال تھا کہ ایک دو ہفتے میں وہ چل بسے گی۔
ایک دن کسی کے ذہن میں خیال آیا کہ مریضہ کو گاجر کا رس کیوں نہ پلایا جائے۔چناںچہ اس میں کوئی مضائقہ نہ سمجھ کر تجربے کے طور پر دے دیا گیا۔روزانہ قے اور متلی کی شکایت تو دوسرے دن ہی جاتی رہی اور پھر کبھی نہیں ہوئی۔

(جاری ہے)

چھٹے دن بول وبزار کی حالت بھی نارمل ہو گئی ۔

اس کو ہر ہفتے آدھا گلاس گاجر کارس پلایا جانے لگا۔تیزابیت والی غذا سے حتی الامکان پر ہیزکرایا گیا۔اُس عورت کی عمومی صحت مسلسل بہتر ہوتی جارہی تھی،جو بہت نمایاں تھی۔پہلے ہی روزافاقہ شروع ہو گیاتھا۔
چند ہفتوں کے اندر درد اور تکلیف غائب ہو گئی۔۔اُ س کا رنگ صاف ہو گیا اور وزن بھی بڑھ گیا۔صحت یابی اتنی تیزی سے ہوئی کہ گاجر کارس شروع کرنے کے چھے ہفتے اور ایک دن کے بعد مریضہ اپنے عزیزوں کے ساتھ تھوڑی دُور چہل قدمی کے لیے گھر سے نکل گئی۔


جون کے مہینے میں اس کا امتحان کیا گیا تو یہ رپورٹ آئی کہ رسولی کا کوئی سُراغ نہیں لگ سکا۔دل کی حرکت بالکل متوازن ہے ۔اس موقع پر مریضہ کا وزن بھی کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس عرصے میں اُس کے وزن میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔وہ عورت تیزی سے صحت یاب ہورہی تھی۔
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسی حالت میں گاجر کے رس سے ہر شخص کو ایسا ہی ڈرامائی فائدہ ہو گا ،لیکن یہ بات ضرور عیاں ہوتی ہے کہ ہماری زندگیوں میں کبھی ایسے خلاف توقع واقعات پیش آتے ہیں ،جن کی توجیہہ سوائے اس کے کیا ہو سکتی ہے کہ کوئی ہستی ایسی ضرور ہے ،جس کا موت وحیات پر کلی اختیار ہے اور وہ اسباب کے تابع بھی نہیں:
میں تہ نشیں تھی کہ باقی تھی زندگی مجھ میں
جو مر گئے تھے،انھیں موج نے اُچھالا تھا

تاریخ اشاعت: 2019-03-12

Your Thoughts and Comments